سینٹ،ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کے موقف پر ڈٹے رہنے والے ڈھیر ہوگئے،حافظ حسین احمد

انٹرنیٹ فوٹو

کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ سینٹ اورضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کے موقف پر ڈٹے رہنے والے ڈھیر ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں کے بعد مولانا فضل الرحمن کی پارٹی نے بھی ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کرہی لیا،آزادی مارچ کی طرح مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے ایک بارپھر دھوکا دیا جس کی میں نے پیشنگوئی کردی تھی، پی ڈی ایم کا پنڈی کی جانب لانگ مارچ کا اعلان ”لیڈر بھبکی“ ہے وہ پنڈی نہیں جائیں گے۔

اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں مختلف وفود اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے کہا کہ پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں کے بعد مولانا فضل الرحمن کی پارٹی نے بھی ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کرہی لیااسی طرح میری ایک اور پیشنگوئی بھی پوری ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب 20ستمبر کو پی ڈی ایم استعفیٰ دینے، کسی بھی ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے، سینٹ کے الیکٹورل کالج کو ختم کرنے کے میثاق پاکستان پر دستخط کرچکے تھے تو میں نے واضح طور میڈیا پر کہہ دیا تھا کہ ان تلوں میں تیل نہیں اور مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی آزادی مارچ کی طرح ہمیں دھوکا بھی دیں گے اور موقف تبدیل کردیں گے اس وقت تک مولانا فضل الرحمن اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے لیکن اب وہ بھی مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے سامنے ڈھیر ہوگئے اس طرح انہوں نے یوٹرن لینے میں عمران خان کو بھی شکست دیدی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کے اعلان کو اس لیے ہم نے ڈرامہ کہا تھا کہ کیوں کہ 2018ء کی دھاندلی زدہ اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن نے صدارتی الیکشن لڑا اپنے بیٹے اسعد محمود کو ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن لڑوایا اور ڈھائی سال سے اس کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کی زینت بنے بیٹھے ہیں اب کیوں کہ بلوچستان میں فضل آغا مرحوم اور خیبر پختونخواہ میں منیرخان اورکزئی کی وفات سے خالی ہونے والی نشستوں کے حصول کے لیے ایک بار پھر اصولی موقف کی دھجیاں بکھیر دی گئی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا پنڈی کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی ”لیڈر بھبکی“ ہے، وہ پنڈی نہیں جائیں گے کیوں کہ دیگر ”بلاؤں“ کے ساتھ شیخ رشید بھی وہیں پنڈی میں رہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کی قیادت مریم نواز کریں گی، ڈی چوک کی جانب لانگ مارچ کی قیادت بلاول بھٹوزرداری اور جی ایچ کیو پنڈی کے دھرنے کی قیادت مولانا فضل الرحمن کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن کے وہی رولز ہونگے جو 2018ء کے انتخابات میں آزمائے گئے تھے برحال ماضی میں پی ڈی ایم والے”فروٹ چاٹ“ اور”چنا چاٹ“ سے شغل کرتے رہے ہیں اب لگتا ہے کہ”تھوک چاٹ“ کی طرف رجحان ہوگیا ہے۔