جماعت اسلامی کی اسٹیل مل ملازمین کو جبری طور پر ملازمتوں سے فارغ کرنے کی شدید مذمت


کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن و ضلع ملیر کے امیر محمد اسلام نے اپنے مشترکہ بیان میں وفاقی حکومت اور اسٹیل مل کی انتظامیہ کی جانب سے ادارے کے 4500سے زائد ملازمین کو جبری طور پر ملازمتوں سے فارغ کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزاروں ملازمین کو بے روزگار کرنا انتہائی شرمناک اور افسوسناک عمل ہے۔

اس ادارے سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار اور مستقبل وابستہ ہے۔ ان کے مستقبل کو تاریک کر دینا اور روزگار سے محروم کرنا ہزاروں خاندانوں کا معاشی قتل ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم اسٹیل مل کے تمام ورکرز اور افسران کے ساتھ ہیں اور ان کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ان کا مقدمہ عدالتوں سے لے کر حکومت کے ایوانوں اور میدانِِ عمل میں لڑیں گے۔ ملازمین خود کو اکیلا نہ سمجھیں.

جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے کہا کہ اسٹیل مل کے ملازمین کا مقدمہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔ عدالتِ عظمیٰ 4500سے زائد ملازمین کو بے روزگار کرنے کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اوروزیر منصوبہ بندی  اسد عمر اقتدار میں آنے سے قبل تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے بار بار یہ اعلان اور وعدے کر تے تھے کہ وہ اسٹیل مل کو بحال کریں گے اور ہزاروں ملازمین کے روزگار کو تحفظ دیں گے مگر افسوس کہ وہ اپنے دیگر وعدوں اور اعلانات کی طرح یہ وعدہ بھی بھول گئے اور ایک یوٹرن لے کر ہزاروں ملازمین کو فارغ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ اسٹیل مل کی بحالی اور ملازمین کے روزگار کے تحفظ کی جدو جہد کی ہے اور ملازمین کا ساتھ دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سینیٹ میں بھی یہ مسئلہ اُٹھایا تھا اور ملازمین کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ ہم آج بھی ان کے ساتھ ہیں لیکن جھوٹے وعدے کرنے والوں کے چہرے بے نقاب ہو گئے ہیں۔