موجودہ سیاسی بھونچال (تاریخ کے تناظر میں) … (3)۔۔۔تحریر اوریا مقبول جان


اسلامیان ہند کے عظیم الشان اجتماع لاہور میں 23مارچ 1940 کی قرار داد پیش کرنے کا شرف جس مولوی ابوالقاسم فضل حق کو ملاوہ پکارتا چلا گیا کہ اس ملک کی بنیادوں میں اس کی آرزوئیںامنگیں موجود ہیںاس کی عمر بھر کی توانائیاں اس کے قیام کی جدوجہد کے لئے صرف ہوئی ہیں، وہ اس ملک سے علیحدگی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔لیکن اس کی آواز نقار خانے میں طوطی کی صدا ثابت ہوئی کیونکہ اس سے منسوب کردہ جھوٹا بیان نیو یارک ٹائمز میں شائع ہوا تھا۔ پاکستان امریکہ کے عشق میں تو گرفتار تھااس لئے محبوب کو تو جھوٹا قرار ہی نہیں دیا جا سکتا تھا۔آزادی کے اس سپوت اور تحریک پاکستان کے اس سپاہی کو غداری کا سرٹیفکیٹ کسی جرنیل یا فوجی آمر نے جاری نہیں کیا تھا بلکہ پاکستان میں غداری کا یہ اولین سرٹیفکیٹ امریکی سند کی بنیاد پر ایک سویلین حکومت نے جاری کیا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پہلی دفعہ حکومت گرانے کے پیچھے امریکی سازش کے الفاظ گونجے اور یہ الزام لگانے والا بانیان پاکستان میں سے تھا۔ امریکی سازش کی اس گونج کو فضا میں بلند ہوئے ابھی ایک ماہ بھی نہیں گزرا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک بدنام کردار داخل ہوا۔29جون 1954 کو حکومت پاکستان نے جسٹس منیر کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کر دیا۔یہ شخص اپنی بددیانتی کی وجہ سے پہلے حکمرانوں کے دل میں گھر کر چکا تھا۔ جب 1953 میں لاہور میں قادیانیوں کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو اس کی تیزی کو دیکھتے ہوئے 6مارچ 1953 کو لاہور میں مارشل لا لگا دیا گیا، جو اس ملک کا پہلا مارشل لا تھا۔ان فسادات کی تحقیق کے لئے ایک عدالتی کمیشن بنایا گیا، جس کا سربراہ یہی جسٹس منیر تھا۔اس کمیشن نے ایک رپورٹ مرتب کی جو 21اپریل 1954 کو شائع ہوئی۔اس رپورٹ کے 68سال گزرنے کے باوجود بھی سیکولر اور لبرل حضرات اسے ایک اہم دستاویز تصور کرتے ہیں۔کیونکہ اس میں جسٹس منیر نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ قائد اعظم ایک سیکولر لبرل پاکستان بنانا چاہتے تھے۔یہ تو کئی سالوں کے بعد سلینہ کریم نے جو برطانیہ میں پڑھتی تھی، اس نے تحقیق کر کے ثابت کیا کہ جسٹس منیر نے قائد اعظم کے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو کے الفاظ تبدیل کر کے انہیں سیکولر نظریات کے مطابق ڈھالا تھا۔ایسا بددیانت شخص جب پاکستان کے چیف جسٹس کی کرسی پر بیٹھا تو پھر وہی کچھ ہوا جس نے پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کا اضافہ کر دیا۔گورنر جنرل غلام محمد نے جس کابینہ کو انگریز کے بنائے گئے انڈیا ایکٹ کے تحت حاصل شدہ اختیارات کے تحت برطرف کر دیا تھا، تو اس شخص نے 10مئی 1955 کو اس اقدام کو جائز قرار دیا اورغلام محمد نے جو دستور سازی اسمبلی توڑی تھی ،اس کو بھی کالعدم ہی رہنے دیا گیا۔ اس فیصلے کے 18دن بعد قائد اعظم کی مسلم لیگ کی دستور ساز اسمبلی کی جگہ غلام محمد نے ایک نئی اسمبلی بنانے کا اعلان کیاجس کے اراکین کو صوبائی اسمبلی کے ممبران نے منتخب کیا۔ یہ دستور ساز اسمبلی 80اراکین پر مشتمل تھی جسے عوام نے براہ راست ووٹ سے منتخب نہیں کیا تھا۔ہر صوبے نے اپنے کوٹے کے مطابق اراکین کو اسمبلی میں بھیجا۔یہاں پہلی دفعہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان برابری کا اصول اپنایا گیا۔ چالیس اراکین مغربی پاکستان اور چالیس ہی مشرقی پاکستان سے لئے گئے۔ حالانکہ مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی۔7جولائی 1955 کو اس دستور ساز اسمبلی کا اجلاس پرفضا مقام مری میں منعقد ہوا۔چند سال پہلے والی اسمبلی جس میں مسلم لیگ کو اکثریت حاصل تھی اب اس پارٹی کا وجود گھٹا کر ایسا کر دیا گیا کہ وہ کسی دوسری پارٹی کی شراکت کے بغیر حکومت نہیں بنا سکتی تھی۔ قائداعظم کی مسلم لیگ سے علیحدہ ہو کر عوامی لیگ بنانے والے حسین شہید سہروردی کے اراکین چونکہ مشرقی پاکستان سے آنے والے اراکین کی اکثریت رکھتے تھے۔اس لئے ان سے اتحاد کیا گیا اور معاہدے کے تحت انہیں وزیراعظم بنانے کا بھی اعلان ہو گیا لیکن جب حکومت سازی کا وقت آیا تو مشہور بیورو کریٹ اور پاکستان کے پہلے کیبنٹ سیکرٹری چودھری محمد علی کو وزیر اعظم بنا دیا گیا جن طاقتوں نے غلام محمد سے جو کام لینا تھا ،وہ اب پورا ہو چکا تھا اور ان کے نزدیک اب اس کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے اس نے یہ تمام کام ایک فالج زدہ شخص کی حیثیت سے کیا تھا۔ اگست 1955 میں ملک غلام محمد کی طبی رپورٹ کابینہ میں پیش ہوئی اور بتایا گیا کہ وہ اب ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں ہے۔ یوں 7اگست 1955 کو ایک اور بیورو کریٹ سکندر مرزا کو جو فوج سے سول سروس میں آیا تھااسے ملک کا گورنر جنرل بنا دیا گیا۔ ملک غلام محمد اس بیماری میں بھی استعفے دینے پر راضی نہ تھا۔ اس لئے اسکندر مرزا کے منصب کے ساتھ قائم مقام لکھا جانے لگا۔19ستمبر 1955 کو کیبنٹ سیکرٹری نے اس کے کانپتے ہاتھوں سے کیے گئے دستخطوں والا ایک استعفی پیش کیا۔ ریڈیو پاکستان سے حکومت کی جانب سے اسے خراج تحسین پیش کیا گیا اس کی خدمات کو سراہا گیا اور اب ملک کی سربراہی سکندر مرزا کے ہاتھ میں آ گئی۔ ملک پر اب دو ایسے لوگوں کا راج مسلط ہوا جو امریکی آشیر باد سے یہاں تک پہنچے تھے، سول بیورو کریسی کی سربراہی سکندر مرزا کے پاس تھی اور ملٹری بیورو کریسی جنرل ایوب خان کی آنکھوں کے اشاروں پر چلتی تھی طویل عرصے سے ان لوگوں کے دلوں میں ایک خواہش مچلتی تھی کہ مغربی حصے کے تمام صوبوں کو یکجا کر کے ون یونٹ بنا دیا جائے۔امریکہ سے بھیجے گئے وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے دسمبر 1954 کو اس کی ایک انتظامی کونسل بھی بنا دی تھی، جس کا سربراہ مشتاق گورمانی کو لگایا گیا۔لیکن معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔نئی دستور ساز اسمبلی وجود میں آئی تو اس میں ایک ایسا شخص سامنے آیا جو خان عبدالغفار خان جسے سرحدی گاندھی کہتے تھے، اس کا بھائی عبدالجبار خان جو ڈاکٹر خان صاحب کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اسکندر مرزا جنرل ایوب اور ڈاکٹر خان صاحب نے ون یونٹ بنانے کا بیڑا اٹھایا اور سب سے پہلے سرحد اسمبلی پھر پنجاب اسمبلی اور بلوچستان شاہی جرگے سے اس کی حمایت میں قرارداد منظور کروائی گئی۔سندھ کے وزیر اعلی عبدالستار پیرزادہ نے انکار کیا تو اس کی جگہ ایوب کھوڑو کو لگایا گیا قرارداد منظور ہوئی تو 19اکتوبر کو مغربی پاکستان کے صوبے کا اعلان ہوا جس کے پہلے گورنر مشتاق گورمانی اور پہلے وزیر اعلی ڈاکٹر خان صاحب تھے۔اس پر سردار عبدالرب نشتر نے یہ شعر پڑھا تھا: نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھیے منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے (جاری)

بشکریہ روزنامہ 92 نیوز