فتنہ در آستین: جب دوست دشمن بن جائیں ۔۔۔ تحریر : عاطف محمود

جغرافیائی سیاست کے مسند پر بعض تعلقات دوستی کی چادر میں لپٹے وہ خنجر ثابت ہوتے ہیں جو کمر میں پیوست کیے جاتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکمرانی اور پاکستان کی ریاست کے درمیان تعلق اسی تشبیہ کا عکس بن چکا ہے۔ برسوں کی قربت، نظریاتی ہم آہنگی، اور نام نہاد برادرانہ تعلق اب ایک ایسے فتنہ کا روپ دھار چکا ہے جس نے پاکستان کی قومی سلامتی کو بےیقینی کی دھند میں دھکیل دیا ہے۔
افغان طالبان اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی اور عملی تعاون نے پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہوں میں بدل کر پاکستان پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ اگرچہ افغان طالبان نے دوحہ معاہدے کے تحت اپنی سرزمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر وہ یا تو ان عناصر کے خلاف کارروائی سے قاصر ہیں یا دانستہ چشم پوشی اختیار کر رہے ہیں۔ پاکستان کو اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے عسکری، سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر یکجا حکمت عملی اپنانا ہوگی، ورنہ یہ آگ خطے کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے۔
تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جو کبھی افغان طالبان کا ہمسایہ نظریاتی گروہ سمجھا جاتا تھا، اب اُنہی کے سائے میں پروان چڑھ کر پاکستان کی ریاست پر حملہ آور ہے۔ یہ وہی طالبان ہیں جنہیں پاکستان نے عالمی تنہائی سے نکال کر ایک تسلیم شدہ قوت بنانے کی کوشش کی، مگر اب وہی طالبان ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں پر خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں۔
افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان پیچیدہ تعلقات طویل عرصے سے بین الاقوامی سیاسی گفتگو کا محور رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی دہشت گردانہ کارروائیاں ایک بار پھر زور پکڑ چکی ہیں۔ اس شدت پسند گروہ نے جو پاکستانی ریاست کے خلاف شدید دشمنی رکھتا ہے، حالیہ برسوں میں اپنی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث یہ سوال شدت اختیار کر چکا ہے کہ آیا افغان طالبان ٹی ٹی پی کو سہولت فراہم کر رہے ہیں یا اس کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ افغان طالبان نے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت کیوں دی؟
تاریخی طور پر، پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات ہمیشہ ہی پیچیدہ مگر تزویراتی نوعیت کے رہے ہیں۔ یہ تعلقات 1990 کی دہائی کے اواخر میں اس وقت واضح طور پر نظر آئے جب پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ تاہم، 2007 میں تحریکِ طالبان پاکستان کے قیام نے خطے کی سیکیورٹی کی صورتِ حال کو یکسر بدل دیا۔ یہ گروہ، جو افغان طالبان سے نظریاتی قربت رکھتا ہے، مگر اپنے اہداف میں مختلف ہے، امریکہ کے ساتھ پاکستان کے اتحاد اور قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ ان کارروائیوں نے مقامی آبادی میں غم و غصہ اور انتہا پسندی کو جنم دیا، جس نے ایک ایسا عسکری گروہ تشکیل دیا جس کا مقصد پاکستانی ریاست کا تختہ الٹنا بن گیا۔
اگرچہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے نظریاتی اصولوں میں مشابہت پائی جاتی ہے، لیکن ان کے عملی اہداف جدا ہیں۔ افغان طالبان نے ہمیشہ افغانستان کے اندر اقتدار کے حصول کو ترجیح دی ہے، جب کہ ٹی ٹی پی کی تمام تر توجہ پاکستان کو نشانہ بنانے پر مرکوز رہی ہے۔ اسی تضاد نے ان کے باہمی تعلقات کو پیچیدہ اور کبھی کبھی متضاد بنا دیا ہے۔ افغان طالبان نے بعض اوقات ٹی ٹی پی کے حملوں سے خود کو لاتعلق ظاہر کیا، لیکن انہوں نے کبھی بھی ان کے محفوظ ٹھکانوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے عملی اقدام نہیں کیا۔
2021 میں جب امریکی افواج افغانستان سے انخلا کر گئیں اور طالبان نے دوبارہ اقتدار سنبھالا، تو امید کی جا رہی تھی کہ خطے میں استحکام آئے گا۔ لیکن اس کے برعکس، ٹی ٹی پی کو ایک نئی توانائی ملی اور اس نے پاکستان میں حملوں میں اضافہ کر دیا۔ اقوامِ متحدہ کی تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق، ٹی ٹی پی نے افغانستان میں نئے سیاسی حالات سے فائدہ اٹھا کر اپنے محفوظ اڈے مضبوط کیے، جس سے ان کے حملے مزید منظم اور خطرناک ہو گئے۔
پاکستان نے اس سلسلے میں افغان طالبان سے سخت احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کریں، جس میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ لیکن افغان طالبان کا جواب مبہم، انکاری اور دفاعی رہا۔ وہ ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کو پناہ دیتے ہیں، اور الٹا پاکستان پر داخلی مسائل کی ذمہ داری ڈال دیتے ہیں۔
طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کی متعدد وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے، دونوں گروہوں کے درمیان گہرے قبائلی اور نظریاتی رشتے ہیں، جو طالبان کو کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے باز رکھتے ہیں۔ طالبان کے کئی کمانڈر اور جنگجو ٹی ٹی پی کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں، اور انہیں بھائیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ دوسری طرف، طالبان خود افغانستان میں اندرونی استحکام، معیشت اور عالمی تنہائی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی ان کے محدود وسائل کو مزید تقسیم کر دے گی اور ان کے اندر اختلافات کو بڑھا سکتی ہے۔اس کے علاوہ، اس معاملے کا ایک جغرافیائی سیاسی پہلو بھی ہے۔ افغان طالبان ممکنہ طور پر ٹی ٹی پی کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ طالبان اس مسئلے کو استعمال کر کے پاکستان کو سرحدی تنازعات یا سفارتی تسلیم شدگی جیسے معاملات میں نرمی پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔
سرحد پار سے دہشت گردی کے بڑھتے واقعات نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ پاکستان نے اپنی سرحد کو مضبوط بنانے، فضائی حملے کرنے اور ٹی ٹی پی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے، لیکن دشوار گزار سرحدی علاقے اس مہم کو نہایت مشکل بنا دیتے ہیں۔ سفارتی کوششیں کی گئیں، جن کے نتیجے میں کچھ وعدے تو حاصل ہوئے، مگر ابھی تک ان وعدوں کا عملی اطلاق نظر نہیں آ رہا۔
بین الاقوامی برادری بھی اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے کہ افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہ بن رہا ہے۔ اگر ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو نہ روکا گیا تو یہ دیگر شدت پسند عناصر کو بھی حوصلہ دے گا اور پورے خطے کو عدم استحکام کی جانب دھکیل دے گا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی سطح پر دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے جو کوششیں کی گئیں، ان کا ضیاع افغانستان کو دوبارہ جہادی عناصر کے لیے پناہ گاہ بننے دینے سے ہو جائے گا۔
اب طالبان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ یا تو وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کر کے اپنی بین الاقوامی حیثیت بہتر بنائیں اور خطے کے استحکام کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، یا پھر اس چشم پوشی کو جاری رکھ کر مزید سفارتی تنہائی اور ممکنہ عالمی پابندیوں کا سامنا کریں۔ تاریخ یہ واضح کرتی ہے کہ وہ حکومتیں جو شدت پسندی کو فروغ دیتی ہیں یا اس سے چشم پوشی اختیار کرتی ہیں، بالآخر خود اس کی لپیٹ میں آ جاتی ہیں۔
پاکستان کے لیے ٹی ٹی پی کا دوبارہ ابھرنا ایک سنگین قومی سلامتی کا بحران ہے، جس کا حل صرف عسکری طاقت سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے افغان طالبان کے ساتھ مؤثر سفارت کاری، سرحدی تحفظ میں اضافہ، اور عالمی برادری کے ساتھ ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں، ورنہ یہ آگ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
پاکستان اپنی سرحدیں محفوظ بنانے کے لیے عسکری کارروائیوں، فضائی حملوں اور انسدادِ دہشت گردی کی مہمات میں مصروف ہے۔ لیکن جب دشمن آپ کے دوست کے آنگن میں پل رہا ہو، تو بندوق سے زیادہ سوالات اٹھتے ہیں۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جو آج پاکستان کو درپیش ہے۔ بین الاقوامی برادری بھی دیکھ رہی ہے کہ افغانستان، جو کبھی شدت پسندوں کی پناہ گاہ تھا، اب پھر اسی راہ پر گامزن ہے۔ اگر افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف بروقت کارروائی نہ کی، تو یہ فتنہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔اب فیصلہ طالبان کے ہاتھ میں ہے: یا تو وہ ثابت کریں کہ وہ ایک ذمہ دار حکومت ہیں، یا پھر اس فتنہ کو گلے لگا کر تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہونے کے لیے تیار ہو جائیں۔ یا وہ ٹی ٹی پی کے خلاف بھرپور اقدام کر کے اپنی نیت اور نکتۂ نظر واضح کریں، یا پھر خاموشی اور عدم مداخلت کی روش اپنا کر سفارتی تنہائی اور ممکنہ عالمی نتائج کا سامنا کریں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو سلطنتیں شدت پسندی کو پرورش دیتی ہیں، وہ آخر کار اسی کی راکھ میں دفن ہو جاتی ہیں۔
یہ وقت ہے کہ پاکستان اپنی افغان پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے۔ کیا ہمیں ایک ایسی “دوستی” نبھانی چاہیے جو ہمارے بچوں کے جنازے لا رہی ہے؟ کیا ہم ایک ایسی نظریاتی برادری کو تسلیم کریں جو ہماری خودمختاری پر ضرب لگا رہی ہے؟ تاریخ ہمیں موقع دے رہی ہے کہ ہم آنکھیں کھولیں۔ ہمیں اب نرم الفاظ، مہذب احتجاج، اور بین السطور پیغامات سے آگے بڑھ کر ایک نئی حکمتِ عملی ترتیب دینی ہوگی۔ افغان طالبان کو واضح الفاظ میں بتانا ہوگا: یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں، یا ہمارے دشمنوں کے ساتھ۔ تیسرا کوئی راستہ نہیں بچا۔