تاشقند(صباح نیوز) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے جمہوریہ ازبکستان کی اولی مجلس (ایوانِ بالا)کی چیئرپرسن تانزیلہ کے نرببائیوا سے تاشقند میں انٹر پارلیمنٹری یونین (IPU) کے 150ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔ یہ دونوں رہنماں کے درمیان دوسری ملاقات تھی، پہلی ملاقات باکو میں APA اجلاس کے دوران ہوئی تھی۔یہ چیئرمین سینیٹ کا ازبکستان کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ 2011 میں بطور وزیراعظم پاکستان ازبکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور ازبکستان کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات کو اجاگر کیا، جو صدیوں پر محیط مشترکہ ثقافت، مذہب اور تاریخ پر مبنی ہیں۔ انہوں نے پارلیمانی تعاون، تجارت، اور روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیا تاکہ دو طرفہ تعلقات کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔چیئرمین سینیٹ نے IPU کے 150ویں اجلاس کی کامیاب میزبانی پر ازبکستان کو سراہا اور اکتوبر 2024 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات پر ازبک قیادت کو مبارکباد دی۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ فروری 2025 میں پاکستان کے وزیراعظم کے دور ازبکستان نے اسٹریٹجک تعاون کو وسعت دینے کی راہ ہموار کی، جس دوران کئی ایم او یوز (MoUs) پر دستخط کیے گئے۔دونوں رہنماں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اعلی سطحی دوروں میں اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔
اس موقع پر پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سڑک اور ریل کے رابطے خصوصا ٹرانس افغان ریلوے پراجیکٹ پر بھی گفتگو ہوئی، جو علاقائی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے۔ملاقات میں دو طرفہ تجارت میں حالیہ پیش رفت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجارتی اعدادوشمار اس کی اصل صلاحیت سے کافی کم ہیں۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ چند برسوں میں دو طرفہ تجارت کو کم از کم دو ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا، جو وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دور ازبکستان کے دوران طے پانے والے ہدف کے مطابق ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے باقاعدہ مشترکہ کاروباری فورمز، سنگل کنٹری نمائشوں، اور لاجسٹک فورمز کے انعقاد پر زور دیا تاکہ پاکستانی و ازبک تاجروں کے درمیان اقتصادی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔ دونوں ممالک کے پارلیمانوں میں دوستی گروپس بھی موجود ہیں، اور تجویز دی گئی کہ ان گروپوں کے ذریعے مختلف شعبوں میں مسائل کا حل مشترکہ طور پر نکالا جا سکتا ہے۔پاکستان اور ازبکستان کے جغرافیائی قربت کو مدنظر رکھتے ہوئے، دونوں فریقوں نے فضائی راستوں میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سیاحت، تجارت، اور عوامی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔
چیئرمین سینیٹ نے لاہور اور تاشقند کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی کا خیر مقدم کیا اور دونوں ممالک کے دیگر بڑے شہروں تک فضائی رابطے کے دائرے کو وسیع کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ دونوں ممالک کے ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں میں پارلیمانی دوستی گروپس موجود ہیں، جو حالیہ برسوں میں فعال رہے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پارلیمانی وفود کے تبادلوں اور مشترکہ اجلاسوں کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ دونوں ممالک کی مقننہ کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ملاقات کے اختتام پر معزز چیئرمین سینیٹ نے محترمہ تانزیلہ کے. نربائیوا پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی تاکہ بین الپارلیمانی تعلقات کو مزید تقویت دی جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، ازبکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اعلی سطحی روابط کا تسلسل خطے کے مشترکہ مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔دونوں رہنماں نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کیا اور ایک زیادہ مربوط، خوشحال اور اسٹریٹجک طور پر ہم آہنگ شراکت داری کی جانب بڑھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔