اقوا م متحدہ کے نمائندوں کامقبوضہ جموں وکشمیر میں کالے قوانین کے وحشیانہ استعمال پر اظہار تشویش


جنیوا :اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی ایک سات رکنی ٹیم نے مقبوضہ جموںو کشمیر میں انسانی حقوق کے علمبرداروں اور صحافیوںکے خلاف کالے قوانین اور بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے بڑے پیمانے پر استعمال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔

اقوام متحدہ کے متعدد خصوصی نمائندوں نے بھارتی حکومت کے نام ایک خط میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت حکام کو بغیر کسی وارنٹ کے تلاشی لینے جبکہ کسی بھی شخص کو دہشت گرد قراردیکر چھ ماہ تک حراست میں لینے کے اختیار پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

مزید یہ کہ اس ایکٹ کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کیلئے اس میں آسانی سے ترمیم کی جاسکتی ہے ۔ یہ خط گزشتہ سال 22 دسمبر کو لکھا گیا تھا تاہم اب یہ منظر عام پر آیا ہے ۔انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ سمیت اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوںنے مزید کہا کہ یو اے پی اے جیسے کالے قوانین انسانی حقوق کے علمبرداروںاور صحافیوں کی سرگرمیوںکوکنٹرول کرنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیںاوربھارت نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے اختیارات کو من مانے انداز میں استعمال کیا ہے ۔ یہ اقدامات انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے آرٹیکل 12 اور شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کے آرٹیکل 17 کی بھی خلاف ورزی ہیں جن پر 10 مئی 1979 کو بھارت نے دستخط کئے تھے ۔

خصوصی نمائندوں کے مطابق دونوں دفعات کے تحت کسی کے بھی نجی امور میں مداخلت ممنوع قراردی گئی ہے ۔خط میں این آئی اے کی طرف سے گزشتہ سال اکتوبر میں دوران حراست لاپتہ کشمیریوںکے والدین کی تنظیم اے پی ڈی پی کے دفتر اور تنظیم کی سربراہ پروینہ اہنگر کی رہائش گاہ ،سرینگر سے شائع ہونے والے روزنامے گریٹر کشمیر کے دفاتر ، جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی اور اس کے کوآرڈینیٹر خرم پرویز کی رہائش گاہ اور صحافی پرویز بخاری کی رہائش گاہوں پر چھاپوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے انسداد دہشت گردی کے قوانین اور تفتیشی اداروں کے بارے میں مراسلے میں کہاکہ چھاپوں سے قبل لزامات کی تصدیق کے بعد انسانی حقوق کے علمبرداروںاور صحافیوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے تھی۔ مراسلے میں مزید کہاگیا ہے کہ این آئی اے اس کالے قوانین کا بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہوئے جموںوکشمیر میں مسلسل چھاپے مار رہی ہے۔

مزید پڑھیں: برطانوی ممبران پارلیمنٹ کوکشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے بھارتی منصوبے پر تشویش

اقوام متحدہ کے متعدد خصوصی نمائندوں کی سات رکنی ٹیم نے مراسلے میں مزید کہاکہ یہ کارروائیاں اگست2019کے بعد اراضی کے نئے قوانین کی منظور ی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی کے بعد کئے گئے ہیں۔ قابض انتظامیہ کی طرف سے جن افراد اور اداروںکو نشانہ بناگیا ہے وہ نئی قانون سازی کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے تھے کیونکہ ان سے جموںوکشمیر کی خودمختاری بڑی حد تک متاثرہوگی ۔ خصوصی نمائندوںنے جموںوکشمیر کی صورتحال کے بارے میں آزادانہ اطلاعات کو منظر عام پر لانے سے روکنے کیلئے کئے گئے مجرمانہ اقدمات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے