پوری انسانیت کے فائدہ کے لیے سائنسی بنیادوں پر علم کے اشتراک کی ضرورت ہے، صدر مملکت

اسلام آباد(صباح نیوز)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کی ترقی و جدت اور علم کی فراوانی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے پوری انسانیت کے فائدے کے لئے جدید ترین پیش رفتوں، تجربات اور کامیابیوں کے اشتراک کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ علم کی دستیابی کو محض کاپی رائٹس تک محدود نہیں رکھناجانا چاہئے کیونکہ زیادہ سے زیادہ رسائی سے انسانیت کو موجودہ معاشی، سماجی اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صدر میں کمیشن برائے سائنس و ٹیکنالوجی فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ (کامسیٹس) کی 29ویں سالگرہ کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سفارت کاروں، ماہرین تعلیم اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ صدر مملکت نے ترجیحات کے ازسرنو تعین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قوموں کے مابین علم کا بلا رکاوٹ اور وسیع تر تبادلہ ہونا چاہئے، اس حوالے سے ناانصافیوں کا ازالہ کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر عارف علوی نے مزید کہا کہ دنیا میں تبدیلاخلاقیات یا انسانیت پر مبنی نظام کی موجودگی میں ہوسکتی ہے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دنیا کے ضرورتوں کے برعکس مروجہ رجحان انتہائی امیروں کی طرف ہے ، امیر،امیر تر ہوتے جا رہے ہیں جبکہ دنیا کا غریب طبقہ بدحالی اور محرومیوں میں دھنسا ہوا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دنیا میں دولت کی منصفانہ تقسیم سے انسانیت کے دکھوں کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا استحصالی رویہ بدلنے اور استحصال کو ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

انہوں نے آکسفیم کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں ارب پتیوں نے اپنی آمدنی دوگنی کر لی ہے جبکہ دوسری طرف تقریبا 5 بلین عام لوگوں کی آمدنی میں کمی دیکھی گئی ہے۔صدر نے کہا کہ جینوم کی ترتیب سائنسی دنیا میں ایک اہم پیش رفت ہے جس کا آغاز 14 سے 15 ملین ڈالر کے عزم سے کیا گیا، دنیا تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ہے کیونکہ ٹیکنالوجی مزید جامد نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹنگ اربوں انسانوں کے ڈیٹا کو ان کی صحت کے حوالے سے سنبھال سکتی ہے جس نے زراعت کے شعبے میں زبردست امکانات کو بھی جنم دیا۔ صدر نے نیدرلینڈز کی زرعی ترقی کا حوالہ دیا، جو ایک چھوٹا ملک ہونے کے باوجود دنیا میں زرعی مصنوعات کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جدید سائنسی خطوط پر کام کر کے دنیا میں غذائیت فراہم کرنے والا صف اول کا ملک بن سکتا ہے۔مہنگی بجلی کی پیداوار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شمسی ٹیکنالوجی میں ترقی اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

صدر نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان سمیت دنیا نے کاربن کے اخراج کے بارے میں شعور اجاگر کیا ہے جس کے لیے اب بھی اقوام کے درمیان وسیع تعاون کی ضرورت ہے۔ صدر نے رکن ممالک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے لیے کامسیٹس کے کردار کو سراہا۔ صدر نے اس موقع پر کامسیٹس کے رکن ممالک کے سفیروں کے ساتھ تقریب کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا۔کامسیٹس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور سابق سفیر نفیس زکریا نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کی بنیاد اور عالمی چیلنجز کیحل کے لیے کلیدی حیثیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال، مصنوعی ذہانت، جینومک سیکوینسنگ، قابل تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں،زراعت، صنعتی بائیو ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق کامسیٹس کے نئے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔

انٹرنیشنل سینٹر فار کلائمیٹ اینڈ انوائرنمنٹ سائنسز چین کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر لین ژاہوئی نے اس موقع پر سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے لئے کامسیٹس کے عزم اور کردار کو سراہا۔انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو کرہ ارض کے لیے آنے والے خطرات میں سے ایک کے طور پر اجاگر کیا اور اس حوالے سے پائیدار حل اور ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دینے کے لیے کامسیٹس کی کوششوں کی تعریف کی۔ واضح رہے کہ کامسیٹس 27 رکن ممالک کی ایک بین الحکومتی تنظیم ہے، اس کا سیکرٹریٹ حکومت پاکستان کے زیر اہتمام 1994 سے اسلام آباد میں قائم ہے، کامسیٹس کی تخلیق کے پیچھے نوبل انعام یافتہ اور عالمی شہرت یافتہ سائنسدان پروفیسر عبدالسلام کی سوچ کار فرما تھی۔۔۔۔