پروفیسر محمد ابراہیم خان کی بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے اور سلیب سسٹم کی شدید مذمت

پشاور(صباح نیوز)امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے اور سلیب سسٹم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کی بھرمار کے ذریعے ظالمانہ اضافہ واپس لے۔ اس شدید گرمی میں بجلی ناپید ہے، بدترین لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے خواتین، بچے اور بزرگ بالخصوص مریض بلک اور تڑپ رہے ہیں۔ ایسے میں بجلی کی قیمت میں اضافے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن کی کال پر 12 جولائی کو ڈی چوک پر بھاری ٹیکسوں اور مہنگی بجلی کے خلاف دھرنا دیں گے۔ عوام کو ظالم حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ حکمران سود کے خاتمے کے لیے تیار نہیں، سود اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ ہے۔ ہمارے حکمران دیدہ دانستہ سودی نظام چلا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امن کے نام پر پرویز مشرف کے دور سے آپریشن ہو رہے ہیں لیکن امن کا نام و نشان نہیں ہے۔ عوام امن کو ترس گئے ہیں۔ اب ایک بار پھر “عزمِ استحکام” کے نام سے آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ آپریشن “عزمِ عدمِ استحکام” ہے۔ ہم ایک اور آپریشن کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انھوں نے کہا کہ جو شخص بھی ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، اسے اٹھا لیا جاتا ہے اور پھر عدالتیں بھی کچھ نہیں کر سکتیں۔ عدالت وزارتِ داخلہ کے افسران کی بجائے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہان کو بلائے اور ان سے تحقیقات کرے۔

انھوں نے کہا کہ فوج کا کام ریاستی امور میں مداخلت نہیں سرحدوں کا دفاع ہے۔ شہباز شریف حکومت نہیں چلا سکتے تو فوج کے ذریعے چلانے کے بجائے استعفی دے کر گھر چلے جائیں اور عوام کو اپنی مرضی کا حکمران منتخب کرنے دیں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ اپنے حق کے لیے 12 جولائی کو اسلام آباد دھرنے میں شرکت کریں۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان نے جلالہ پل کے قریب دھماکے کی بھی شدید مذمت کی اور جاں بحق افراد کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔۔