ڈیجیٹل نیشن بل 2024 پرقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اجلاس کل دوبارہ ہوگا


اسلام آباد(صباح نیوز)ڈیجیٹل نیشن بل 2024 پرقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اجلاس  کل دوبارہ ہوگا،وزیر مملکت شیزہ فاطمہ بل کو ہر صورت پاس کرناچاہتی ہیں مگر اتحادی بل پر بحث کرناچاہتے ہیں ۔ منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی چیئرمین سید امین الحق کی زیرصدارت  ہوا۔قومی اسمبلی میں گزشتہ روز پیش کیا گیا ڈیجیٹل نیشن بل 2024 قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں غور کیلئے پیش کیاگیا۔ بل پروزیر مملکت شزہ فاطمہ خواجہ اور سیکرٹری آئی ٹی نے  کمیٹی کو بریفنگ دی ۔سیکرٹری آئی ٹی ضرار ہشام خان نے قائمہ کمیٹی کو بل پر بریفنگ میں بتایا کہ کوئی بھی جدید معاشرہ ڈیجیٹل اکنامی، ڈیجیٹل سوسائٹی اور ڈیجیٹل گورننس پر مشتمل ہوتی ہے،تعلیمی اداروں کی ڈگری ایچ ای سی تصدیق کروانا پڑتی تھی یا دیگر کام ایسے ہوتے تھے دنیا میں رائج طریقہ کار اور معیارات کا مطالعہ کرکے یہ نظام متعارف کررہے ہیں،عام آدمی کو اس ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا فائدہ ہوگا۔وزیر مملکت  برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے بل پر کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ یہ تاریخی کام پاکستان میں ہونے جارہا ہے ریڈ ٹیپ اور دیگر چیلنجز اس قانون سے ختم ہوسکے گا،بیوروکریٹس اور وزارتوں میں فائلوں کے پھنسنے والا رویہ ختم ہوگا،ہیلتھ سیکٹر میں اس نظام سے فائدہ ہوگا، کونسی بیماری کہاں پھیل رہی ہے،ایکسائز ڈیپارٹمنٹ، ایف بی آر، لائسنسنگ ڈیپارٹمنٹ، ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بنک سب اس سے منسلک ہوں گے،ڈیپ منصوبہ کے لئے ورلڈ بنک نے 78 ملین ڈالر کا فنڈ دیا تھا،ہمارے پاس فنڈ ہیں جو اس نظام کو فوری موبلائز کرے گی،ڈیپ منصوبہ کے تحت یہ قانون تیار کیا گیا جس کے تحت یہ نظام بنے گا۔شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ 14 اگست 2025 تک کوشش ہے کہ اس ڈیجیٹل ٹرانسفارم سے متعلق بنیادی ڈھانچے ہم متعارف کروا دیں،جہاں جہاں ڈیٹا بیس ہوگا اسے اس سے منسلک کیا جائے گا،نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان بنایا جارہا ہے، ڈیٹا سینٹرز عوام کے پیسے سے الگ الگ نہیں بنایا جانا چاہے ایک مرکزی ڈیٹا سینٹر ہونا چاہے،ہر وزارت اپنا اپنا ڈیٹا سینٹر بنا رہی ہے جسے بند ہونا چاہے۔ مہیش کمار نے کہاکہ اتنی عجلت کیا ہے کل بل پیش ہوا آج یہاں سے منظوری چاہے،پہلے نیٹ ورک کام نہیں کررہا ہے یہ ڈیجیٹل پالیسی کیسے کامیاب ہوگی، پہلے آپ صوبوں کو لکھیں اور ان سے مشاورت کرلیں وہ کتنے تیار ہیں۔

احمد عتیق انور نے کہاکہ ڈیٹا گولڈ ہے اور اگر اسے ایک جگہ اکٹھا کردیں اور ایک وزارت کو اسکا اختیار دیدیں یہ خطرناک ہے، کل کو کوئی چودھری جاکر کہے مجھے ڈیٹا نکال دیں تو پریشر میں یہ لیک ہوسکتا ہے،اس نظام میں ڈیٹا کو خطرہ ایک ہائی لیول کا ہے، کسی ایک شخص یا محکمہ یا وزارت کا اختیار دینا مناسب نہیں نظام بنائیں جو محفوظ ہو اور کسی ایک کے اختیار میں نہ ہو۔ اسپیشل سیکرٹری وزارت آئی ٹی نے کہاکہ مختلف جگہوں پر مختلف کام ہورہا ہے ہم اسے یکجا کرنے کا فریم ورک بنانا چاہتے ہیں۔مہیش کمار  نے کہاکہ دو دن اس بل پر بحث کرلیں اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت کرلیں، شزہ فاطمہ نے کہاکہ پھرہم پارٹی قائدین سے بات کرلیتے ہیں،  اگر قائمہ کمیٹی دو دن لے گی تو وہ دو ماہ ہوں گے۔

پولین بلوچ نے کہاکہ اگر یہ عوام کے خلاف جائے گی تو میں کیا جواب دوں گا؟ہم گن پوائنٹ پر کام نہیں کرتے، رات و رات آپ بل لائیں گے۔ اراکین قائمہ کمیٹی نے بل پر بحث کے لئے وقت مانگ لیا تاہم وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ کا بل آج ہی پاس کرنے پر اصرار کیا اور بل پر ون پوائنٹ ایجنڈا کیلئے قائمہ کمیٹی کا اجلاس آج بروزبدھ کو دوبارہ طلب کرنے پر اتفاق کیا گیا۔