سٹیل ملز بندش کے باوجود قومی خزانے پر ماہانہ کروڑوں روپے کا بوجھ


اسلام آباد: پاکستان سٹیل ملزسفید ہاتھی بن گیا ، قومی خزانے پر مسلسل بوجھ بن چکا ہے، کئی سال سے نجکاری کے معاملے پر سیاست جاری ہے، مختلف حکومتوں میں پاکستان سٹیل ملز اور بہت سارے اداروں کو منافع بخش کرانے سے متعلق وعدے کیے گئے لیکن ساری حکومتیں ناکام رہیں، پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن سمیت کئی ادارے قومی خزانے کو ماہانہ کروڑوں کا چونا لگانے لگے ۔

چارسال سے بند ہونے کے باوجود اسٹیل ملزنے کروڑوں روپے کے اخراجات کر ڈالے جب کہ جولائی 1968 میں بطور پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی قائم ہونے والی پاکستان اسٹیل ملز کی پیداوار 2015 سے ختم ہو چکی ہے۔

حکومت پاکستان کی سرپرستی میں چلنے والی یہ کارپوریشن لوہے اور اسٹیل کی مصنوعات کی پیداوار اور فروخت کرتی تھی تاہم گزشتہ 4سال سے یہ غیر فعال ہے، اس غیر فعال ملز میں ساڑھے 6کروڑ کا پانی استعمال ہوا،اسٹورز ،اسپیئر پارٹس اور دیگر ساز و سامان پر اٹھنے والے اخراجات 2017 میں 9کروڑ70لاکھ روپے تھے۔
ملازمین کی تنخواہیں اس کے علاوہ تھیں، اسٹیل ملز کے 4500 ملازمین کو فارغ کیے جانے کے بعد آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رواں سال کی رپورٹ کو دیکھیں تو ملک کے سب سے بڑے صنعتی یونٹ کے مالی مسائل کے باعث اس کے زبوں حالی پر روشنی پڑتی ہے۔

مزید پڑھیں: جماعت اسلامی کی اسٹیل ملزملازمین کی جبری برطرفی کی شدید مذمت

آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیل ملز کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سے پانی حاصل کرتی ہے جسے پیداواری پلانٹ میں استعمال کیا جاتا ہے،اس کے علاوہ اسٹیل ملز کے رہائشی علاقوں اسٹیل ٹائون، گلشن حدید اور قرب وجوار کے کمرشل علاقوں کو بھی مہیا کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسٹیل ملز انتظامیہ نے پانی کے واجبات کی عدم وصولی کو تسلیم کیا ہے مگر وافر مقدار میں پانی کی تقسیم کی تفصیلات نہیں بتا سکی،جو پانی کی تقسیم کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔