قائدِ حریت سیّد علی گیلانی


یکم ستمبر 2021 کو عالم اسلام کی معروف ترین شخصیت اور میدانِ جہاد کے بے مثال سالار سید علی گیلانی 92سال کی عمر میں دنیا کے مصائب و مشکلات سے نجات پا کر اللہ کی وسیع جنتوں میں چلے گئے۔ سید علی گیلانی تاریخ میں حریت کا استعارہ بن چکے ہیں۔ کبھی کسی آزمائش میں حوصلہ ہارا نہ ہتھیار ڈالے۔ وہ صحیح معنوں میں اللہ کے شیر تھے۔ آج کشمیر میں بچہ بچہ آزاد ی کے لیے جان قربان کرنے کا جذبہ اپنے دل میں لیے غاصب اور ناپاک ہندو فوجوں کے خلاف سینہ سپر ہو گیا ہے۔ سید علی گیلانی جب بھی زبان کھولتے، تو ایک ایک لفظ تول کر یہ پیغام دیتے کہ حق کا غلبہ اللہ نے مقدر کر رکھا ہے اور باطل کو مٹ جانا ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے قربانی دینا لازم ہے۔ منزل کب آئے گی اللہ جانتا ہے، مگر بندہ مومن کو یقین رکھنا چاہیے کہ وہ منزل ضرور آئے گی۔

سید علی گیلانی کی وفات سے چند روز قبل سرزمین افغانستان پر امریکا کی سربراہی میں 54ملکوں کی افواج جس ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوئیں وہ دنیا بھر کے حریت پسندوں کے لیے ایک عظیم الشان مثال ہے۔ اس موقع پر سید علی گیلانی نے جہاں افغان مجاہدین کو مبارک باد دی اور ان کی اگلی منازل میں کامیابی کے لیے دعا دی وہیں انھوں نے اہلِ کشمیر کو بھی یہ پیغام دیا کہ ظلم مٹ کر رہے گا اور شہدا کی قربانیاں رنگ لائیں گی۔ 92سال کی عمر میں بے شمار عوارض اور بیماریوں کے ساتھ اس مردِ مجاہد کا حوصلہ اتنا بلند تھا کہ اسلاف صالحین کی یادیں تازہ ہو جاتی تھیں۔ سید علی گیلانی سے بالمشافہ کبھی ملاقات کا شرف حاصل نہ ہوا، مگر ان سے فون پر کئی بار ہم کلام ہونے کا موقع ملا۔ کشمیری لہجے میں ان کی میٹھی باتیں آج بھی دل میں محفوظ ہیں۔ پاکستان میں ہمارے کئی پروگراموں میں سید علی گیلانی نے ٹیلی فون پر خطاب کیا یا اپنا پیغام ریکارڈ کر کے ارسال کیاجس نے سامعین کو ہمیشہ حوصلہ دیا کہ مقبوضہ
کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہو کر رہے گا۔

عظیم لوگوں کی زندگی ہمیشہ جدوجہد سے عبارت ہوتی ہے۔ سید علی گیلانی وادی کشمیر کے ایک چھوٹے سے گائوں زوری منز تحصیل بانڈی پورہ میں 29ستمبر 1929 کو ایک سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے سکول جانے سے قبل آپ کا خاندان ضلع سوپور میں منتقل ہو گیا۔ یہاں آپ کو ایک پرائمری سکول میں داخل کرایا گیا،جہاں طلبہ کے درمیان علی گیلانی ایک قائد کی حیثیت سے معروف ہو گئے۔ ان کے اساتذہ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ گورنمنٹ ہائی سکول سوپور سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپ اپنے والدین کی اجازت سے شہرِاقبال و مودودی( لاہور) آ گئے اور یہاں اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی سے ادیب عالم کی ڈگری حاصل کی۔ ہم نے اقبال اور مودودی کا تذکرہ اس لیے کیا ہے کہ سید علی گیلانی کو اس دونوں شخصیات سے بے پناہ محبت و عقیدت تھی۔ علامہ اقبال سے ان کی براہِ راست ملاقات تو نہ ہو سکی؛ البتہ سید مودودی سے ملے اور بہت متاثر ہوئے۔

لاہور سے واپس سری نگر گئے تو اپنے علمی ذوق کے مطابق کشمیر یونیورسٹی سے ادیب فاضل اور منشی فاضل کی سندیں حاصل کیں۔ یوں آپ کو اردو، عربی اور فارسی زبانوں میں پوری مہارت حاصل ہو گئی۔ 1949 میں آپ سرکاری سکول میں بطورِ استاد ملازم ہو گئے۔ 12سال تک مختلف سکولوں میں بچوں کو تعلیم و تربیت اور جہاد کی تعلیم دیتے رہے۔ اس دوران سید مودودی کا بیشتر لٹریچر پڑھ لیا۔ آپ نے ملازمت کے دوران ہی 1953 میں جماعت اسلامی کی رکنیت اختیار کی۔ کچھ عرصے کے بعد ملازمت سے استعفی دے دیا اورآزادانہ کام کرنے کا ارادہ کیا۔ امیر جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر جناب سعد الدین نے گیلانی صاحب کو جماعت میں ہمہ وقتی کام کرنے کی دعوت دی۔ اس کام میں ہر طرح کی مشقتوں کا سامنا اور معاشی مشکلات سے دوچار ہونا لازمی تھا، مگر اللہ کے بندے نے اپنے امیر کے حکم پر لبیک کہا اور جماعت کے ہمہ وقتی کارکن بن گئے۔ آپ مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ آپ مختلف اضلاع کی امارت کے بعد قیم جماعت مقبوضہ کشمیر اور ایک دو مرتبہ قائم مقام امیر جماعت کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اس دوران جماعت کے تحت چھپنے والے رسالے ”اذان کے ایڈیٹر بھی رہے۔

جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت سے ریاستی انتخابات میں حصہ لیتی تھی۔ سید علی گیلانی جماعت کے امیدوار کے طور پر پہلی بار 1972 میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے، پھر 1977 اور 1987 میں بھی کامیابی حاصل کی۔ آپ سوپور کے حلقے سے الیکشن لڑتے تھے اور بھاری اکثریت سے جیتتے تھے۔ آپ نے 30اگست 1989 کو بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کے طور پر اسمبلی سے استعفی دے دیا۔ مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں آپ کی کارکردگی ہمیشہ تمام ارکان سے بہتر رہی۔ آپ اسلام، آزادی کشمیر اور الحاقِ پاکستان کے حق میں اسمبلی اور اس کے باہر ہر جگہ آواز اٹھاتے تھے۔ آپ کے دلائل میں وزن اور لہجے میں جرات و یقین ہوتا تھا۔
کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ ہوا، تو تحریک حریت کشمیر کے نام سے ایک جہادی تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ جماعت کے ذمہ داران کی طرف سے باقاعدہ ایک تحریری مسودے کے بعد آپ نے 2004 میں اس میدان میں قدم رکھا، پھر آخری دم تک پوری جرات و ہمت کے ساتھ یہ خدمات سرانجام دیتے رہے۔ مختلف ناموں سے کام کرنے والی آزادی کی تحریکوں نے آپس میں اتحاد کافیصلہ کیا، تو ”حریت کانفرنس کے نام سے ایک اتحاد وجود میں آیا۔ سب جماعتوں نے سید علی گیلانی کو حریت کانفرنس کاچیئرمین منتخب کیا۔ بعد کے زمانے میں جب کچھ جماعتوں نے کانفرنس کے فیصلوں کی خلاف ورزی، تو انہیں الگ کر دیا گیا۔ باقی ماندہ جماعتوں نے علی گیلانی کی قیادت میں اپنی جدوجہد جاری رکھی۔

سید علی گیلانی بیسیوں کتابوں کے مصنف ہیں۔ آپ کی سب سے معروف کتاب جو پاکستان میں بھی بہت مقبول ہوئی ”رودادِقفس ہے۔ اسی طرح آپ نے سینکڑوں کتابچے مختلف موضوعات پر تحریر کیے جن کا مقصد آزادی کے جذبے کو زندہ رکھنا اور کشمیری عوام کی اسلامی تربیت تھا۔ رانسی جیل سے جب آپ رہا ہوئے، تو ”مقتل سے واپسی کے نام سے ایک معرکہ آرا کتاب لکھی۔ علامہ اقبال کے بارے میں آپ کی کتاب ”روحِ دین کا شناسا دو جلدوں میں چھپی۔ یہ بھی اپنے موضوع پر ایک بے مثال کتاب ہے۔بھارتی مظالم کے خلاف عملی جدوجہد کے ساتھ ساتھ اتنا بڑا علمی کام مرحوم کا عظیم کارنامہ ہے۔ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ اس عظیم فکری و جہادی رہنما کو بے شمار بیماریاں لاحق تھیں ۔ پیس میکر کئی سال پہلے لگا تھا ۔ گال بلیڈر بھی نکال دیا گیا تھا۔ ایک گردہ آپریشن کے بعد نکالنا پڑا جو گردہ باقی تھا اس کا بھی تیسرا حصہ کام نہیں کر رہا تھا، اسے بھی آپریشن کے ذریعے نکالا گیا۔

سید علی گیلانی کی زندگی کے پندرہ سولہ سال بھارتی جیلوں میں گزرے، جبکہ اپنے گھر میں نظر بندی بھی کئی سالوں پر محیط ہے۔ مختلف اوقات میں آپ کو نظربند کیا جاتا رہا۔ آ پ کی وفات بھی اسی نظربندی کے دوران ہوئی۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد پوری وادی میں کرفیو لگا دیا گیا۔ آپ کا جسدِ خاکی بھارتی فورسز نے قبضے میں لے لیا اور آپ کی وصیت کہ مجھے سری نگر کے مزارِ شہدا میں دفن کیا جائے کے برعکس حیدرپورہ کے قبرستان میں رات کی تاریکی میں بندوقوں کے سائے میں آپ کو دفن کر دیا گیا۔ جنازے میں بھی چند لوگ ہی شریک ہو سکے۔ آپ کے اہل و عیال پر تشدد کیا گیا اور ان پر بغاوت کے مقدمے بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔ پوری دنیا میں آپ کے غائبانہ جنازے ہوئے۔ لاکھوں افراد نے قائدِ حریت کو اپنی دعائوں اور آہوں کے ساتھ ان مواقع پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ بزدل بنیا زندہ گیلانی سے خوفزدہ تھا اور پھر ان کے بے جان جسدِ خاکی سے بھی اس پر لرزہ طاری تھا۔ ظلم مٹ کر رہے گا اور کشمیری ان شا اللہ آزادی کی نعمت سے مالا مال ہوں گے۔

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

سید علی گیلانی کو اللہ نے دو بیٹے نعیم گیلانی اور نسیم گیلانی عطا فرمائے۔ نعیم اور اس کی اہلیہ دونوں میڈیکل ڈاکٹر ہیں جو راولپنڈی میں مقیم تھے اور اپنا کلینک چلا رہے تھے، مگر 2010 میں واپس کشمیر چلے گئے اور اپنے پیشے میں کام کرنے کے ساتھ اپنے والد کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ گیلانی صاحب کے دوسرے بیٹے نسیم زرعی انجینئر ہیں جو زرعی یونیورسٹی سری نگر میں ملازمت کرتے ہیں۔ گیلانی صاحب کی ایک بیٹی فرحت گیلانی جدہ میں ٹیچر ہیں جبکہ ان کے میاں بھی وہاں پر بطورِ انجینئر ملازمت کر رہے ہیں۔ مشہور کشمیری رہنما ڈاکٹر غلام نبی فائی بھی گیلانی صاحب کے کزن ہیں۔ وہ لندن میں مقیم ہیں اور تحریک آزادی کشمیر کے روحِ رواں کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ گیلانی صاحب کی باقی بیٹیاں سری نگر میں ہیں۔ آپ کے کئی پوتے اور نواسے اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور اچھے مناصب پر فائز ہیں۔ وہ سب گیلانی صاحب کی وجہ سے وقتا فوقتا زیرِ ابتلا آتے رہتے ہیں۔ اللہ سب کی حفاظت فرمائے۔

سید علی گیلانی اپنا فرض اداکر کے چلے گئے، مگر اپنے پیچھے بے شمار کشمیری نوجوانوں کو عقابی روح سے ہمکنار کر گئے۔ یہ عقاب کرگسوں کو اپنی پاک سرزمین سے ان شا اللہ مار بھگائیں گے۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں!

بشکریہ روزنامہ دنیا