اسرائیل کے وزیرِ دفاع کاغزہ میں جاری فوجی آپریشن میں توسیع کا اعلان

غزہ(صباح نیوز)اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے غزہ میں جاری فوجی آپریشن میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر کے اسے اسرائیل کے سکیورٹی زونز میں شامل کر دیا جائے گا۔

جاری ایک بیان میں اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہاکہ جن علاقوں میں لڑائی جاری ہے، وہاں سے بڑے پیمانے پر فلسطینی آبادی کا انخلا کیا جائے گا۔ انہوں نے غزہ کے رہائشیوں سے حماس کے خاتمے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد طریقہ ہے۔تاہم اسرائیلی وزیرِ دفاع نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسرائیل غزہ کے کتنے بڑے حصے پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں میں مزید شدت آتی جا رہی ہے۔عینی شاہدین نے خبررساں ادرے کو بتایا کہ گذشتہ رات جنوبی غزہ میں رفح کے علاقے پر ہونے والی اسرائیلی فضائی حملے اور گولہ باری کے نتیجے میں کم از کم 20 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے 11افراد بھی شامل ہیں۔عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں اور ٹینکوں نے رفح اور خان یونس کے بڑے علاقوں پر درجنوں فضائی حملے کیے اور توپ خانے کے گولے داغے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوجی گاڑیوں نے وسطی رفح کی جانب پیش قدمی بھی کی۔فلسطین کے مرکزاطلاعات کے مطابق کہ بدھ کی صبح اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے مختلف علاقوں میں شروع کی گئی کارروائیوں کے دوران کم از کم 17 افرادشہید ہوئے ہیں۔مرکز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ گذشتہ کئی گھنٹوں سے جنوبی غزہ پر مسلسل حملے کر رہی ہے۔ ان کے مطابق وسطی خان یونس میں رفح گیراج کے قریب ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک ہو گئے۔