اسلام آباد میں صفائی کے گرتے معیارپر حکام کی سرزنش


اسلام آباد (محمد اکرم عابد)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر ستارہ ایاز کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں ہوا۔کمیٹی نے وفاقی ترقیاتی ادارے اور متعلقہ حکام کی سرزنش کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں صفائی کے گرتے ہوئے معیار، سڑکوں، سٹریٹ لائٹس اور دیگر مسائل سمیت فیصل مسجد کے اطراف میں صفائی کے ناقص معیار کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے ہدایات دیں کہ شہر کی خوبصورتی کیلئے شجرکاری مہم کے ذریعے بڑی تعداد میں درخت لگائے جائیں ۔

اراکین کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد کی بڑی مارکیٹیں اس وقت عجیب منظر پیش کر رہی ہیں صفائی کا معیار گر رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اسٹریٹ لائٹس لگائی جائیں اور جہاں کوڑے کے ڈھیر نظر آئیں انہیں فوری طور پر ہٹا کر صفائی کیلئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں۔ چیئرمین سی ڈی اے عامر احمد علی نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ایک ماہ کے اندر حالات بہتری کی جانب چل پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی تمام سڑکوں کی بحالی کیلئے حکمت عملی ترتیب دے دی گئی ہے جبکہ شہر کی گلیوں میں اسٹریٹ لائٹس کی بحالی پر بھی کام ہو رہا ہے۔کمیٹی میں دوسرے ممالک جانور وں اور پرندوں کی برآمد کے مسئلے پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ مناسب ایس او پیز بنانے کی ضرورت ہے تا کہ ان اجازت ناموں کا غلط استعمال نہ ہو۔

کرونا وبا کے پیش نظر جنگلی حیات کی درآمد پر اس سال کے آخر تک عارضی پابندی لگائی گئی ہے۔ ایئر کوالٹی انڈیکس کے بارے میں متعلقہ حکام کے مطابق لاک ڈاؤن کے باعث وفاقی دارلحکومت میں آلودگی کی سطح کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔ تاہم جو ڈیزل استعمال ہو رہا ہے وہ یورو ٹو کے معیار کا نہیں ہے جب کہ کھلی فضا میں چیزوں کو جلایا جاتا ہے جس سے آلودگی بڑھنے کا خدشہ ہے

کمیٹی ن جلانے کے اس عمل کو روکنے کیلئے سخت سے سخت کاروائی کے احکامات دیئے ہیں ۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے ایئر کوالٹی انڈیکس کیلئے ایپ بنانے کی تجویز بھی دی۔ چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ اسلام آباد میں مارگلہ ہائی وے تعمیر کی جائے گی اور یہ ہائی وے ماسٹر پلان کا حصہ ہے جس سے مارگلہ ہلز نیشنل پارک متاثر نہیں ہو گا۔ کمیٹی کی چیئرپرسن نے کہا کہ شاپر پر پابندی عائد کر دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود وفاقی دالحکومت میں شاپنگ بیگ استعمال ہو رہے ہیں۔ ڈی جی وی پی اے نے بتایا کہ شاپنگ بیگ کی ریسائیکلنگ کے حوالے سے ایک منصوبہ زیر غور ہے۔