دھاندلی: ماضی کے تجربات، مستقبل کے خدشات……… (2 )


انیس سو ستتر کے انتخابات میں دھاندلی کا منصوبہ خالصتا ذوالفقار علی بھٹو کی اپنی ذہنی اختراع تھی جو انہوں نے اس بیوروکریسی کے ساتھ مل کر وضع کی تھی، جس کا سر کچلنے اور اسے مکمل طور پر اپنا غلام بنانے کے لئے وہ 1973 میں سول سروس ایکٹ لے کر آئے تھے۔ بھٹو نے مسندِ اقتدار پر بیٹھتے ہی جن چودہ سو افراد کو سول سروس سے برطرف کیا، ان پر بددیانتی یا نااہلی کے کسی بھی قسم کے الزامات نہیں تھے بلکہ ان کی اکثریت ایسی تھی جو اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے نوکری کرتی اور سیاسی سفارشیں نہیں مانا کرتی تھی۔ مثلا الطاف گوہر جسے نہ صرف نوکری سے نکالا گیا، بلکہ عبرت کا نشان بنانے کے لئے قید کیا گیا، وہ کبھی بھٹو کے منہ بولے ڈیڈی ایوب خان کے سب سے چہیتے آفیسر تھے۔ لیکن بقول الطاف گوہر ایک واقعہ بھٹو کے دماغ میں چپک کر رہ گیا۔ جب وہ ڈپٹی کمشنر کراچی تھے تو بھٹو ایک عام وکیل کی حیثیت سے ان کے پاس ایک اسلحہ لائسنس کی درخواست لے کر آئے۔ الطاف گوہر نے سوال کیا کہ آپ کے پاس پہلے کتنے لائسنس ہیں، جس پر بھٹو نے جواب دیا چھوٹے بڑے ملا کر چھبیس لائسنس ہیں۔ جس پر الطاف گوہر نے کہا کہ میں بحیثیت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سمجھتا ہوں کہ آپ کو ستائیسویں لائسنس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بھٹو نے درخواست کے کاغذ کو لپیٹ لیا، لیکن برسراقتدار آنے کے بعد الطاف گوہر کے کیریئر کو لپیٹ کر رکھ دیا۔ 1973 میں سول سروس ریفارمز کا بنیادی مقصد انگریز کی بنائی انڈین سول سروس  کی جانشین سول سروس آف پاکستان  کا زور توڑنا اور اسے سیاست دانوں کی لونڈی بنانا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے دو راستے اختیار کئے گئے۔ پہلا یہ کہ ایک بغلی داخلے کا نظام متعارف کروایا گیا جس کے ذریعے کسی بھی شخص کو عمر کے کسی بھی حصے میں سول سروس کے امتحان کی بجائے معمولی سے انٹرویو کے ذریعے بیس یا بائیس گریڈ میں بھی لگایا جا سکتا ہے۔ یوں لاتعداد سفارشی اس راستے سے سول سروس میں لائے گئے اور انہیں مقابلے کا امتحان پاس کر کے آنے والوں کے اوپر لا کر بٹھا دیا گیا۔ بھٹو کو فوج کو خوش کرنے اور اپنے ساتھ ملانے کا بہت خمار چڑھا ہوا تھا۔ اس کے لئے بغلی داخلے کے ذریعے سینکڑوں میجر، کرنل اور بریگیڈیئر رینک کے افسران کو سول سروس کی اعلی پوزیشنوں پر لا بٹھایا گیا۔ پولیس سروس میں ایک ساتھ پچھہتر میجر لا کر ان تمام ذہین افسران کے سروں پر مسلط کر دیئے گئے جو مقابلے کا امتحان پاس کر کے آئے تھے۔ سی ایس پی کی ناموس تباہ کرنے کے لئے سیکرٹریٹ گروپ اور ڈی ایم جی (ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ) بنا کر ان کو برابر کا درجہ دے دیا گیا۔ بااصول اور ایماندار بیوروکریٹ جو سیاسی دباؤ سے بچنا چاہتے تھے اور جو ڈپٹی کمشنر یا کمشنر نہیں لگنا چاہتے تھے، انہیں راستہ مل گیا اور انہوں نے سیکرٹریٹ گروپ اختیار کیا اور چین سے نوکری کرنے لگے۔ پورے ملک کی انتظامیہ میں اب صرف وہ افسران رہ گئے جو قانونا بھٹو کے رحم و کرم پر تھے اور مجبورا نوکری کر رہے تھے۔ یہ تھے وہ لوگ جن سے مشورہ کر کے بھٹو نے 1977 میں منظم دھاندلی کا منصوبہ بنایا۔ بھٹو بھی اب اپنی انقلابی نعرہ بازی سے بہت دور جا چکے تھے اور روایتی ڈرائینگ روم سیاست کے اسیر بن گئے تھے۔ جے اے رحیم سے معراج محمد خان تک سب انقلابی، ذلت و رسوائی سے پارٹی سے نکال باہر کئے گئے تھے۔ بھٹو نے نواب آف کالا باغ کے دستِ راست اور موروثی و علاقائی سیاست کے شناور سردار حیات محمد خان ٹمن کو پارٹی ٹکٹ دینے والی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا اور ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کو امیدواروں کے ناموں کی سفارش کا کام سونپا گیا۔ اب سارا کھیل اس بیوروکریسی کے ہاتھ میں آ چکا تھا جو گذشتہ چار سال سے ذلت و رسوائی کی چکی میں پِس کر اجتماعی طور پر بھٹو سے نفرت کرتی تھی۔ اس بیوروکریسی نے پہلا مشورہ قائدِ عوام کو یہ دیا کہ وہ بلا مقابلہ منتخب ہو کر اپوزیشن پر اپنا رعب قائم کریں۔ اس کا بندوبست بیوروکریسی نے جان محمد عباسی جیسے امیدواروں کو اغوا کر کے کیا۔ بھٹو کے ساتھ ساتھ بلامقابلہ جیتنے کی ہوس میں چاروں وزرائے اعلی اور دیگر اہم پارٹی لیڈران بھی شریک ہو گئے۔ انہیں بھی ایسے ہی مخالف امیدواروں کے جبری اغوا سے بلامقابلہ منتخب قرار دلوایا گیا۔ ایسی بد اعتمادی کی فضا میں الیکشن شروع ہوئے تو ایک عوامی نفرت کا الاؤ پہلے ہی پک چکا تھا۔ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری انتخابی مہم کے انچارج تھے۔ بلوچستان کے چیف سیکرٹری اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے والدِ گرامی نصر من اللہ تھے۔ وہ بھٹو کے بہت منظورِ نظر تھے، انہوں نے لاتعداد تحصیلدار محض انٹرویو سے بھرتی کئے تھے۔ یہ سیاسی وفاداروں کی ایسی نسل تھی جو نوے کی دہائی تک اعلی عہدوں پر قائم رہی۔ بلوچستان میں یہ سوال عام کیا جاتا تھا کہ تم پبلک سروس کمیشن والا آفیسر ہے یا نصر من اللہ والا۔ افسران کو مکمل اندازہ تھا کہ محمود خان اچکزئی کے مقابلے میں یحیی بختیار شاید چند سو ووٹ بھی نہ لے سکے، لیکن پشین ریسٹ ہاؤس میں پیر محمد کے تکے کھاتے ہوئے جیسے رزلٹ مرتب ہوا، وہ ایک دلچسپ روداد ہے۔ ایسے لاتعداد واقعات پورے ملک میں ہوئے تھے جن کو عوام نے براہِ راست دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب نتائج کے بعد صوبائی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان ہوا تو یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے کامیاب بائیکاٹ ثابت ہوا اور اب تک کی چلنے والی تحریکوں میں ایسی کامیاب تحریک نے جنم لیا کہ جس میں اگرچہ ساری لیڈر شپ جیل میں تھی مگر عوام نے صرف نوے دن کے اندر اندر حالات یہاں تک پہنچا دیئے کہ بھٹو کی منتخب حکومت کو گھر بھیجنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہا ۔ اب تک دھاندلی صرف سول انتظامیہ کا کھیل تھی اور یہ لوگ 1954، 1962 اور 1970 کے الیکشنوں کی وجہ سے اس میں طاق ہو چکے تھے۔ حکم ملتا تو دھاندلی کرتے ورنہ 1970 کی طرح منصفانہ الیکشن کرواتے۔ ضیا الحق کے آنے کے بعد چونکہ پاکستان کے آئین کو برقرار رکھا گیا تھا، اس لئے اس کے سیاسی نظام کو مرضی کے مطابق چلانے کے لئے مختلف طریقے اپنائے گئے۔ دھاندلی کی زحمت سے بچنے کے لئے 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے اور یوں اپنا ہی وزیر اعظم جونیجو اور اپنا ہی اپوزیشن لیڈر سیف اللہ۔ 1985 سے اب الیکشن کے دوران مداخلت میں فوجی جنتا بھی شریک ہونے لگی کیوں کہ سارا سول اقتدار بھی انہی کے پاس تھا۔ ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے اہلکار بھی بڑے بڑے پھاٹکوں کے پیچھے بیٹھے رہنمائی کرتے، مگر اصل کام سول انتظامیہ ہی کرتی تھی۔ سیاسی وفاداری تبدیل کروانی ہو، کسی کے خلاف کیس بنوانا ہو، کسی کو کیس سے آزاد کروا کر احسان مند کرنا ہو، سب یہی کرتے۔ جونیجو حکومت آئی، چلی گئی اور اپنے ساتھ ضیا الحق کو بھی لے گئی۔ بے نظیر پاکستان آ چکی تھی اور وہ اس وقت کے سیاسی منظر نامے کی طاقتور ترین خاتون تھی۔ الیکشن آئے تو معلوم ہوا الیکشن والے دن دھاندلی مشکل ہو چکی ہے۔ شناختی کارڈ اور ووٹر لسٹ وغیرہ جیسے گورکھ دھندے موجود تھے۔ہر حلقے میں مرضی سے لاتعداد نام ووٹرز لسٹ میں ڈالے گئے اور پھر امیدواروں کی سرپرستی میں جعلی شناختی کارڈ بنانے کی مشینیں لگوائی گئیں۔ ان جعلی شناختی کارڈوں میں اکثریت عورتوں کی تھی، کیونکہ اس وقت تک کارڈ پر عورتوں کی تصویر نہیں ہوا کرتی تھی۔ نام کی جگہ بھی دختر نمبر 1، 2، 3 لکھا ہوتا تھا۔ سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی تمام کوششوں کے باوجود یہ منظم دھاندلی نہ جیت سکی اور بے نظیر 93 سیٹیں لے کر اسمبلی کی واحد بڑی پارٹی بن کر سامنے آ گئی حالانکہ جنرل حمید گل کی ذہنی اختراع کے نتیجے میں الیکشن سے پہلے پری پول دھاندلی کے لئے 7 ستمبر 1981 کو نو پارٹیوں کے اتحاد کے طور پر آئی جے آئی بنائی جا چکی تھی۔ آئی جے آئی نے صرف پنجاب میں نواز شریف کو بچا لیا تھا۔ (جاری ہے)

بشکریہ روزنامہ 92 نیوز