لندن (صباح نیوز)بھارت میں سکھوں کے علیحدہ وطن کے قیام کے لیے لندن میں ہونے والے ریفرنڈم میں ہزاروں سکھوں نے بھارت سے علیحدگی کا فیصلہ سنادیا۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق سکھ رہنماوں کے مطابق تقریبا 30 ہزار افراد نے ریفرنڈم میں حصہ لیا۔
منتظمین کا کہنا تھا کہ بھارتی دباو کے باوجود برطانوی حکومت نے ریفرنڈم کی اجازت دی جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔بھارتی سیکرٹری خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت اور برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر رواں ماہ کے آخر میں ملاقات کریں گے جس میں برطانیہ میں سرگرم خالصتان کے رہنماوں کے بارے میں بات کی جائیگی۔
بھارتی سیکرٹری خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 2 روز قبل برطانیہ میں خالصتان کے حوالے سے ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا تھا۔
ترک نشریاتی ادارے کے مطابق گلاسگو میں ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنس کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں مودی برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے سامنے پھٹ پڑے اور برطانیہ میں خالصتان پر ہونے والے ریفرنڈم پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں تجارت کے معاملات پس منظر میں چلے گئے اور خالصتان کا موضوع ہی سرفہرست رہا۔
ملاقات میں نریندر مودی نے بورس جانسن کے سامنے خالصتان پر ریفرنڈم کا معاملہ اٹھایا جس کے بعد اتفاق ہوا کہ دونوں کے قومی سلامتی کے مشیران اس معاملے پر مل کر مسئلے کا جائزہ لیں گے۔