لیڈر کہتے ہی اسے ہیں جو پورے اعتماد اور جرت سے دوسروں کی رہنمائی کرتا ہو۔ اگر وہ خود ہی مشکلات، مصائب اور مسائل کا ذکر کرے اور حل نہ بتائے تو اس کے پیروکار نہ صرف ذہنی خلفشار کا شکار ہونگے بلکہ ان کے حوصلے بھی پست ہو جائیں گے،اب جبکہ نواز شریف ایک بار پھر مسلم لیگ ن کی صدارت سنبھالنے والے ہیں تو ان کی جانب سے ملک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے لائن آف ایکشن سامنے آنا چاہیے،سب کو پتہ ہے کہ انہیں نااہل کرکے اقتدار اور سیاست سے نکالنے کا منصوبہ کس نے بنایا، یہ کہہ دینا کہ ان کے پاس ثاقب نثار کی وہ آڈیو محفوظ پڑی ہے جس میں کہا جارہا ہے کہ کس طرح سے سازش کرکے پی ٹی آئی کو حکومت میں لانا ہے، کافی نہیں، لوگ سوال کریں گے کہ اگر وہ آڈیو محفوظ ہی رکھنی ہے تو پھر آپ کی پارٹی حکومت میں کیا لینے آئی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن کو نگران جج بنانے کی کہانی بھی کوئی راز نہیں، اب تو یہ بھی سامنے آچکا کہ 2017 میں نواز شریف کے خلاف کیس جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خود بناکر پی ٹی آئی کو دیا (یقینا اس سے بڑی بددیانتی ہو نہیں سکتی) لیکن کھوسہ کا کیا بگڑا۔ نواز شریف سو فیصد درست کہہ رہے ہیں کہ جب برطرف جج مظاہر نقوی پر کرپشن ثابت ہو چکی تو پھر نیب کے حوالے کیوں نہیں کیا جا رہا؟ لیکن اس کی جو بھی وجہ ہو، اسے تلاش کرکے عوام کے سامنے لانا حکومت نہیں تو کس کی ذمہ داری ہے۔ ن لیگ اگر واقعی سیاسی جماعت ہے تو میدان میں آئے، مظاہر نقوی کے خلاف کارروائی کے لیے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائے پھر دیکھتے ہیں کہ نتیجہ سامنے کیسے نہیں آتا۔ نواز شریف ان ججوں کے متعلق گلے شکوے کر رہے ہیں جو آئین تک کو ری رائٹ کر چکے یعنی آئین توڑ چکے، من مانی تشریحات کر کے قانون کا حشر نشر کر ڈالا لیکن عدلیہ تو ایسے ججوں سے بھری پڑی ہے، اسی لیے طلال چودھری نے کہا کہ جوڈیشری کو نارمل کرنا ہے تو ثاقب نثار گینگ کے بھرتی کردہ تمام ججوں کو فارغ کرنا ہو گا، جنرل پاشا سے جنرل فیض بلکہ چیف جسٹس بندیال کے دور تک عدلیہ میں بھرتیاں کرتے وقت ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کو ہی مد نظر رکھا گیا، نواز شریف کا کیا خیال ہے کہ صرف تقریریں کرکے ان کو روکا جاسکتا ہے؟ پی ٹی آئی کے قریبی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ موجودہ بڑے عہدیداروں کا تختہ الٹنے کے لیے اگلا نو مئی ٹائپ آپریشن عدلیہ کے ذریعے ہوگا اور منصوبہ ساز اس بار مشن مکمل کرکے ہی دم لیں گے،اب تو حالات اس نہج پر آگئے ہیں کہ فوج اور آئی ایس آئی کے متعلق عدالتوں میں وہی گفتگو شروع ہو گئی ہے جو بیرون ملک مقیم یوتھیا سوشل میڈیا بریگیڈ اور یو ٹیوبر کررہے ہیں۔دوسری جانب حکومت کی ٹانگوں میں اتنی جان بھی نہیں کہ سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کردے کہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں بنائے جانے ججوں کے تین رکنی کمیشن کو کام سے روکنے کا بندیال کورٹ کا سٹے آرڈر خارج کیا جائے جو شہباز شریف کی پچھلی حکومت کے دوران دیا گیا تھا، بندیال اور ہم خیال جس طرح سے اپنے اوراپنے گھر والوں اور اپنی پارٹی سے متعلق کیس خود ہی سن کر مرضی کے فیصلے کرتے آرہے ہیں اس نے بحران کو بدترین بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، آڈیو لیکس میں بندیال کی ساس کا عدالتی امور میں توڑ جوڑ ثابت ہوچکا ہے، ایک آڈیو میں فواد چودھری اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر بھٹی اور چیف جسٹس بندیال کے درمیان رابطہ کرانے کی بات کررہے ہیں اور ساتھ ہی ٹرک مظاہر نقوی کے لیے تیار رہنے کا بتا رہے ہیں، ثاقب نثار کا بیٹا پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کے نام پر پیسے پکڑ رہا ہے،ن لیگ کی حکومت کو مظلومیت کی داستانیں سنا کر عوام کو بور کرنے کی بجائے ان آڈیو لیکس کی میرٹ پر انکوائری کراکے رپورٹ کا ڈھول بجانا چاہیے،پاکستان 2014 کے بدنام زمانہ دھرنوں کے بعد سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال سے آج تک نہیں نکل سکا،اب تو ایک اینکر نے آن دی ریکارڈ بتا دیا ہے کہ اس کی موجودگی میں کس طرح ایک پراپرٹی ٹائیکون پہلے جنرل ظہیر السلام سے ملنے گیا پھر وہاں سے نواز شریف کے لیے الٹی میٹم وصول کرکے وزیراعظم ہاؤس گیا اور پیغام پہنچایا کہ فوری استعفا نہ دیا تو آئی ایس آئی گرفتار کرلے گی۔ دھمکی کے باوجود نواز شریف نے استعفا دینے سے انکار کر دیا، حکومت بھی بچ گئی اور سی پیک بھی شروع ہوگیا، بعد میں اگرچہ انہیں جبری طور پر عدالتوں کے ذریعے اقتدار سے فارغ کردیا گیا لیکن اس کے بعد بھی ان کی سیاست میں جان اسی وقت پیدا ہوئی جب وہ حرکت میں آگئے، ایوان وزیراعظم سے نکالے جانے کے بعد جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور واپسی کے دوران جگہ جگہ اسٹیبلشمنٹ اور ججوں کی مخالفت میں تقریروں نے پارٹی کو زندہ کردیا، بعد میں جو ہوا سو ہوا لیکن لندن جانے کے بعد ایک بار پھر ان کی سیاست اس وقت چمکی جب گوجرانوالہ کے جلسے میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے نام لے کر تنقید کی، اس کے بعد جو حالات بنے وہ وقت کے دھارے نے خود بخود بنائے، نواز شریف کی رہبری اور شہباز شریف کی صدارت میں مسلم لیگ کبھی عوامی انداز میں متحرک نظر نہیں آئی، مریم نواز کراڈ پلر سیاسی لیڈر کے طور پر سامنے آئیں تو انہیں بھی غالبا گھر کے بڑوں نے جارحانہ سیاست کرنے سے روک دیا۔ اب جب کہ الیکشن 2024 کو متنازعہ بنایا جا چکا ہے، ادارے ایک دوسرے کے سامنے بھی ہیں اور ان میں اندرونی اختلافات بھی ہیں، ایسے ماحول میں حکومتی جماعت کے سربراہ کو جو تین بار وزیراعظم بھی رہ چکا ہو کھل کر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ صرف پوزیشن ہی کیوں، اپنی پارٹی، وزرا، ارکان اسمبلی کی صف بندی کرکے عملی طور پر میدان میں آنا چاہیے، نواز شریف ہوں یا شہباز شریف یا مریم نواز یہ طے ہوچکا کہ محض ترقیاتی کام، گڈ گورننس، بیورو کریسی کے نرغے میں رہ کر دن رات محنت کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، اسٹیبلشمنٹ نے ملک میں منافرت کے جو بیج بو دئیے ہیں اگلے کئی سال تک وہ زہریلی فصلیں دیتے رہیں گے، مخالفین جہاں جہاں، جس جس حیثیت میں بھی ہیں ان کو مثر جواب دئیے بغیر سب بے کار ہے، نواز شریف جس طرح کی گفتگو کر رہے ہیں اس کا ایک ہی نتیجہ نکلے گا کہ ان کی تھکی ہوئی پارٹی کے دلبرداشتہ حامی مزید مایوس ہوجائیں گے، یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے اگر ن لیگ مختلف محاذوں جن میں میڈیا امور اور عدالتی معاملات بھی شامل ہیں، پر واضح اور ٹھوس کا رکردگی دکھانے میں ناکام ہو گئی تو مقتدر حلقوں کے لیے بوجھ بن جائے گی، کہا جارہا ہے کہ اب تک کی پراگرس رپورٹ قابل اطمینان نہیں، 28 مئی کو نواز شریف مسلم لیگ ن کے پھر صدر بن جائیں گے، گو مگو کی پالیسی ترک کردی گئی تو بند گلی میں جاتی سیاست کو واپسی کیلئے کھلا میدان بھی مل سکتا ہے۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات