کراچی کی ترقی میں ناقص انفراسٹرکچر سب سے بڑی رکاوٹ ہے، الطاف شکور

کراچی(صباح نیوز) پاسبان ڈ یموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ کراچی کا ناقص انفراسٹرکچر اس کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس اہم شہر کو بری طرح نظر انداز کر رہی ہیں۔ عید کے بعد کراچی میں بڑے پیمانے پر انسداد تجاوزات آپریشن کیا جائے تاکہ سڑکوں، گلیوں اور فٹ پاتھوں کو قبضہ مافیا سے آزاد کرایا جا سکے۔وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کراچی کے شہری انفراسٹرکچر کی ترقی اور اس کے لیے درکار فنڈز کی فراہمی پر ذاتی توجہ دیں۔ حکمران کراچی کے شہری انفراسٹرکچر کو جدید بنانے میں وسائل کی دوبارہ سرمایہ کاری کریں تو ریونیو وصولی کو دوگنا اور تین گنا کیا جا سکتا ہے۔

کراچی میں ایک انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی ہے مگر ان کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ کے ایم سی کا بجٹ اربوں روپے کا ہے، مگر عملی طور پر یہ ایک سفید ہاتھی بن چکی ہے۔ کراچی میں منتخب بلدیاتی حکومت شہری انفراسٹرکچر کی ترقی کے معاملے میں مکمل ناکامی کا شکار ہے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ کراچی میں ہونے والے جان لیوا سڑک حادثات کی ایک بڑی وجہ تجاوزات کے باعث پیدا ہونے والا ٹریفک دبائو ہے۔ غیر قانونی کچی آبادیاں جرائم اور منشیات فروشوں کے اڈے ہیں۔ شہر میں اقتصادی ترقی اور نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، مگر اس کا خستہ حال شہری انفراسٹرکچر ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل نہیں ہے۔ گڑھوں سے بھرے سڑکیں، سڑکوں پر تجاوزات، پانی کی قلت، ناکافی پبلک ٹرانسپورٹ اور اسٹریٹ کرائمز کراچی کے سنگین مسائل میں شامل ہیں مگر حکومت بھاری ٹیکس ریونیو حاصل کرنے کے باوجود ان مسائل کوحل کرنے کے لیے تیار نہیں۔

کراچی ایک ساحلی شہر ہونے کے ناطے سیاحت کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، مگر حکومت اسے تسلیم کر کے مناسب انداز میں فروغ دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔شہری مراکز ریونیو اور روزگار کی پیداوار کے مراکز ہوتے ہیں اور کراچی ان شعبوں میں بہت کچھ کر سکتا ہے اگر اس کے شہری انفراسٹرکچر کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ترقی دی جائے۔ کراچی میں نئی یونیورسٹیاں، میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز، ٹیکنیکل اسکولز اور تدریسی اسپتال کھولنے کی اشد ضرورت ہے۔ سندھ حکومت کے موجودہ اسپتال اورنگی، لیاقت آباد، کورنگی، ملیر، ابراہیم حیدری اور گڈاپ کو آسانی سے تدریسی اسپتالوں میں اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے۔ کراچی میں مزید نجی میڈیکل کالجز بھی کھولے جا سکتے ہیں ضرورت صرف حکومتی توجہ اور وسائل مختص کرنے کی ہے۔