مولانا فضل الرحمن کی لیگی رہنما ایازصادق کے ہمراہ پریس کانفرنس


لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن)کے نائب صدر اورسابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے کہا ہے کہ میں نے وضاحت دے دی ہے ، میں نے کوئی غلط بات ہی نہیں کی ، معذرت کس بات کی کروں۔ ہمارے معاشرے میں ہر طرح کی سوچ ہے اور ہر طرح کی بات کرنے والے ہیں مگر ہم سب محب وطن پاکستانی ہیں نہ مجھے حق ہے کہ میں کسی اور کو غدار کہوں اور نہ کسی اور کو حق ہے کہ وہ مجھے غدار کہے۔ہندوستان جو چاہتا ہے وہ کبھی بھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ہماری سیاسی سوچ مختلف ہو سکتی ہے مگر جہاں پاکستان کا مئوقف آتا ہے اور پاکستان کی بات آتی ہے تو پوری پاکستانی قوم یکجا ہے اور بھارت کو منہ توڑ جواب جیسے ہمیشہ دیا ہے ویسے ہی دیا جائے گا۔

جمعیت علماء اسلام (ف)کے امیر اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر  مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قیامت کی علامت ہے کہ آج مسلم لیگی غدار ٹھہرے ہیں، ہمارا واضح مئوقف ہے کہ25جولائی2018کودھاندلی ہوئی ہے ، ہم اس حکومت کے جواز کو تسلیم نہیں کرتے اور ہم اپنے مئوقف پر قائم ہیں۔غداری کے تعارف کے لئے حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کو سامنے لایاجائے پھر پتہ چل جائے گا۔ پارلیمنٹ سپریم ہے اور پارلیمنٹ میں کہے الفاظ باہر چیلنج نہیں ہو سکتے۔

ان خیالات کااظہار سردار ایاز صادق نے مولانا فضل الرحمان کے اعزار میں دیئے گئے ناشتے  کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن)پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ خان، سابق وفاقی وزیر برائے ریلوے اور رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد سعد رفیق، قومی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر مولانا اسعد محمود اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ میں ایک وضاحت کردوں کہ اس ملاقات کا میری قومی اسمبلی کی تقریرسے کوئی تعلق نہیں یہ ملاقات 10روز قبل سے طے تھی اور اسی کے تسلسل میں مولانا فضل الرحمان تشریف لائے ہیں۔میری بات سے اختلاف ہو سکتا ہے اور لوگوں کو ہوا ہو مگر جس سیاسی بات کو جو رنگ دینے کی کوشش کی گئی اس سے پاکستان کے بیانیہ کو فائدہ نہیں ہوا بلکہ اس سلیکٹڈ حکومت نے ہندوستان میں جو بیانیہ تخلیق کی جو ناکام کوشش کی جار رہی تھی اس کو تقویت دینے کی کوشش کی ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس حکومت سے شدید تحفظات ہیں مگر وہ سیاسی اختلافات ہیں چاہے وہ   کشمیر کے حوالہ سے ہو یا ان کی خارجہ پالیسی کی  ناکامی کی صورت میں ہو، انہوں نے جو میرے بیان سے افواج پاکستان کو نتھی کرنے کی کوشش کی ، یہ کوئی پاکستان کی خدمت نہیں تھی ، میرا بیان دیکھا جاسکتا ہے اور سنا جاسکتا ہے اوراس میں میں نے اس حکومت کے بارے میں گفتگو کی تھی جس کو غلط انداز میں بھارتی میڈیا کی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے یہاں حکومتی لوگوں نے مس ریڈ کیا، جو کہ سراسر پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے بلکہ یہ پاکستان کی خدمت نہ ہوئی۔

ایاز صادق نے کہاکہ میں اس نالائق حکومت کے بارے میں یہ ضرورکہنا چاہوں گا کہ آپ نے جو لڑائی لڑنی ہے لڑیں ، ہم سیاسی جماعتیں حکومت سے اتفاق ایک ہی جگہ کریں گے جہاں پاکستان کی بات آئے گی۔ مہربانی کرکے افواج پاکستان کو اس لڑائی سے باہر رکھیں۔ آج جو بینر اور پوسٹر لاہور میں لگے وہ اس مئوقف کی  خدمت نہیں جو پاکستان کا مئوقف ہے۔ یہ آپ نے بھارت کے میڈیا کے ہاتھوں میں کھیل کر پاکستان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔میں اپنے مئوقف پر کھڑا ہوں ، میں پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کی  سربراہی کرتا رہاہوں اور میرے پاس بیشمار راز ہیں ،میں نے  کبھی  نہ غیر ذمہ دارانہ بیان نہ کبھی دیا ہے اور نہ انشاء اللہ دوں گا۔ ہم سیاسی لوگ ہیں اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بیان دیتے رہے ہیں اور آگے بھی  دیتے رہیں گے، مگر ایک جگہ جہاں پاکستان کا نام آتا ہے اور جہاں ہماری اکائی کا نام آتاہے ، جہاں ہمارے اداروں کا نام آتا ہے وہاں پاکستان کا پیغام ہندوستان کے بہت صاف ستھرا ہے کہ ہم پوری پاکستانی قوم ایک ہیں سیاسی حکومت کے ساتھ اختلاف ہو سکتا ہے مگر صرف ایک بھارت کے معاملہ میں ہم ایک ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایک اور وزیر نے بیان دیا میں اس کا بھی ذکر نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ پاکستان کے حق میں نہیں ہے ۔

 اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے سردار ایاز صادق کی جانب سے دعوت دینے پر شکریہ ادا کیا اور کہا سردار ایاز صادق نے جو گفتگو کی ہے وہ انتہائی ذمہ دارانہ اور سنجیدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں اختلافات کی حدود ہونی چاہئیں، ہم اختلاف رائے کا حق رکھتے ہیں اور اختلاف رائے اصولوں پر کرتے ہیں ، کرتے چلے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن کسی کو یہ حق نہیں دے سکتے کہ ان سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بھی لیتے رہیں، ہمیں احتیاط کا دامن تھامے رکھنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج وہی دن ہے جب میں لاہور سے اسلام آباد کی طر آزادی مارچ کے ساتھ گزررہا تھا اور آج بھی میں یہ دن لاہور کے میڈیا کے ساتھ منا رہا ہوں اور یہاں سے اسلام آباد کی طرف چلوں گا۔ تنقید سے کوئی بالاتر نہیں، ہمار ے ملک میں رسول اللہ ۖ کی توہین ہو جاتی ہے ، پھر ملزمان کو عزت وآبرو کے ساتھ باہر بھیج دیا جاتا ہے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے ، ہمارے ملک میں صحابہ کرام کی توہین ہوتی ہے ، پھر انہی لوگوں کو ملک سے عزت وآبرو کے ساتھ بھیجنے کے انتظامات کردیئے جاتے ہیں،

انہوں نے کہاکہ ہمارے ادارے اتنے مقدس ہیں کہ ان کے افراد بھی ان سے زیادہ مقدس ہیں کہ وہ تنقید سے بالاتر ہیں، ہم شاید اس اصول کو تسلیم نہیں کرتے،ہم توہین آمیز رویے کے خلاف ہیں، چاہے وہ عدالت کے بارے میں ہو، جج صاحبان کے بارے میں ہو یا جنرلز کے بارے میں ہو، لیکن ہم اپنی توہین بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس قسم کی صورتحال جو پاکستان میں بنائی گئی ہے ، جن لوگوں کے زمانہ میں پاکستان نے معاشی لحاظ سے ترقی کی اور ہمارے ملک کی ترقی کا سالانہ تخمینہ ساڑھے چھ فیصد تک پہنچ گیا تھا وہ آج صفر سے نیچے گر گیا، ملک کا دیوالیہ کر دیا گیا۔ گذشتہ حکومتیں پاکستان کو بلیک لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ تک لے گئی تھیں ، کوئی ایف اے ٹی ایف کے تحت ہماری قانون سازی نہیں ہوئی، ہم نے خود اپنی پالیسیاں بنائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک معاشی لحاظ سے دیوالیہ ہو چکا ہے اور پاکستان کے لئے یہ رسک بن چکے ہیں اور ملکی بقاء کا سوال  ہے، ناجائز حکومتیں ہم پر مسلط نہ کی جائیں، دھاندلیاں نہ کی جائیں ، ملکی سیاست میں مداخلت نہ کی جائے اور آئین کے تابع ملک کو چلایا جائے۔

انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے اختیارات کیا ہیں، پارلیمنٹ کے حوالہ سے چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کیا ہیں، ہمارے دفاعی اداروں کے اختیارات کیا ہیں، سول بیوروکریسی کے اختیارات کیا ہیں، اس کے اندررہتے ہوئے ہم ملک کو چلائیں، ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریںگے ، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے وہ ہمارے ساتھ کھڑے رہیں لیکن یہ کہ خود کو محور سمجھ کر ،خود کو مالک سمجھ کر  الیکشن کے نتائج کا خود کو مالک سمجھیں  اور عوام کے ووٹ کے تقدس کا یہ عالم ہو تو پھر ظاہر ہے اختلافات بھی ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ گلے شکوے بھی سامنے آئیں گے اور پھر اگر حکومت والے جو پوری کابینہ احمقوں کا مربہ ہے ، یہ لوگ اس قسم کی زبانیں استعمال کرتے ہیں جس کے بعد آدمی کو اپنے جزبات پر کنٹرول کرنا پڑتا ہے ، میں نے ایسی کوئی احمق حکومت نہیں دیکھی جو آبیل مجھے مار کی سیاست کرتی ہے اور جو خود اپوزیشن کو اشتعال دلاتی ہے۔ ہمیشہ اپوزیشن اشتعال کی طرف جاتی ہے اور حکومت اسے اعتدال کی طرف لانے کی کوشش کرتی ہے تاکہ بحران پیدا نہ ہوں مگر یہاں تو بحران پیداکئے جاتے ہیں، ہم اپنے مئوقف پر قائم ہیں، پی ڈی ایم قائم ہے، پی ڈی ایم کو توڑنے کی سازش کراچی میں ہوئی تاہم پی ڈی ایم کی  جماعتوں اپنی بھر پور  حکمت عملی سے اس کو  ناکام بنایا ہے اور اب بھی قائم ہے اور شیڈول کے مطابق اپنا پروگرام جاری رکھے گی۔