وکیل کون کرے۔۔۔اکیسویں صدی کی کہانیاں ۔۔۔۔۔۔اکرم سہیل


وہ دیہاتی خاتون تھی  اسے مقدمہ لڑتے دس سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا تھا،تاریخ پر تاریخیں پڑ رہی تھیں ۔سینکڑوں پیشیاں ہوئیں ،جج صاحب کے سامنے مقدمہ کی فائل آتی وہ کچھ کہتے اور اگلی تاریخ پڑ جاتی۔خاتون اب بڑھاپا اوڑھ رہی تھی اسے لگتا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ اس کی زندگی میں نہیں ہوگا ۔

آج اس نے ھمت کر کے جج صاحب کو کچھ کہا  لیکن جج صاحب سمجھ نہ سکے اور خاتون سے کہنے لگے۔۔بی بی  تمہاری بات میری سمجھ میں نہیں آتی کوئی وکیل کر لے جو مجھے بات سمجھائے۔خاتون نے جواب دیا۔۔

’’جج صاحب ،بات آپ کو سمجھ نہیں آتی اور وکیل میں کروں ؟