سماج کی بنیاد ی خرابی ۔۔۔تحریرنعیم قاسم


تحریک انصاف نے ماضی کی طرح حالیہ قومی انتخاب بھی کرپشن کے بیانیے پر لڑا _عوام نے فارم 45 کے ذریعے ان کو پذیرائی بخشی مگر وہ فیصلہ ساز قوتیں جو ڈیموکریسی کی بجائے آٹوکریسی کی نمائندگان ہیں وہ کیسے عوام کا فیصلہ قبول کرتیں تو انہوں نے اپنے تئیں قومی مفاد کے پیش نظر فارم 47 کے ذریعے اپنے منظور نظر سیاستدانوں کو اسمبلیوں میں پہنچایا اور دونوں پاپولر رہنماؤں کو مائنس کر کے اپنی کٹھ پتلیوں کو اقتدار کی چوکھٹ پر بٹھا دیا _عوام کے حقیقی مینڈیٹ سے محروم حکومت کے وجود میں آنے سے کبھی بھی عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو تے ہیں آج بھی کرپشن، دھشت گردی، مہنگائی، لاقانونیت، بھتہ خوری اور ناجائز منافع خوری اپنے عروج پر ہے ان برائیوں سے نپٹنے کے لیے انتظامی ادارے اور عدالتیں موجود ہیں مگر آٹو کریٹ حکمران طاقت اور اختیار کے ڈنذے کے استعمال کے باوجود ان مزمن جرائم کی بیخ کنی کرنے میں ناکام ہیں نگران دور حکومت میں آرمی چیف کی ذاتی دلچسپی سے سمگلنگ اور فارن کرنسی کی بلیک مارکیٹنگ کو کسی حد کنٹرول کیا گیا تھا مگر اب دوبارہ حالات پرانی ڈگر پر واپس آرہے ہیں کیونکہ اداروں کے اندر موجود کالی بھیڑوں کے مالی مفادات ان سٹیٹ کرائم کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں لہذا جرائم کی دنیا میں مجرموں کو ھلاک کیا جاتا ہے، سزائیں دی جاتی ہیں مگر انکی جگہ لینے والے سیکڑوں جانشین پیدا ہو جاتے ہیں ہماری ساری زندگی اسی امید پر گزر گئی کہ ایک آمر رخصت ہو گا تو جمہوریت کی شمع روشن ہو گی مگر اس آس میں بار بار قوم نئے آئین شکنوں کے شکنجوں میں پھنستی چلی گئ اور جن لکھاریوں کو ضیاء الحق کی آمریت نے نواز، اب پیرانہ سالی کے باوجود پیر تسمہ پا بنے پتہ نہیں کیوں قوم کو روشن مستقبل کے سنہری خواب دکھا رہے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آٹوکریسی میں کبھی بھی عوام کی فلاح و بہبود کے طویل المدت منصوبوں کی بنیاد نہیں رکھی جاتی ہے_مخا لف سیاست دانوں اور اختلاف رائے رکھنے والے اصحابِ فکر و عمل پر چابک برسا کر رٹ آف سٹیٹ قائم کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے کسی سیاسی، فکری، سماجی اور مذہبی گروہ کو دبا کر، ان پر مقدمات قائم کر کے، جیلوں میں قید کر کے طاقتور اشرافیہ کو یہ گماں رہتا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی، معاشی بحران پر قابو پا لیں گے آٹو کریسی کے اس کلچر میں انسانی، قدرتی اور مادی وسائل کی ترقی کو فرسودگی اور کرپشن سے بچانے کا کوئی طریقہ کار ہی وضع نہیں کیا جاتا ہے احتساب کے ادارے ناپسندیدہ سیاست دانوں کو راہ راست پر رکھنے کے لیے صاحب بہادر کے اشارے پر کام کرتے ہیں کل کے مجرم بے گناہ قرار دیے دیے جاتے ہیں اور کل کے صادق اور امین محرم سے مجرم بن جاتے ہیں یہی آٹو کریسی کا کلچر ہے کہ مکمل طاقت، مکمل تباہی اور مخالفانہ نقط نظر قوم کے غدار ٹھہرا دیے جاتے ہیں تو ایسے ماحول میں تخلیق کے بانچھ پن، ہنر کے اناڑی پن، صنعتی پسماندگی اور جامد سوچ و فکر ہماری نسلوں کو بانڈڈ لیبر میں تبدیل کر دیتی ہے سامراج ٹیکنالوجی اور معاشی بالادستی سے قوم کے انسانی اور مادی وسائل پر قابض ہو جاتا ہے اس واردات میں ہمارے حکمران اور مقامی سرمایہ دار شراکت داری کر کے عوام کو ایسے بین الاقوامی معاہدوں میں پھنسا دیتے ہیں کہ جس سے ملک قرضوں کے انبار تلے دب جاتا ہے آج پاکستان کا سالانہ ریونیو کا حجم ہزار ارب ہے تو ڈیٹ سروسنگ 8 ہزار ارب پر جا پہنچی ہے ان استعماری قرضوں سے کیسے جان چھوٹ سکتی ہے اس پر کوئی ماہرین معاشیات نہیں سوچتا ہے اور اگر ڈاکٹر قیصر بنگالی اور ڈاکٹر اشفاق احمد جیسے کوئی آؤٹ آف باکس حل پیش کریں تو آٹو کریٹ حکمران طبقے کو کیسے منظور ہو سکتا ہے بس قرض کی قسط ادا کرنے کے لیے مزید مہنگے قرضے لیں اور اس مقصد کے لیے آئی ایم ایف کی سخت شرائط تسلیم کر کے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھائیں بجلی، گیس، پٹرول مہنگا کریں اور اس طرح ڈھنگ ٹپاؤ معاشی پالیسیوں سے مرتی ہوئی اکا نومی کو ڈرپ لگاتے جائیں مگر 17 ارب ڈالرز کی اشرافیہ کی مراعات اور 16 ارب روزانہ کی کرپشن کو نہ ختم کریں اور وہ آئی ایم ایف جسے عوام استحصالی ادارہ خیال کرتے تھے آج عوام کی نظر میں مسیحا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اگر عمران خان اس کے خلاف بات کرے تو یہ غداری قرار دی جاتی ہے آپ کسی سود خور شخص سے قرضہ لے کر عیاشی کریں تو جو آپ کو قرضہ لینے سے منع کرے یا آپ باز نہ آئیں تو سود خور کو منع کر ے تو وہ محب وطن نہیں ہے کیونکہ ہم ڈیفالٹ ہو جائیں گے سری لنکا ڈیفالٹ ہوا اب دوسالوں میں اپنی معیشت کو سنبھال چکا ہے اور مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد پر آگئی ہے کیونکہ اب وہاں ملک کو لوٹنے والے حکمران بھاگ گئے ہیں جہاں صدر، وزیر اعظم اور تمام اعلی عہدوں پر ایک ہی خاندان کے افراد عرصہ دراز سے براجمان تھے ہم ابھی تک سماج کی قبائلی اور فیوڈل سطح کے خوف، لالچ اور سیاسی جوڑ توڑ کے محرکات سے اوپر نہیں آٹھ سکے ہیں پاکستان کے عوام آغاز ہی میں جاگیرداروں کے سیاسی اور معاشی شکنجے میں پھنس گئے تھے جب تجارت اور صنعت کو فروغ دینے کے لیے صنعت کاروں کو مراعات دی گئیں تو انہوں نے ایوب خان کے دور میں بنیادی مداخل پر سبسڈی لے کر برآمدات سے کڑووں ڈالرز کمائے مگر اس کا بہت تھوڑا حصہ پاکستان لائے اور نہ ہی دولت کی تطہیر نچلے طبقے تک ہونے دی جس پر بھٹو نے ان اداروں کو نیشنلائز کر لیا ہمارے حکمرانوں اور ان کے حواری جاگیر داروں اور کاروباری طبقے نے عوام کی بھاری اکثریت کو غربت کے ایسے منحوس چکر میں پھنسا دیا ہے جن سے نکلنے کے لیے انہیں کوئی راستہ نہیں دکھائی دے رہا ہے آج عوام ایک طرف ساہوکاروں کی غلامی میں پھنسی ہوئی ہے تو دوسری طرف طاقت ور اشرافیہ ناہموار حالات میں عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کی بجائے ان کو معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر کچل رہی ہے عوام جس طرح جینے کے ہاتھوں مر رہے ہیں تو انہیں معیار زندگی کا کم از کم معیار برقرار رکھنے کے لیے کرپشن اور جرائم کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے جب طاقت ور اربوں لوٹ کر نیب کے ساتھ چند کڑور کی پلی بارگینگ کر لے تو عام آدمی بھی اپنی معاشی مجبوریوں کی آڑ لے کر قانون شکنی کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو گا جب کسی ملک میں دولت اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم بڑھتی چلی جائے گی تو ترقی کی بجائے زوال کی طرف سفر تیز سے تیز تر ہو تا ہے ہمارے ارد گرد وہ ممالک جو ہم سے بعد میں آزاد ہوئے وہ اپنے ہنر اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر جمہوری سوشلزم سے آگلی منزل انٹرنیشنل دنیا کی سرحدوں کو عبور کر جکے ہیں برین پاور ٹیکنالوجی نے انکی نسلوں کو آفاقی شہری بنا دیا ہے اور وہ سائنس اور علم کی گلوبل دنیا کے باسی بن چکے ہیں کب وہ وقت پاکستان میں آئے گا جب ہم اپنا نظام تعلیم جدید دنیا کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کر کے نوجوانوں کو اپنی محنت منظم انداز میں استعمال کرنے کے قابل بنا پائیں گے مگر ایسے ہنر مندوں کی فوج تیار کرنے کے لیے کسی مہاتیر، لی کوان اور نیلسن منڈیلا کی ضرورت ہے مگر موروثیت کی داعی فیملی بزنس سیاست دان اور ایکسٹنشن کے شوقین سرکاری ملازمین کے پاس نہ تو کوئی اخلاص ہے، نہ کوئی وژن اور نہ ہی کوئی سیاسی سوچ و فکر ہے جو اس ملک کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے پر لے آئے اب آئی ایم ایف کا معاہدہ ہو گا تو میکرو اکنامکس کے اہداف کی ہیر پھیر سےملک میں مہنگائی اور افراط زر میں کمی کی نوید سنا کر عوام کو میٹھی لوریاں دی جائیں گی اور اقتدار کے آخری سال میاں نواز شریف دوبارہ انقلابی لیڈر بن کر عوام کو آینٹی اسٹیبلشمنٹ کی ڈگڈگی پر تماشا دیکھانے آجائیں

گے جو لوگ سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام سے ملک میں معاشی سمت کا درست تعین ہو جائے گا اور آڈیالہ کے قیدی کو آن بورڈ کیے بغیر ملک میں سیاسی استحکام آجائے گا ان سے عرض ہے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے