کشمیریوں کے حقوق کیلئے اٹھنے والی ہر آواز کو فوجی طاقت کے ذریعے دبا دیا جاتا ہے، میرواعظ عمرفاروق


سرینگر: مقبوضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء میر واعظ عمر فاروق نے کشمیری عوام سے کہا ہے کہ وہ  بدھ کوبھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منا کر بھارت کی ظلم و جبر کی پالیسی کے خلاف اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ میرواعظ عمر فاروق نے جو گھر میں نظربند ہیں سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ 75سال سے کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جس کا وعدہ وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سمیت بھارتی قیادت نے ان سے نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ بھارتی پارلیمنٹ اور سرینگر کے لال چوک میں کیاتھا ۔

تاہم آج تک بھارت نہ صرف اپنا یہ وعدہ پورا نہیں کرسکا ہے بلکہ بھارت کو اس کا وعدہ یاد دلانے والوں کو گولیوں، پیلٹ گنز اورغیر قانونی نظر بندیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء نے کہا کہ ایک قوم جو اپنے عوام کی آزادانہ مرضی سے منتخب ہونے والی نمائندہ جمہوریت ہونے پر فخر کرتی ہے ،وہ کشمیریوں پر اپنی مرضی زبردستی مسلط کرنے کیلئے انہیں وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی قابض فوج کے لاکھوں اہلکاروں کو کشمیریوںکی خواہشات کو کچلنے کیلئے مقبوضہ علاقے میں تعینات کیا گیا ہے اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے ذریعے بھارتی فوجیوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی کھلی چھوٹ حاصل ہے ۔

انہوں نے کہاکہ پوری حریت قیادت سمیت سینکڑوں کشمیری جیلوں یاگھروںمیں غیر قانونی طورپر نظربند ہیں جن کا واحد جرم کشمیری عوام کے بنیادی انسانی اور سیاسی حقوق کی بحالی کا مطالبہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے حقوق کیلئے اٹھنے والی ہر آواز کو فوجی طاقت کے ذریعے دبا دیا جاتا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کاقتل عام کیا جارہا ہے اور کشمیریوں کیلئے احتجاج کے تمام راستے بند کر دئے گئے ہیں۔