پشاور(صباح نیوز)ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخوا اسفندیار عزت نے کہاہے کہ وزیر اعلی کا سرکاری جامعات میں انسداد ہراسمنٹ کمیٹیاں قائم کرنے اور انسدا ہراسانی قوانین کے نفاذ کا فیصلہ خوش آئند ہے۔
اپنے جاری بیان میں انہوں نے کہاکہ اسلامی جمعیت طلبہ وزیراعلی سیکرٹریٹ سے جاری نوٹیفکیشن کاخیر مقدم کرتی ہے۔ طلبہ و طالبات جو کہ تعلیمی اداروں کے سب سے اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ طلبہ یونین کے دورمیں یونین کی منتخب قیادت جامعات میں مختلف کمیٹیوں میں طلبہ کی نمائندگی کرتے تھے۔ لیکن طلبہ یونین پر پابندی سے یہ سلسلہ رک گیاہے۔آج اسطرح کمیٹیوں میں طلبہ کی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے اس پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔ طلبہ یونین کی عدم موجودگی کی وجہ سے طلبہ کسی نمائندہ آواز سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلی نے طلبہ یونین بحالی کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال طلبہ اپنے جمہوری حق سے محروم ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ یونین کی بحالی کا فی الفور مطالبہ کرتی ہے۔ طلبہ یونین نہ صرف طلبہ کا آئینی اور جمہوری حق ہے بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے طلبہ یونین پر پابندی کی آڑ میں طلبہ کو تعلیمی سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے۔ ہم طلبہ یونین کے انتخاب کے انعقاد اور اس فورم کی مکمل بحالی تک طلبہ وطالبات کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔