جمو ں وکشمیر کو فروخت کیا جارہا ہے، کشمیری جاگ جائیں عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی


سری نگر: مقبوضہ کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے بھارتی شہریوں کومقبوضہ کشمیر میں اراضی خریدنے کا حق دینے  کے قوانین مسترد کردیے ہیں۔ اس فیصلے کو جموں و کشمیر کے لوگوں کے اختیارات ختم کرنے، جمہوری حقوق سے محروم رکھنے اور وسائل پر قبضہ کرنے کے سلسلے کی ایک اور مذموم کوشش قرار  دیا ہے ۔

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلی  عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی ، یوسف تاری گامی ،غلام نبی ملک،ہرش دیو سنگھ ، اور دوسرے رہنماوں نے بھارتی اعلان پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔نیشنل کانفرنس کے  نائب صدر عمر عبداللہ  نے نئے اراضی قوانین کو مسترد کرتے ہوئے اسے جموں کشمیر کو فروخت کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

عمر عبداللہ نے اراضی ملکیت قانون میں ترمیم کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر زرعی اراضی کی خریداری اور زرعی اراضی کی منتقلی کو آسان بنا کر جموں وکشمیر کو اب فروخت کرنے کیلئے رکھا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت  نے نئے متعارف کئے قوانین میں ڈومیسائل کی صورت میں رکھی گئی تھوڑی سی رعایت کا بھی خاتمہ کیا ہے۔ عمر نے کہا کہ جموں وکشمیر کی اراضی کو اس طرح سے فروخت کیلئے رکھنا ان آئینی یقین دہانیوں اور معاہدوں سے انحراف کرنا ہے جو جموں و کشمیر اور یونین انڈیا کے درمیان رشتوں کی بنیاد ہیں۔ یہ اقدامات اس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیر کی شناخت ، انفرادیت اور اجتماعیت کو ختم کرنا ہے۔

ایسے اقدامات سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ نئی دلی کو جموں وکشمیر کے لوگوں کے احساسات اور جذبات کیساتھ کوئی لینا دینا نہیں بلکہ ان کو یہاں کی زمین کیساتھ مطلب ہے۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں زمینوں سے متعلق جاری نوٹیفکیشن حکومت ہند کی طرف سے جموں و کشمیر کے لوگوں کے اختیارات ختم کرنے، جمہوری حقوق سے محروم رکھنے اور وسائل پر قبضہ کرنے کے سلسلے کی ایک اور مذموم کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنے اور وسائل کی لوٹ مار کے بعد اب زمینوں کی کھلے عام فروخت کے لئے راہ ہموار کی گئی ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ)کے سینئر لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی محمدیوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ اراضی قانون میں ترامیم دن دہاڑے ڈاکہ ہے۔ تاریگامی نے بھی ایک ٹوئٹ میں کہا ِیہ جموں کشمیرکے لوگوں کو مزیدبے اختیارکرنے کی کڑی ہے اوران کی اراضی کو کارپوریشنوں کو خریدنے کیلئے بہم رکھنا ہے ۔یہ سلامتی، ترقی اورقومی یکجہتی کے نام پردن دہاڑے ڈاکہ ہے ۔

ادھر سی پی آئی (ایم)کے سیکریٹری غلام نبی ملک نے کہا ہے کہ جموں کشمیرمیں اراضی سے متعلق مرکزی حکومت کے نئے قوانین نے جموں کشمیرسے باہر کے لوگوں کویہاں زمین خریدنے کی راہ ہموار کی ہے جس سے  دفعہ370اور35Aکومنسوخ کرنے کے پیچھے بھاجپا کے اصلی ارادے عیاں ہوگئے ہیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرکے آئین کوختم کرکے دفعہ370اور35Aکو منسوخ کرنے کامقصد جموں کشمیرمیں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ اب ایسے قوانین سے یہ صاف ہوتا ہے ۔یہ ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے جوابھی بھی بھاجپا حکومت کے جموں کشمیر سے متعلق ارادوں سے خوش فہمی میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ جب1927میں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی ڈوگرہ اور کشمیری پنڈت تعلیم یافتہ تھے اورانہوں نے اقامتی ضمانت حاصل کی۔

انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی باہر والایہاں زمین نہ خریدسکے اور نہ ہی ملازمت حاصل کرسکے ۔مہاراجہ نے1927میں اسٹیٹ اسبجیکٹ قانون کانفاذعمل میں لایا ۔کسی نے مخالفت نہیں کی ۔انہوں نے کہا کہ5اگست2019کو مرکزی حکومت کے دفعہ370اور35Aکو منسوخ کرنے کے فیصلے کیخلاف عدالت عظمی میں رٹ پٹیشن پر سماعت ہورہی ہے اورنئے قوانین کو لاگوکرنا عدالت کی توہین کے مترادف ہے۔جموں یونیورسٹی کے لا سکالر اور پیرپنچال کے سماجی کارکن سہیل ملک نے کہا ہم ایسے قوانین کو مسترد کرتے ہیں، یہ ایک غیر آئینی اقدام ہے جس کو واپس پلٹنا چاہئے، لوگوں میں سخت ناراضگی ہے۔کانگریس پارٹی ترجمان اعلی رویندر شرما نے بتایا کہ وہ نئے اراضی قوانین کو مسترد کرتے ہیں جس میں سب کو جموں و کشمیر میں زمین خریدنے کی اجازت دی گئی ہے جو بی جے پی کی یقین دہانیوں کے خلاف ہے۔

شرما نے کہالوگوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ان کو زمین اور ملازمت کے حق پر تحفظ حاصل ہوگا، یہاں تک کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد بھی۔انہوں نے مزید کہایہ خدشات درست ہوچکے ہیں اور بی جے پی حکومت نے سابق ڈوگرہ ریاست میں مفادات، ثقافت اور لوگوں کی شناخت کی قیمت پر اراضی کی فروخت میں آسانی فراہم کی ہے۔جموں وکشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی (جے کے این پی پی) چیئرمین ہرش دیو سنگھ نے کہا بی جے پی کے ذریعہ جمو ں وکشمیر کو فروخت کیا جارہا ہے، ہم لوگوں سے جاگنے کی اپیل کریں گے۔سنگھ نے کہاانہوں نے لوگوں کی خواہشات کے خلاف ہم پر قانون نافذ کئے، وہ براہ راست دہلی سے قانون بنا رہے ہیں۔اپنی پارٹی جنرل سیکریٹری وکرم ملہوترہ نے کہا یہ لوگوں کے ساتھ غداری ہے، نئے زمینی قوانین ڈوگرہ ثقافت کے لئے خطرہ ہوں گے، یہ ڈوگرہ ثقافت پر حملہ ہوگا۔

مزید پڑھیں: سری نگرکے مضافات میں2 کشمیری نوجوانوں کو گولی مار کر شہید کر دیاگیا

نئی دہلی میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) نے جموں کشمیرمیں اراضی سے متعلق قوانین میں ترامیم کو شاہراہ پر ڈاکہ زنی سے تعبیرکیا ہے۔ایک ٹوئٹ میں یچوری نے کہا ،یہ شاہراہ پرڈاکہ زنی ہے ۔جموں کشمیرکے وسائل  اوریہاں کے خوب صورت اندرونی مناظر کی لوٹ ہے۔لوگوں کے تمام جمہوری ڈھانچوں کی تباہی کے بعد کیااگلا قدم جبری طور لوگوں کی اراضی کو حاصل کرکے اپنے یاردوستوں کے ہاتھ دینا ہے تاکہ حکمران جماعت کی جیبیں بھری رہیں؟اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔