میرے ذہن میں سمائے خوف کو تسلّی بخش جواب کی ضرورت : تحریر نصرت جاوید


جب سے ہوش سنبھالا ہے تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ اطلاع بھی اکثر ملی کہ جن دنوں بغداد کے گردمنگول لشکر آخری حملے کو جمع ہورہا تھا تو اس شہر کے باسی اس کے بارے میں قطعا بے خبر وبے نیاز تھے۔ اس شہر کے بازاروں میں روزمرہ زندگی کے مسائل کے حوالے سے بے فکر رہائشی نہایت سنجیدگی سے دھڑوں میں بٹے یہ طے کرنے میں مصروف تھے کہ طوطا حلال ہے یا حرام۔ دورِ حاضر کے سوشل میڈیا پر ہیجان سے مغلوب ہوئے گروہوں کی توتکار دیکھتا ہوں تو فروعی موضوعات پر مناظروں میں الجھا قدیم بغداد یاد آجاتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے مابین بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے نمودار ہوتی فروعات اس تناظر میں مزید پریشان کررہی ہیں۔
منگل کی صبح چھپے کالم میں مذکورہ بالا ہیجان کا ذکر نہایت فکر مندی سے کیا تھا۔ پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایران-اسرائیل کشیدگی کے حوالے سے نمایاں ہوا پھکڑپن میری دانست میں مسلکی بنیادوں پر مسلط ہوئی تقسیم کا اظہار بھی تھا۔ پڑھنے والوں کو مگر مسلکی کے بجائے ملکی نظر آیا۔ اپنی بات لہذا سمجھانہیں پایا۔سانپ گزرجانے کے بعد اب لکیر پیٹتے ہوئے خیال آرہا ہے کہ مجھے ابتداہی میں مسلکی کے بجائے مسلک کی بنیاد پر ہوئی تقسیم لکھنا چاہیے تھا۔ بعدازاں مسلکی کے بجائے ملکی ٹائپ ہوگیا تو پروف ریڈنگ کرتے ہوئے اس کی نشاندہی نہ کرپایا۔
ایک اور غلطی یہ بھی ہوئی کہ ایران کے اسرائیل پر حملے کو والہانہ انداز میں سراہتے گروہ کا ذکر کرتے ہوئے میں نے ان سے منسوب فقرے میں اصل عدد نہیں لکھا۔ مذکورہ گروہ ایران کو 54بہنوں یعنی اسلامی ممالک کا اکلوتا بھائی نہیں بلکہ 56ایسے ممالک کا ذکر کررہا تھا۔ اس فقرے پر اگرچہ مجھے شدید اعتراض اس وجہ سے بھی ہے کیونکہ یہ بہادری کو فقط مردوں سے منسوب کرتا ہے۔ صبر،استقامت اور جرات کے حوالے سے اگرچہ بے شمار خواتین مذکورہ اوصاف کا مجسم اظہار ثابت ہوئیں۔ اس ضمن میں نام لینا شروع کردئیے تو اصل موضوع سے بھٹک جاؤں گا۔
سچی بات یہ ہے کہ عام پاکستانی ہوتے ہوئے فی الوقت میں ایسی بحث میں الجھنے کو ہرگز تیار نہیں ہوں جو فیصلہ کرے کہ اگر اسرائیل اور ایران میں واقعتا تخت یا تختہ والی جنگ چھڑ گئی تو بالآخر کون کامیاب ہوگا۔ بنیادی فکر مندی محدود آمدنی کے حامل اس قلم گھسیٹ کو یہ لاحق ہے کہ اسرائیل اور ایران کے مابین فیصلہ کن جنگ نہ ہو تب بھی ممکنہ جنگ کے امکانات عالمی منڈی کو مضطرب بنائے رکھیں گے۔ اس کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق پٹرول کے ایک بیرل کی قیمت 140ڈالر کو بھی چھوسکتی ہے۔ خدانخواستہ اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوا تو ہمارے ہاں پٹرول کے ایک لیٹر کی قیمت ایک ہزار روپے بھی ہوسکتی ہے۔ محض اس پہلو کے بارے میں سوچتے ہوئے میری نیند حرام ہورہی ہے۔ فکر مندی کی بدولت توانائی سے کاملا محروم ہوا ذہن لہذا اس قابل ہی نہیں رہا کہ ایران-اسرائیل کے مابین بڑھتی کشیدگی کے حوالے سے پھکڑپن کی جانب راغب ہوسکے۔
ایران کے بارے میں ہراعتبار سے متعصب ذہن بھی یہ تسلیم کرنے کو مجبور ہوگا کہ رواں مہینے کے پہلے دن اسرائیل نے دمشق میں ایرانی سفارت خانے سے منسلک ایک عمارت پر میزائل حملوں سے ایران کو جوابی وار کے لئے اکسایا تھا۔ کئی دہائیوں سے ایران کو مغربی میڈیا جنونی ملاؤں کے تسلط میں آیا ملک دکھاکر پیش کرتا ہے۔ مبینہ طورپر جنونی ملاؤں کی حکومت نے مگر جوابی وار کرنے سے قبل نہایت سوچ بچار سے کام لیا۔ اس ضمن میں حکمت عملی تیار ہوگئی تو غیر رسمی انداز میں اسرائیل کے کلیدی اتحادی اور دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے ملک امریکہ کو اس کے بارے میں آگاہ بھی کردیا گیا۔ ایران کے وزیر خارجہ اچانک اومان گئے اور وہاں کی قیادت سے ملاقات کے ذریعے واشنگٹن کو پیغام بھجوادیا گیا۔
غالبا واشنگٹن کو جو پیغام ملا تھا اس کے بارے میں عالمی منڈی کے پسندیدہ ا خبار وال سٹریٹ جرنل کو بھی آگاہ کردیا گیا۔ اس نے گزشتہ ہفتے کے وسط میں اسرائیل پر ایرانی حملے کے امکان کی خبر نہایت اعتماد سے چھاپ دی۔ وہ خبر چھپ گئی تو عالمی منڈی میں تھرتھلی مچ گئی۔ تیل کی قیمت گزشتہ برس کے اکتوبر کے بعد دوبارہ سو ڈالرفی بیرل کی جانب دوڑنے لگی۔ خوف سے لوگوں نے سونا اور ڈالر جمع کرنا بھی شروع کردئے۔ بالآخر ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات ایرانی حملہ ہوگیا۔
ایران نے اپنی سرزمین سے اسرائیل کی جانب 300کے قریب ہتھیار بردار ڈرون طیارے اور چند مہلک میزائل روانہ کئے۔ ان میں سے نوے فیصد کو لیکن اسرائیل کی فضا میں داخل ہونے سے قبل ہی تباہ کردیا گیا۔اسرائیل کے علاوہ امریکہ،برطانیہ اور فرانس کے طیاروں اور فضائی دفاع کے نظام نے بھی اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دفاعی مبصرین کی اکثریت یہ دعوی کررہی ہے کہ ایران سے بھیجے ڈرون اور میزائلوں کی اکثریت اردن کی فضاؤں میں ناکارہ بنادی گئی تھی۔ موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کی بدولت جہاد کے عادی ہوئے اذہان اس خبر کے بعد اردن کی مذمت میں مصروف ہیں۔ اس سوال پر غور کئے بغیر کہ اردن کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہی موجود نہیں جس کے ذریعے وہ ایران سے بھیجے میزائل کو اسرائیل پہنچنے سے قبل ہی ناکارہ بنانے والے ہتھیاروں میں کوئی رکاوٹ کھڑی کرسکتا۔
اردن کے مقابلے میں پاکستان دفاعی اعتبار سے بہت طاقتور ملک ہے۔ ہماری فضاؤں سے بھی لیکن نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت کے دوران امریکی صدر کلنٹن کے حکم پر میزائل افغانستان بھیجے گئے تھے۔ وہ جب اپنے ہدف تک پہنچنے ہی والے تھے تو پاکستان کو اس کے بارے میں آگاہ کردیا گیا۔ اس کے علاوہ ہماری حالیہ تاریخ میں مئی کا ایک مہینہ بھی آیا تھا جب اسامہ بن لادن کے ٹھکانے پر ہماری فضا میں گھس کرحملہ ہوا تھا۔ اردن کی مذمت کے بجائے ہمیں اپنے پہ گزرے واقعات یاد کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا جو برسوں کی لگن اور تحقیق سے دریافت ہوتی ہے محض مردانگی کی بدولت نہیں۔ تحقیق کے مگر ہم عادی نہیں۔ مردانگی کا اظہار عموما راہ چلتی خواتین کو گھورنے کے ذریعے کرتے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی اردن جیسے ملک کو بے بس ہوا دکھائے تو اس کی مذمت کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔
ایران سے بھیجے ہتھیار بردار ڈرون طیاروں کی فضا ہی میں تباہی نے مجھے یہ سوچنے کو بھی مجبور کیا کہ فرض کیا اگر اسرائیل بھیجے گئے میزائل یا ڈرون طیارے ایٹمی اسلحے سے لیس ہوتے تو ان کی فضا میں تباہی تابکاری اثرات کی راہ بھی روک سکتی تھی یا نہیں۔ یہ سوال ذہن میں آتے ہی جسم لرزگیا اور ذہن خوف سے مفلوج۔ کاش کوئی صاحب ِعلم میرے ذہن میں آئے سوال کا تسلی بخش جواب فراہم کرسکے۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت