پارلیمنٹ ہاؤس میں قبائلی اضلاع متعلق خصوصی کمیٹی کا اجلاس


اسلام آباد (صباح نیوز) پارلیمنٹ ہاؤس میں قبائلی اضلاع کی ترقی سے متعلق خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔ فاٹا کی ترقی کیلئے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس جنید اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔  وزیر خزانہ شوکت ترین نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ قبائلی علاقوں کے لیے فنانسنگ کی سہولیات سے متعلق  عبوری انتظامات کے بارے میں کمیٹی سے  تعاون کیا جائے گا۔  این ایف سی ایوارڈ پر تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد نے  کہا کہ سابقہ فاٹا کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومت خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کو سابق فاٹا کے عوام کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا جائے گا۔سابق  فاٹا سے متعلق مالی امور اور این ایف سی پر بریفنگ دی گئی بتایا گیا کہ قابل تقسیم محاصل میں سابقہ فاٹا سمیت پختوانخوا کا حصہ 17.53 فیصد ہے،سابق  فاٹا کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 60 ارب روپے ہے ۔وفاقی حکومت 10 ارب روپے فراہم کر چکی ہے ۔ صوبائی حکومت نے 45 ارب روپے فراہم کیئے شوکت ترین نے یہ بھی واضح کیا کہ  این ایف سی مکمل ہونے میں وقت لگے گا قبائلی اضلاع  کو پیسے دینا بہت ضروری ہے  قبائلی اضلاع کو تین فیصد فنڈز کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں۔

قبائلی لوگ  دہشتگردی سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔پی پی پی رہنما نفیسہ شاہ  نے مطالبہ کیا کہ   این ایف سی کی تشکیل نو کرکے نئے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے ۔  ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ تمام صوبوں اور وفاق اپنی زمہ داریاں پوری کریں۔  شوکت ترین نے کہا کہ سول آرمڈ فورسز کو 170 ارب روپے دے رہے ہیں۔  270 ارب کا احساس پروگرام وفاق اسپانسر کر رہا ہے ۔ ایچ ای سی کو بھی 120 ارب روپے فراہم کیئے جارہے ہیں۔  سماجی تحفظ صوبوں کی بھی زمہ داری ہے،  وہ بھی حصہ ڈالیں، وزیر خزانہ نے کہا کہ نئے این ایف سی میں اس مسئلے کا حل نکالیں گے۔ خصوصی کمیٹی میں تمام جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے،۔

 اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ  افغانستان کی صورت حال سے خطے میں تبدیلی آچکی ہے ۔  ہمارے پاس وقت کم ہے۔سابقہ فاٹا کیلئے تعمیری کام کرنا چاہتے ہیں ۔  اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ فاٹا ایک پسماندہ اور محروم علاقہ ہے ۔ ہمیں ایسے معاملات پر سیاست نہیں کرنی چاہئے ۔سب مل کر فاٹا کی بہتری کیلئے کام کریں گے۔  دہشتگردی کی وجہ سے سابق فاٹا معاشی، اقتصادی اور سماجی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اس لیے اس علاقہ کی معاشی اور اقتصادی ترقی کے لیے سب کو ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ علاقے میں سماجی و اقتصادی شعبوں کی ترقی سے سابق فاٹا کے عوام  خوشحال ہونگے اور لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو گا۔انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں جو  ناقابل فراموش ہیں۔