غزہ (صباح نیوز)فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے خبردار کیا ہے کہ فلسطین کی عسکریت پسند جماعت حماس نے اسرائیلی حکام کو خبردار کیا ہے کہ اگراسرائیل نے غزہ میں طاقت اور فضائی حملے جاری رکھے تو یرغمالیوں کی بازیابی فضول ہوگی۔
حماس نے اپنے جاری کر دہ بیان میں کہا ہے کہ حماس قبضے میں رکھے گئے اسیروں کو زندہ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، لیکن بے ترتیب صہیونی (اسرائیلی) بمباری ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دے گی۔اسرائیل نے گزشتہ ہفتے غزہ کی پٹی پر شدید فضائی حملے دوبارہ شروع کیے، جس کے بعد زمینی کارروائیاں کی گئیں اس سے جنوری میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد کا سکون ختم ہو گیا ہے۔
فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی جوابی فوجی کارروائی میں اب تک غزہ میں کم از کم 50,183 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں جبکہ گزشتہ ہفتے سے 830فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔7اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملے کے دوران پکڑے گئے 251یرغمالیوں میں سے 58اب بھی غزہ میں قید ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق 34یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حماس کو خبردار کیا کہ اگر گروپ نے یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار کیا تو اسرائیل غزہ کے مزید علاقوں پر قبضہ کرے گا۔
حماس جتنی زیادہ ہمارے یرغمالیوں کی رہائی سے انکار کرے گی، ہم اتنا ہی زیادہ دبائو ڈالیں گے اس میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ علاقوں پر قبضہ بھی شامل ہے۔وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی خبردار کیا کہ اگر حماس یرغمالیوں کو رہا نہ کرے تو اسرائیل غزہ کے کچھ حصوں کو اپنے قبضے میں لے لے گا۔میں نے (فوج)کو غزہ میں مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔حماس جتنا زیادہ یرغمالیوں کو آزاد کرنے سے انکار کرے گا، اتنا ہی زیادہ علاقہ کھوئے گا، جس کا اسرائیل سے الحاق ہو جائے گا۔