جس طرح 10سال قبل پشاور میں APSکے خونی سانحہ نے ساری قوم ، اداروں اور سیاسی جماعتوں کو یکجا اور یکجہت کر دیا تھا، اِسی طرح اب 11مارچ کے جعفر ایکسپریس ٹرین سانحہ نے ایک بار پھر ساری قوم ، ساری سیاسی جماعتوں اور اداروں کو دہشت گردوں کے خلاف یکجا اور یکجہت کر دیا ہے ۔اِس کا واضح اظہار 18مارچ2025 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میں ہُوا ہے ۔
ذمے دار شرکت کنند گان نے عزمِ صمیم کے ساتھ ایک بار پھر قوم کے سامنے دعوے اور وعدے کیے ہیں کہ’’دہشت گردوں اور خوارج سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹا جائے گا۔‘‘ہماری دعا ہے کہ دہشت گردوں ، ملک دشمنوں اور خوارج کے خلاف کیے گئے دعوؤں اور وعدوں پر پوری قوت اور عزم کے ساتھ عمل بھی کیا جاسکے ۔ کچھ لوگ مگر کہتے ہیں کہ اگر دس سال قبل’’ اے پی ایس‘‘ پشاور کے سانحہ کے بعد منعقد کی گئی’’ اے پی سی‘‘ میں کیے گئے دعوؤں اور وعدوں پر ، پوری اسپرٹ کے ساتھ، عمل کیا جاتا تو یقیناً جعفر ایکسپریس ٹرین کا خونی سانحہ بھی قطعی طور پر پیش نہ آتا ۔
اب جب کہ سانپ ڈَس کر اپنی بِل میں واپس جا چکا ہے، لکیر پیٹنے کا فائدہ؟ پارلیمانی سلامتی کمیٹی میں یہی تو متفقہ طور پر عہد کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے مہلک سانپ کا سر اُس کی بِل ہی میں کچل ڈالا جائے ۔ ساری قوم کی نظریں پارلیمانی سلامتی کمیٹی کے18مارچ کی اِس اہم ترین اور حساس ترین قومی بیٹھک پر لگی ہُوئی تھیں ۔ ہم سب منتظر تھے کہ اِس کمیٹی کے شرکت کنندگان دہشت گردوں کے خلاف یک زبان ہو کر قومی لائحہ عمل طے کریں گے ۔
افسوس کہ بعض اہم سیاستدانوں اور جماعتوں نے قومی مفاد میں بروئے کار آنے والی اِس بیٹھک میں بیٹھنے ہی سے انکار کر دیا ۔ بلوچستان کے اہم سیاستدان ورکن قومی اسمبلی، محمود خان اچکزئی صاحب، بھی اِس میں شریک تھے نہ بلوچستان کی اہم سیاسی شخصیت، جناب اختر مینگل، تشریف لائے ۔
تین وزرائے اعلیٰ اور تین گورنرز تو شریک تھے ، مگر سندھ کے وزیر اعلیٰ اور گورنر بھی بوجوہ نظر نہ آئے ۔وزیر داخلہ ، محسن نقوی، کو تو ہر صورت موجود ہونا چاہیے تھا مگر وہ بھی غیر حاضر تھے ؛ چنانچہ ہم نے ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے ’’ایکسپرٹ‘‘ پروگرام میں سینئر صحافی ، جناب ایاز خان ، کو یہ کہتے سُنا:’’ایک چیئر مین پی سی بی ہُوا کرتے ہیں ۔ اُنہیں جس دن ملک سے باہر ہونا چاہیے تھا یعنی دبئی میں جس دن چیمپئنز ٹرافی کا فائنل ہورہا تھا وہ پاکستان کے اندر تھے ، اور آج قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہورہا تھا اور وزیر داخلہ کو اِس اجلاس میں ہونا چاہیے تھا ، وہ مگر ملک سے باہر تھے۔‘‘ کوئی اِن غیر حاضریوں کو نام دے تو کیا دے؟؟
قومی سلامتی کی اِس اہم ترین پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں ویسے تو نون لیگ کے سربراہ، جناب نواز شریف ، بھی غیر حاضر تھے ۔ ہم اِسی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے اہم ترین سیاسی لوگ اِس اہم ترین کمیٹی کو کیا اہمیت دے رہے تھے؟اِس منظر نے دہشت گردوں کو کیا پیغام دیا ہوگا، ہم محض تصور ہی کر سکتے ہیں ؛ چنانچہ ہم سب نے دیکھااور سُنا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے مرکزی مشیر ، محمد علی سیف،نے نواز شریف صاحب کی مذکورہ عدم حاضری پر سخت طنز کیا ہے ۔
سوال مگر یہ ہے کہ موصوف طنز کرنے کے اہل اور قابل بھی ہیں؟ کیا نواز شریف پر طنز آرائی سے قبل اُنھوں نے اپنی ، اپنی حکومت اور اپنی پارٹی کی منجی کے نیچے ڈانگ پھیر لی تھی ؟خاص طور پر جب کہ ساری پاکستانی قوم نے یہ افسوسناک منظر دیکھا کہ وعدہ کرنے کے باوصف پی ٹی آئی نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔پی ٹی آئی کا ہر بڑا یہ کہتے ہُوئے پایا گیا کہ (۱) سلامتی کمیٹی میں ہم اِس صورت شریک ہوں گے اگر ہمارے بانی لیڈر کو پیرول پر رہا کیا جائے (۲) بانی کو رہا نہیں کرنا تو ہمارے لیڈروں کو ، کمیٹی میں شرکت سے قبل، بانی سے جیل میں ملنے دیا جائے ۔
ہم نے دیکھا کہ حکومت اور اداروں نے پی ٹی آئی کی اِس ضد اور مطالبات کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر دیا ۔ یہ انکار دراصل پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کو ایک بار پھر اہم پیغام بھی ہے ۔ پی ٹی آئی نے سوچا تھا کہ موقع اچھا ہے ، اس لیے بانی کی رہائی کا مطالبہ تسلیم کر لیا جائے گا ۔ توقع مگر پوری نہ ہو سکی ؛ چنانچہ پی ٹی آئی نے بھی شریک ہونے سے انکار کر دیا ۔ پی ٹی آئی کے اِس اقدام اور عمل پر ساری قومی حیران بھی ہے اور تاسف کا اظہار بھی کررہی ہے ۔
کیا اِس انکار کا مطلب یہ ہے کہ پی ٹی آئی ابھی تک قومی مفاد اور قومی سالمیت کے منافی اِس نعرے پر اَڑی ہُوئی ہے کہ ’’خان نہیں تو پاکستان بھی نہیں؟۔‘‘اِس انکار اور اَڑی پر ہم سب اِنّا للہ ہی پڑھ سکتے ہیں ۔ یہاں تک کہ حضرت مولانا فضل الرحمن ( جن کا ہاتھ تھامنے کے لیے پی ٹی آئی بڑی ہی بیقرار ہے) نے بھی کہا ہے :’’ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میںپی ٹی آئی کی غیر حاضری دیکھ کر مایوسی اور افسوس ہُوا ہے ۔‘‘
ملک بھر میںکون ہے جو پی ٹی آئی کے اِس انکار اور عدم حاضری پر افسوس اور دُکھ کا اظہار نہیں کررہا ؟ دیکھا جائے تو پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کا یہ مسلسل انکار اور کردار دراصل مرکزِ گریز رویہ ہے ۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے ۔ ملک میں سب سے زیادہ محبوب و مقبول بھی ہے ۔ اور یہ بھی کہ اس نے سب سے زیادہ ووٹ بھی حاصل کررکھے ہیں ۔ پھر اِس میں تنگ نظری ، تعصب اور نجی مفاد پرستی کہاں سے اور کیوں دَر آئی ہے ؟ کیا اِس کا مرکزِ گریز رویہ اِس کے مطلوبہ قومی کردار سے مطابقت رکھتا ہے ؟ ہر گز نہیں ۔ ایسے کردار کے پیش منظر میں حکومتی ارکان اگر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ’’پی ٹی آئی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ پارٹی نجی و سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتی ہے‘‘ تو یہ آوازہ اتنا بے بنیاد اور بے اساس بھی نہیں ہے ۔
گہری نظر سے دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے منتخب ارکان اور قابلِ ذکر لیڈروں کا یہ رویہ سیاسی مجبوریوں کا عکاس بھی ہے ۔ وہ سب بانی پی ٹی آئی کی ہٹ دھرمی اور لا حاصل ضد کے سامنے بے بس ہو گئے ہیں ۔ بانی پی ٹی آئی نے بھی جیل میں بیٹھے بیٹھے حکم صادر کر دیا تھا کہ کوئی بھی قومی سلامتی کی کمیٹی میں شریک نہیں ہوگا ۔ بلا شبہ سبھی نے اِس مقاطع یا بائیکاٹ کو قومی مفاد کے منافی قرار دیا ہے ۔ سبھی کے لیے یہ کردار باعثِ تاسف ہے ۔
مگر بانی صاحب اپنے موقف پر ڈٹے رہے کہ کوئی بھی قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوگا ۔ جیل میں اُن سے ملاقات کرنے والے معروف وکیل ، فیصل چوہدری، نے بھی تصدیق کی ہے ۔بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ ، محترمہ علیمہ خان، نے بھی کہا ہے کہ بانی نے ملاقات کے دوران کہا کہ میری اجازت کے بغیر پی ٹی آئی کا کوئی رکن قومی سلامتی کمیٹی میں شرکت کر سکتا ہے نہ آیندہ اے پی سی میں شریک ہوگا ۔‘‘مبینہ طور پر غصہ یہ ہے کہ ’’ میرے بیٹوں سے ، لندن میں، بات نہیں کروائی جا رہی ۔‘‘
بات پھر وہی کہ نجی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے کی جبلّت!مزید حیرانی اور پریشانی کی بات یہ ہے کہ اب جب کہ قوم اِس بات پر متفق ہو چکی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کا مرکز و منبع افغانستان ہے،بانی پی ٹی آئی نے اپنی ہمشیرہ کی معرفت قوم کو یہ پیغام دیا ہے کہ’’ افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، آپ اِسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں ۔‘‘اِس موقف کو بھی پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کا مرکزِ گریز رویہ ہی گردانا جائے گا ۔ اِس پر بھی افسوس اور توسف کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے ۔
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس