اکھنڈ بھارت کا خواب…تحریر محمد شہباز


بھارت میں برسراقتدار بی جے پی اور اس اقتدار کے پیچھے اصل محرک RSS کا نظریہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔گو کہ اس سے قبل بھی بی جے پی بھارت میں اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان رچکی ہے اور اٹل بہاری واجپائی دو بار وزارت عظمی کی کرسی پر فائز رہے ہیں،مگر 2014 میں بی جے پی بالعموم اور نریندرا مودی بالخصوص جو کہ RSS کی کوکھ سے جنم لے چکا ہے ،وہی اصل سر خیل ہے۔2014 سے 2019 تک بی جے پی بھارت میں اقتدار کیلئے ایک ٹیسٹ کیس ثابت ہوئی،مگر 2019 سے لیکر اب تک بی جے پی کا اقتدارسانپ کا پھن پھلائے ہر ایک کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔2019 میں بی جے پی نے اس نعرے پر انتخاب لڑا تھا کہ جموں وکشمیر کو بھارتی آئین میں حاصل خصوصی اختیارات یعنی آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کیلئے 300 سو سے زیادہ سیٹیں چاہئیں۔ بی جے پی نے 300 کا ہنسہ آسانی سے پار کرلیا،واقعہ پلوامہ بی جے پی کیلئے سونے پر سہاگہ کا کام کرگیا۔جس میں 43 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔بی جے پی نے نہ صرف اس واقعے کو اپنے انتخابی فائدے کیلئے خوب استعمال کیا بلکہ اس واقع کی اڑ میں پاکستان پر حملے کا جواز بھی بنایا اور پھر بھارتی جہازوں نے پاکستانی شہر بالاکوٹ کے جنگل میں پے لوڈ بھی گرایا۔بی جے پی نے اس سے پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کا نام دیا تو محض 24 گھنٹوں کے اندر اندر پاکستان نے اپنا حساب چکا دیا۔27فروری کو پاکستانی ہوا بازوں نے نہ صرف بھارت کے دو مگ 21 طیارے مار گرائے بلکہ ایک تباہ شدہ بھارتی طیار ے کے پائلٹ ابھی نندن کو زندہ پکڑ لیا گیا۔اس کاروائی نے پوری دنیا میں بھارت کی جنگ ہنسائی کا سامان کیا اور خود بھارت کے حریف امریکی تجزیہ نگاروں اور امریکی میڈیا نے 27فروری کے واقعے کو ڈاگ فائٹ کا نام دیکر اس میں بھارت کے چت ہونے کا کھلے بندوں اعتراف کیا۔
بی جے پی نے 05 اگست 2019میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اس سے بھارت کے زیر انتظام علاقوں میں ضم کرکے اپنے انتخابی نعرے پر عملدرآمد کا وعد ہ پورا کیا۔اب 2024 ہے اور بھارت میں انتخابی عمل جاری ہے،جو 19اپریل سے شروع ہوا اور چھ مراحل میں مکمل ہوگا۔04 جون کو انتخابی نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔بظاہر بی جے پی کیلئے تیسری بار برسر اقتدار آنے کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں اور سیاسی پنڈت بھی اس کی پیشن گوئی کررہے ہیں۔لیکن اب کی بار بی جے پی 400 پار کا نعرہ لگارہی ہے۔بی جے پی لیڈر انتخابی جلسوں میں کھلے عام یہ نعرے لگارہے ہیں کہ بھارت کو اگر ہندو راشٹر بنانا ہے تو 400 سیٹیں دالانا ہے۔یعنی پھر ایکبار بھارت میں انتخابات مذہبی انتہا پسندی کے نام پر لڑے جارہے ہیں اور اس کیلئے ہندتوا کارڈ استعمال کیا جارہا ہے۔تجزیہ کار اور بھارت کی اپوزیشن جماعتیں بی جے پی پرالزام لگارہی ہیں کہ 400 سیٹیں دلانے کا مطالبہ دراصل بھارتی آئین کو بیک جنبش قلم تبدیل کرکے اس کا حلیہ ہی بگاڑنا ہے۔یعنی بھارتی آئین میں موجود شقوں کو ہمیشہ کیلئے بدلنا ہے،جن میں بھارت کو سیکولر قرار دیا جاچکا ہے اور مذہبی بنیادوں پر امتیاز کی ممانعت ہے۔گو کہ بھارت میں ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر ہی مسلمانوں،دلتوں،سکھوں،عیسائیوں اور پارسیوں کیساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔لیکن اب تو مودی اور ریاست اتر پردیش جو کہ بھارت کی سب سے بڑی ریاست ہے کے وزیر اعلی یوگیہ ادتیہ ناتھ کھلے عام مسلمانوں کا نام لیکر انہیں نشانہ بنانے کا اعلان کررہے ہیں۔مودی نے مسلمانوں کو گالی کی صورت میں طنز کیا کہ کیا بھارت کی اپوزیشن جماعتیں ان لوگوں پر پیسہ خرچ کرنا چاہتی ہیں جو سب سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں؟جبکہ یوگی ادتیہ ناتھ نے اترپردیش میں ایک انتخابی ریلی میں تقریر کرتے ہوئے یہاں تک کہہ ڈالا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں اور شناخت رکھتی ہیں لہذا دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں اور اگر دونوں کے درمیان ٹکرائو بھی ہوتا ہے تو یہ کو ئی اچھنبے کی بات نہیں ہوگی،یعنی دوسرے الفاظ میں یوگی ادتیہ ناتھ مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کررہے ہیں۔
اگر بھارت میں جاری انتخابی عمل میں بی جے پی اب کی بار 400 پار کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو بھارت میں رہنے والی اقیلیتوں کا مستقبل کیا ہوگا؟کیونکہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ پور ی دنیا میں مذاہب کے نام پر کئی ممالک موجود ہیں تو اسی نام پر ایک ہندو راشٹر کیونکر ممکن نہیں ہوگا۔BJP اور RSS صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتیں بلکہ اکھنڈ بھارت یعنی Greater India ان کے مطمع نظر ہے۔طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اکھنڈ بھارت کا نقشہ بھارتی پارلیمنٹ میں بھی آویزاں کیا گیا ہے۔اکھنڈ بھارت کے نقشے میں جن ممالک کو شامل کیا گیا ،ان میں پاکستان،بنگلہ دیش،سری لنکا،مالدیپ،بھوٹان،افغانستان اور نیپال شامل ہیں۔ان ممالک میں صرف پاکستان اکھنڈ بھارت کے عزائم میں رکاوٹ ہے اور بھارتی حکمرانوں کی جانب سے اپنی پارلیمنٹ میں اکھنڈ بھارت کا نقشہ اویزان کرنے پر صرف پاکستان نے ہی سخت ردعمل کا اظہار کرکے اس سے بھارتی حکمرانوں کی جنونیت اور پورے برصغیر جنوبی ایشیاکے امن و استحکام کو تباہی سے دوچار کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔بھارتی حکمران بھی ا س بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ان کے مذموم عزائم کی تکمیل میں واحد رکاوٹ صرف پاکستان ہی ہے۔باقی ممالک اور ریاستوں کیساتھ بھارت کا سلوک طفیلی ریاستوں جیسا ہے ،گو کہ مالدیپ کے موجودہ صدر محمد معزو نے گزشتہ برس اس نعرے پر انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی کہ جزیرہ نما مالدیپ میں موجود بھارتی فوجیوں کو نکال باہر کیا جائے گااور پھر اایسا ہی ہوا۔600 بھارتی فوجی اہلکاروں کو مالدیپ خالی کرنا پڑا۔دو روز قبل مالدیپ میں محمد معزو کی جماعت نیشنل کانگریس نے عام انتخابات میں بھی دو تہائی اکثریت حاصل کی ۔محمد معزو پہلے ہی اعلان کرچکے تھے کہ اگر ان کی جماعت برسراقتدار آئی تو مالدیپ کی پالیسیوں کا رخ بھارت کے بجائے چین کی جانب موڑ دیا جائے گا۔محمد معزو گزشتہ برس چین کے دورے پر بھی گئے تھے اور چین کیساتھ بڑے معاہدے بھی کرکے آئے تھے۔ حسینہ واجد کی سربراہی میں بنگلہ دیش گزشتہ بارہ تیرہ برسوں سے بھارت کی گود میں گر چکا ہے،لیکن اب وہاں بھی بنگلہ دیش چھوڑ دو تحریک زور پکڑ رہی ہے۔نیپال بھی بھارت کو آنکھیں دکھا چکا ہے۔نیپال اپنے دریا لیپو لیک پر بھارتی دعوی مسترد کرچکا ہے۔جبکہ سری لنکا جو کہ آج کل خراب معاشی صورتحال سے دوچار ہے ،وہ بھی بھارتی عزائم سے واقف اور ماضی میں LTTEکے ہاتھوں بھارت کی مدد سے اپنے ہزاروں لوگوں کے قتل عام سے دوچار ہوچکا ہے۔افغانستان میں برسر اقتدار لوگ بھارت کی بت پرستی اور مسلمانوں کیساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے آگاہ ہیں۔بھوٹان کے بھی بھارت کیساتھ کوئی اچھے تعلقات نہیں ہیں۔البتہ ان تمام ممالک اور ریاستوں میں پاکستان واحد ایٹمی طاقت ہے ،جو بھارت کی آنکھوں میں ا نکھیں ڈال کر اس سے للکارتا ہے۔پہلی جنگ عظیم میں کروڑوں لوگوں کے قتل عام کے بعد لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں لایا گیا تھا لیکن یہ تنظیم بھی بالاخر1946 میں اپنی موت آپ مرچکی ہے ۔پھر اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا اور سرحدوں کی باضابط حد بندی کی گئی۔سوائے مقبوضہ جموں وکشمیر اور فلسطین میں سرحدوں کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔لیکن بھارت کے جنونی حکمران برصغیر جنوبی ایشیا میں از سر نو سرحدوں میں رد و بدل کے خواب دیکھ رہے ہیں،اور اس کیلئے کھل کر اپنے نظریات کا پرچار بھی کررہے ہیں۔جو نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر بلکہ عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔اقوام متحدہ اور عالمی برادری کا بھارتی پارلیمنٹ میں اکھنڈ بھارت کا نقشہ آویزان کرنے پر خاموشی بھارتی خاکوں میں رنگ بھرنے کے مترادف ہے۔جیسے ارض فلسطین پر صہیونی اسرائیل کے ہاتھوں نہتے فلسطیینوں کی نسل کشی پر دنیا خاموش تماشائی ہے اور یہ اسی مجرمانہ خاموشی کا ہی نتیجہ ہے کہ 07 اکتوبر 2023 سے لیکر آج کے دن تک 35000 ہزار فلسطینی اسرائیلی بربریت اور دہشت گرد ی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں،جبکہ اسرائیلی بربریت رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔البتہ اگر دنیا کے ٹھیکیداربرصغیر جنوبی ایشیا میں بھارت کو دوسرا اسرائیل اور باقی ممالک کو فلسطین سمجھنے کی بھونڈی غلطی کا خو د کو مرتکب ٹھراتی ہے تو یہ ان کی تباہی کا بھی باعث ہوگی،کیونکہ نہ بھارت اسرائیل ہے اور نہ ہی اس خطے میں موجود دوسرے ممالک فلسطین ۔مملکت خدادا د پاکستان اسی بنیاد پر خود کو ایٹمی طاقت بنا چکا ہے کہ اس سے ایک ایسے برہمن سامراج کی ذہنیت کا سامنا ہے جس نے 77 برس گزرنے کے باوجود بھی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور آج بھی ریشہ دوانیوں میں مصروف پاکستان کو نقصان پہنچانے اور زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ایسے میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو بھارتی پارلیمنٹ میں اکھنڈ بھارت کے آویزان کردہ نقشے کا سخت نوٹس لینا چاہیے ،اس پہلے کہ دیر ہوجائے اور پھرہاتھ ملنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔