سال 2020کی خوفناک ترین تقریر۔۔۔۔تحریر: حامد میر

انٹرنیٹ فوٹو

ابھی تو اپوزیشن نے اسلام آباد کی طرف نہ لانگ مارچ شروع کیا ہے نہ ہی اپنے استعفے اسپیکر کو بھجوائے لیکن وزیراعظم نے دل دہلا دینے والی باتیں شروع کر دی ہیں۔ چکوال میں ایک یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کچھ ایسی باتیں کی ہیں جو اِس سے پہلے آپ نے کسی وزیراعظم کی زبان سے نہ سنی ہوں گی۔

وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ فوج میرا تختہ اُلٹ دے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو آرمی چیف کو ہٹا دے۔ وزیراعظم نے یہ بھی فرمایا کہ اپوزیشن کو این آر او دینا غداری ہوگی۔

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن چکوال میں کی جانے والی یہ تقریر سال 2020کی خطرناک ترین تقریر تھی۔ نجانے وزیراعظم نے یہ خطرناک تقریر چکوال میں کیوں کی لیکن یہ تقریر ہمیں بہت کچھ سوچنے کی دعوت دے رہی ہے۔ ہفتہ کی شب یہ تقریر ٹی وی چینلز کی ہیڈ لائن تھی۔

اتوار کی صبح اِس ناچیز نے اُردو اور انگریزی اخبارات میں اِس تقریر کو بار بار غور سے پڑھا اور یہ یاد کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل جماعتوں کے رہنمائوں نے کون سے جلسے یا پریس کانفرنس میں فوج کو موجودہ حکومت کا تختہ اُلٹنے کی دعوت دی؟

یہ درست ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن سے وڈیو لنک پر کی جانے والی تقریروں میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی پر تنقید کی لیکن یہ تنقید 2018کے الیکشن میں مبینہ مداخلت کے حوالے سے تھی۔ کسی بھی تقریر میں نواز شریف نے فوج کو یہ نہیں کہا کہ عمران خان کا تختہ اُلٹ دو اور اگر آرمی چیف ایسا نہیں کرتے تو اُنہیں اُن کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ نواز شریف کے علاوہ مولانا فضل الرحمٰن، مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری، اختر مینگل اور دیگر رہنمائوں نے بھی اگر تنقید کی تو وہ سیاست میں مداخلت کے بارے میں تھی۔

پی ڈی ایم کے جلسوں میں ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگتے رہے۔ جو لوگ ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگا رہے ہیں وہ فوج کو سیاست میں مداخلت کی دعوت کیسے دے سکتے ہیں؟ چکوال میں عمران خان نے اپوزیشن پر جو الزام لگایا ہے اُسے اتنی آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اگر واقعی اپوزیشن کے کسی رہنما نے جلسے میں تقریر یا پریس کانفرنس کے علاوہ کسی اور طریقے سے فوج کو منتخب حکومت کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی ہے تو قوم کو تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔ ہو سکتا ہے اپوزیشن کے کسی رہنما نے کسی فوجی افسر کو کوئی خفیہ خط لکھا ہو۔

ویسا ہی خط جیسا 25؍اپریل 1977کو ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان نے فوجی افسران کو لکھا تھا اور کہا تھا کہ بھٹو حکومت کے غیرقانونی احکامات پر عملدرآمد نہ کیا جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وزیراعظم کے اردگرد ایسے افراد موجود ہوں جو اُنہیں غلط اطلاعات پہنچا رہے ہیں یا اُنہیں غلط مشورے دے رہے ہیں۔ جب وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن کو این آر او دینا غداری ہوگی تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اپوزیشن کو این آر او کون دے سکتا ہے؟

این آر او کی اصطلاح 2007میں مشہور ہوئی تھی جب جنرل پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمت کے لئے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے تحت یکم جنوری 1986سے 12اکتوبر 1999کے درمیان جن سیاستدانوں اور سرکاری افسران پر کرپشن، منی لانڈرنگ اور قتل و غارت کے مقدمات قائم کئے گئے اُنہیں معافی دے دی گئی۔

اس این آر او کے بعد ساری بدنامی پیپلز پارٹی نے سمیٹی حالانکہ فائدہ اُٹھانے والوں میں بیرسٹر فروغ نسیم کے نیلسن منڈیلا اور مشرف کے اتحادی الطاف حسین سے لے کر بریگیڈیئر (ر) امتیاز اور بریگیڈیئر (ر) اسلم حیات قریشی سمیت بڑے بڑے بیورو کریٹ بھی شامل تھے جن کا پیپلز پارٹی سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ اس این آر او کو سپریم کورٹ کے ایک فل بنچ نے 16؍دسمبر 2009کو کالعدم قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ کے اِس فیصلے کے بعد پاکستان میں کوئی کسی کو این آر او نہیں دے سکتا۔

جنرل پرویز مشرف نے جب این آر او دیا تو وہ وردی میں تھے، اُس کے باوجود اُن کا این آر او برقرار نہ رہ سکا۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف ایک خاموش این آر او کے ذریعہ بیرون ملک گئے تھے اور واپس نہیں آئے۔ حقیقت بالکل مختلف ہے۔ نواز شریف کو عدالت نے چند ہفتوں کے لئے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی لیکن اُسے حکومت کی اجازت سے مشروط کیا تھا۔

نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی منظوری عمران خان کی کابینہ نے دی تھی۔ نواز شریف کئی ماہ تک واپس نہ آئے تو عدالت نے اُنہیں اشتہاری قرار دے دیا لہٰذا یہ طے ہے کہ نہ تو کوئی عدالت، نہ وزیراعظم نہ کوئی اور کسی کو بھی این آر او نہیں دے سکتا۔ پھر وزیراعظم بار بار یہ کیوں کہتے ہیں کہ میں این آر او نہیں دوں گا؟

وزیراعظم عمران خان اپوزیشن پر جائز تنقید ضرور کریں۔ پی ڈی ایم کی جماعتوں میں کو آرڈی نیشن کا فقدان ہے یہاں تک مسلم لیگ ن کے رہنمائوں کے بیانات ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ مسلم لیگ (ن) کے دو ارکانِ قومی اسمبلی کے استعفے اسپیکر کو موصول ہونے کے مسئلے پر شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ یہ استعفے جعلی ہیں جبکہ مریم نواز کہتی ہیں کہ یہ استعفے غلطی سے اسپیکر کے پاس چلے گئے۔

اتوار کو گڑھی خدا بخش میں شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر منعقدہ جلسے میں بلاول کی دعوت پر مریم نواز کی شرکت ایک اہم واقعہ ہے لیکن اِس جلسے میں دعوت کے باوجود مولانا فضل الرحمٰن کا نہ جانا وزیراعظم کے لئے باعثِ اطمینان ہونا چاہئے۔

میڈیا کے کچھ لوگ بھی مولانا فضل الرحمٰن اور بلاول کے اختلافات کی کہانیاں تلاش کر رہے ہیں اور اُن میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو صحافت سے تھک چکے اور اُسے سیڑھی بنا کر سینیٹ کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

عمران خان اپنے اِن راج دلاروں میں سے کسی ایک کو سینیٹر ضرور بنا دیں تاکہ عوام کو پتا چل جائے کہ پرانے پاکستان کی طرح نئے پاکستان میں بھی خوشامدیوں کی چاندی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ اپوزیشن کے لئے سب سے بڑا خطرہ اپوزیشن اور حکومت کے لئے بڑا خطرہ خود حکومت ہے۔

عمران خان کی اتحادی جماعت مسلم لیگ فنکشنل کے سیکرٹری جنرل محمد علی درانی نے جیل میں جا کر شہباز شریف سے ملاقات کی ہے تو اِس میں نواز شریف یا مولانا فضل الرحمٰن کا کوئی کمال نہیں۔

ایم کیو ایم حکومت سے ناراض ہے تو اُس میں بلاول کا کیا قصور؟ وزیراعظم اپنے اتحادیوں کو سنبھالیں۔ اپنے بیانات سے یہ تاثر قائم نہ کریں کہ وہ فوج اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کے مدِمقابل لانا چاہتے ہیں۔

اس صورتحال میں اپوزیشن کا جو رہنما فوج پر بحیثیت ادارہ حملہ کرے گا وہ دراصل عمران خان کے ایجنڈے کی تکمیل کرے گا۔ وزیراعظم کا کام قومی اداروں کو بچانا ہے، اُنہیں اپنے سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانا نہیں۔ وزیراعظم نے چکوال میں جو دعوے کئے اُن کے ثبوت سامنے لائے جائیں، اگر وہ ثبوت سامنے نہیں لاتے تو وہ آئین کی دفعہ 62اور 63کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

اگر وہ ثبوت سامنے لے آتے ہیں تو ہم اُنہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم جمہوریت کے خلاف سازش کرنے والے اپوزیشن رہنمائوں کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ اُن کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کریں گے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ