غیرملکی دباؤ مسترد،پاکستان سمیت امداد دینے والے ممالک کے مشکور ہیں، افغان وزیر خارجہ


کابل(صباح نیوز) افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے افغانستان پر غیرملکی دبا ئوکو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ دنیا ہمارے سامنے شرائط نہ رکھے ہم اپنی مرضی کی حکومت بنائیں گے، پاکستان، قطر، ازبکستان ،ترکی اور چین کا تعاون کرنے اور امداد دی ان ممالک کے مشکور ہیں، جن عالمی اداروں نے افغانستان میں اپنے منصوبے نامکمل چھوڑے وہ منصوبوں کومکمل کریں، بھرپورتعاون کریں گے، سرمایہ کار افغانستان آئیں مکمل سیکیورٹی فراہم کریں گے۔

کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغان عبوری خارجہ نے کہا کہ ہمیں قطر، پاکستان اور ازبکستان سے امدادی ملی ہے، ہم ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ چند ممالک نے امداد کو اپنے مطالبات سے مشروط کردیا ہے۔ ہم تمام ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن کسی ملک کے دبائو میں نہیں آئیں گے۔

مولوی امیر خان متقی نے کہاکہ وزارت خارجہ کے سابق اہلکار اپنا کام جاری رکھیں، ہمارے سفارتخانوں میں موجود اہلکار اب بھی افغانستان کے نمائندے ہیں۔ سابق حکومت کے کیے گئے معاہدے قومی مفاد میں ہوئے تو وہ جاری رہیں گے، یہ معاہدے ہمارے نظریات اور مذہب سے متصادم نہیں ہونے چاہیں۔

مولوی امیر خان متقی نے کہاکہ گزشتہ دنوں جو حکومت بنی وہ مکمل طور پر مخلوط حکومت ہے، ہماری کابینہ میں تمام گروہوں کے لوگ شامل ہیں، آنے والے دنوں میں اس میں مزید مثبت تبدیلی آئے گی، ہم تمام افغان عوام کی نمائندگی کرتے ہیں،حتمی رضامندی ہونے تک کابینہ میں تبدیلی کرتے رہے ہیں، جہاں بھی نیا نظام آتا ہے وہاں اپنے اعتماد کے لوگ آتے ہیں، افغانستان میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، خواتین کے حقوق سے متعلق کچھ ملکوں کے اعتراضات ناقابل قبول ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک کسی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی بات نہیں کی، اقوام متحدہ اور خطے کے ممالک کے نمائندگان کے ساتھ ہماری ملاقات ہوئی، انہوں نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا جن کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہے۔ جو امارت اسلامی کو تسلیم کرنا چاہے گا ہم خیر مقدم کریں گے، ملک میں کہیں پر بھی لڑائی نہیں ہو رہی جو ایک مثبت پہلو ہے۔

افغان عبوری وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی امداد کا خیرمقدم کرتے ہیں، اسے مستحق افراد تک پہنچانا چاہتے ہیں، کوشش ہوگی کہ بیرون ملک مقیم مہاجرین اپنے ملک میں واپس آجائیں، ملک کے اندربے گھرافراد کوبھی اپنے علاقوں اور گھروں میں آباد کرنے کی ہرممکن کوشش کرینگے، دنیا سے اپیل ہے جو ہم سے تعاون کررہے ہیں اسے سیاست سے نہ جوڑا جائے، دنیا کے ساتھ مثبت تعلقات چاہتے ہیں۔

مولوی امیر خان متقی نے کہا کہ جو لوگ افغانستان سے جانا چاہتے ہیں وہ جانے کے لیے آزاد ہیں، سرمایہ کار افغانستان آئیں مکمل سیکیورٹی فراہم کریں گے۔ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں، تاجراورسرمایہ کاروں سے درخواست ہے کہ وہ اپنے کاروبارشروع کریں، تاجرخود بھی منافع کمائیں اورعوام کوبھی فائدہ دیں۔ جن عالمی اداروں نے افغانستان میں اپنے منصوبے نامکمل چھوڑے وہ منصوبوں کومکمل کریں، بھرپورتعاون کریں گے۔

افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا سے اپیل ہے کہ افغانستان کے لیے مزید انتشار والی پالیسی نہ اپنائیں آئیں مثبت رائے اختیار کریں، افغانستان کو ترقی کرنے دیں۔امیر متقی نے کہا کہ افغانستان ایک بہت بڑی مشکل سے گزرا ہے، چاہتے ہیں دنیا اسلامی ممالک ہماری ترقی کے شعبوں کی مدد کرے، عالمی برادری سے افغان عوام کی مدد کا مطالبہ کرتے ہیں۔