پاکستان کو ہر طرح کی آلودگی کے خاتمے کیلئے ایک نئے اور جامع سفر کی طرف بڑھنا ہو گا ، سینیٹر شیری رحمان

اسلام آباد(صباح نیوز)چیرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہاہے کہ انٹرنیشنل  زیرو ویسٹ  ڈے  پر پاکستان کو ہر طرح کی آلودگی کے خاتمے کے لیے ایک نئے اور جامع سفر کی طرف بڑھنا ہو گا ،پاکستان میں سالانہ 49.6ملین ٹن جبکہ روزانہ 48,000 سے 56,000ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے کچرے کی سالانہ پیداوار میں 2.4%اضافہ ہو رہا ہے، کچرے کی ری سائیکلنگ میں کمی کی وجہ سے پاکستان میں بڑی  مقدار میں کچر ا جمع  ہوتا جا رہا ہے،پاکستان میں کچرے کی  ری سائیکلنگ کی شرح 5% سے بھی کم ہے، جو کہ بڑا المیہ ہے۔

چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے انٹرنیشنل زیرو ویسٹ ڈے کے حوالے سے پیغام میں کہاکہ انٹرنیشنل  زیرو ویسٹ ڈے پر پاکستان کو ہر طرح کی آلودگی کے خاتمے کے لیے  ایک نئے اور جامع  سفر کی طرف بڑھنا ہو گا ،پاکستان میں سالانہ 49.6 ملین ٹن جبکہ روزانہ 48,000 سے 56,000 ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، پاکستان میں کچرے کی سالانہ پیداوار میں 2.4%اضافہ ہو رہا ہے، جو ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے،پاکستان میں کچرے کا 30% حصہ کھانے کی اشیا پر مشتمل ہے، جبکہ 18% راکھ، اینٹوں اور مٹی کا حصہ ہے، کچرے کی ری سائیکلنگ میں کمی کی وجہ سے پاکستان میں بڑی  مقدار میں  کچر ا جمع  ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں کچرے کی ری سائیکلنگ کی شرح 5% سے بھی کم ہے، جو کہ بڑا المیہ ہے۔

پاکستان میں پلاسٹک کی 70 فیصد سے زیادہ آلودگی نہروں، دریاؤں اور شہروں میں جاتی ہے، جو صحت اور ماحول کو نقصان پہنچاتی ہے عالمی سطح پر پلاسٹک کا استعمال 30سالوں میں چار گنا بڑھ چکا ہے، جبکہ اس کی ری سائیکلنگ کی شرح صرف 9فیصد ہے، پلاسٹک کی آلودگی پاکستان کی زراعت کو متاثر کر رہی ہے، کیونکہ پلاسٹک زمین کی زرخیزی کو کم کرتا ہے اور فصلوں کی پیداوار پر منفی اثر ڈالتا ہے،کچرے کی ری سائیکلنگ نہ ہونے کی وجہ سے صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں،

جن میں ہیضہ، ٹائیفائیڈ بخار شامل ہیں، کچرا دریائے سندھ کو آلودہ کررہا ہے جو آبی حیات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور پانی کو آلودہ کرتا ہے، پاکستان کے لینڈ فلز سے میتھین گیس خارج ہوتی ہے جو کہ ماحولیاتی تبدیلی کا ایک بڑا سبب ہے، پاکستان میں کچرا ٹھکانے لگانے پر 65.4ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔کچرے کی غلط تلفی کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 143.8ارب روپے صحت کے اخراجات پر خرچ ہوتے ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کو رواں سال پانی کی شدید قلت کا سامنا ہو گا۔ اس قیمتی  وسیلے کی حفاظت کے لیے ہمیں  آگے بڑھنا ہو گا پاکستان میں پلاسٹک کے متبادل مواد کی تیاری کے لیے حکومت کو تحقیق اور ترقی کے پروگرامز کو فروغ دینا چاہیے تاکہ مقامی سطح پر پائیدار حل پیدا کیے جا سکیں، ہمیں صرف کچرا ٹھکانے لگانے کی بجائے اس کی روک تھام پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ ایک صاف ستھرے، سبز پاکستان کا خواب پورا ہو سکے۔