فوج کا مجھ پر کوئی دبا ؤنہیں ہے ، عمران خان

انٹرنیٹ فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی پالیسی کے تحت داخلہ اور خارجہ امور چلائے جارہے ہیں ، فوج کا ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے ماضی کی دونوں حکومتی پارٹیوں کے بانی سلیکٹڈ تھے چینی کی قیمت بھی شوگر مافیا طے کرتا تھا ان کے خلاف کارروائی ہوئی، دوسال نہیں پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا بلکہ ایک کروڑ سے زائد نوکریاں ملیں گی۔

 نجی چینل کوخصوصی انٹرویو کے دوران عمران خان نے کہا کہ تمام ریاستی اداروں بشمول نیب آزاد ہے ان پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ جب نیب اپوزیشن کے کسی رہنما کے خلاف کوئی انکوائری کرتی ہے تو وہ چیختے ہیں کہ سیاسی انتقام لیا جارہا ہے لیکن یہ ہی لوگ اس وقت خاموش رہتے ہیں جب نیب کسی حکومت میں شامل کسی فرد پر انکوائری کا حکم دے۔

وزیر اعظم نے کہا ہے کہ چالیس سال سے میڈیا میں ہوں تنقید معاشرے کا ایک حصہ ہے ۔تنقید کے لیے آزادی ہونی چاہیے کسی بھی معاشرے میں آزادی اظہار رائے ضروری ہے۔کرکٹ کے دوران بھی کئی بار تنقید ہوئی۔کئی بار جیت پر بھی تنقید ہوئی ہار بھی ہوئی تنقید کسی بھی کام میں بہتری کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میچ جیتنے کے لیے اسٹریٹجی بنانا پڑتی ہے۔میری اپنی اسٹرٹیجی ہوتی ہے لوگ اسے یوٹرن کہتے ہیں میرا مقصد پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس نے 22سال جدوجہد کی اور یہاں تک پہنچا اسے سلیکٹڈ کہنا عجیب بات ہے۔ ماضی کی دونوں حکومتی پارٹیوں کے بانی سلیکٹڈ تھے۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں سلیکٹڈ تھے۔میں نے زیرو سے پارٹی شروع کی 22 سال جدوجہد کی۔فافن ایک آزاد ادارہ ہے فافن نے کہا کہ 2013ء کے مقابلے میں 2018 کے انتخابات بہتر انداز میں ہوئے۔ 2013ء میں قومی اسمبلی کے 133 حلقوں کے خلاف پٹیشنز فائل کی گئیں۔2018ء کے الیکشن میں(ن) لیگ،پیپلز پارٹی نے کل 24 پٹیشنز فائل کیں۔تحریک انصاف نے 23 پٹیشنز فائل کیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ فوج کی طرف سے مجھ پر کوئی پریشر نہیں۔ساری خارجہ پالیسی پی ٹی آئی حکومت کی ہے۔پی ٹی آئی حکومت اپنے منشور پر عمل پیرا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم مسلم ممالک کے درمیان تنازعہ میں فریق نہیں بنیں گے سابق فوجی کو پوزیشن دینا فوج کی طرف سے پریشر نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ گوادر سی پیک کا مین پوائنٹ ہے۔عاصم سلیم باجوہ کو تجربے کی بنیاد پر سی پیک اتھارٹی کا سربراہ لگایا۔عاصم سلیم باجوہ سدرن کمان کے سربراہ رہ چکے ہیں۔عاصم باجوہ نے گوادر پر پوری بریفنگ دی۔انہوں نے اپنے اوپر الزامات کا تفصیل سے جواب دیا کسی کو کوئی اعتراض ہے تو عدالت جائے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں اداروں میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں ہم اداروں میں میرٹ پر لوگ لے کر آئے۔ اپوزیشن کے خلاف مقدمات ہماری حکومت سے پہلے کے ہیں۔نواز شریف،آصف علی زرداری نے ایک دوسرے کے خلاف کیسز بنائے۔ہماری حکومت سے پہلے نواز شریف اور اسحاق ڈار کے بیٹے باہر بھاگ چکے تھے۔ ہماری حکومت میں صرف شہباز شری کے خلاف کیسز بنے۔نواز شریف نے آصف علی زرداری کو دو بار جیل میں ڈالا۔آصف علی زرداری پر سرے محل کا کیس نواز شریف نے بنایا۔نیب ایک آزاد ادارہ ہے۔جیل خانہ جات کے معاملات حکومت کے ماتحت ہیں۔ الیکشن میں دھاندلی سے متعلق ہم نے کمیشن بنانے کا کہا۔ایف اے ٹی ایف کی قانون سازی پر این آر او مانگا گیا۔ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر انہوں نے ہمیں نیب میں 34 شقیں تھما دیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوام کا پیسہ لوٹنے والوں کا پورا احتساب ہوگا۔نیب ایف آئی اے سمیت تمام ادارے تحقیقات کریں گے۔مشرف نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کو این آر او دیا۔اپوزیشن صرف این آر او چاہتی ہے۔ہم قانون کے مطابق چل رہے ہیں۔شوگر مافیا کے خلاف ایکشن ہوا ایف آئی آر درج ہوئی جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی۔ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی کے خلاف بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔اداروں کے اندر کسی قسم کی مداخلت نہیں کروں گا۔تمام ادارے آزاد ہو کر تحقیقات کریں گے۔ شوگر مافیا کی وجہ سے چینی کی قیمت بڑھی ہے۔ چینی کی قیمت بھی شوگر مافیا طے کرتا تھا ان کے خلاف کارروائی ہوئی۔

اس سوال پر انہوں نے کہا کہ فردوس عاشق اعوان پر کرپشن کا کوئی کیس نہیں تھا۔ایک ایک حکومتی رکن کی خود تحقیقات کراتا ہوں۔کسی حکومت رکن کے خلاف الزام پر آئی بی سے تحقیقات کراتا ہوں۔ٹھوس ثبوتوںکے بغیر عدالت میں الزام ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے شریف فیملی نے لندن میں چار فیلٹس خریدے ۔شریف فیملی کے خلاف کیس میں جے آئی ٹی بنی۔شہباز شریف کے خلاف ہماری حکومت میں بنے کیونکہ ان کے ملازمین کے اکائونٹس میں اربوں روپے آ رہے تھے جہانگیر کے خلاف شوگر سے متعلق انکوائری چل رہی ہے جہانگیر کے خلاف کیس پر افسوس ہوتاہے جہانگیر کہتے ہیں مجھ پر الزامات بے بنیاد ہیں۔

ایک سوال کہ کیا جہانگیر ترین اب بھی پی ٹی آئی کا حصہ ہیں؟ کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جہانگیر ترین کے پاس تحریک انصاف کا کوئی عہدہ نہیں ہے۔ جس پر بھی تحقیقات شروع ہوئی ہیں ان کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں ںے کہا کہ پہلے بھی شوگر مافیا تھا لیکن کبھی ان کے خلاف تحقیقات نہیں ہوئیں۔ پاکستان کے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے بڑے طاقت ور لوگ چینی کی قیمت کا تعین کرتے تھے لیکن ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا تھا۔ ہم نے پہلی بار یہ کام کیا۔

فردوس عاشق اعوان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ معاون خصوصی اطلاعات پنجاب پر کوئی کرپشن کیس نہیں۔ محکمہ اطلاعات میں کچھ مسائل تھے اور ہمارے ایک دو لوگوں کو ان سے مسئلہ تھا جس کی وجہ سے ان کا تبادلہ کیا گیا تھا۔وزیر اعظم نے کہا کہ وفاق اور صوبوں میں جہاں بھی کسی وزیر سے متعلق کرپشن کی اطلاعات ملتی ہیں تو میں اپنے ایسے ایک ایک وزیر کی آئی بی کے ذریعے خود تحقیقات کرواتا ہوں۔ہمارے زمانے میں صرف شہباز شریف کا کیس بنا ہے۔ ان کے دفتر میں کام کرنے والے دو ملازم پکڑے گئے جن کے بینک اکاونٹ سے اربوں روپوں کی منتقلی کے ثبوت ملے۔

پی ٹی وی کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نعیم بخاری پاناما میں میرے وکیل بعد میں بنے وہ گزشتہ50 سال سے پی ٹی وی سے وابستہ ہیں اور ان سے زیادہ اس ادارے کو شاید ہی کوئی سمجھتا ہو۔ ہماری درخواست پر انہوں نے یہ ذمے داری قبول کی ہے۔ یہ ایگزیکٹیو نہیں ہیں بورڈ کے چیئرمین ہوں گے۔ جو پالیسی بناتا ہے۔ پی ٹی وی پر حکومت کا موقف سامنے آنا چاہیے لیکن اس کی ساکھ بھی بی بی سی اور ٹی آر ٹی کی طرح بنانے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی وی پر حزب اختلاف کو وقت ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 5 سال میں نوکریاں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ہمارے پانچ سال میں نوکریاں ایک کروڑ اور گھر پچاس لاکھ سے بھی زیادہ ہوجائیں گے۔ بنڈل آئی لینڈ اور راوی اربن پراجیکٹ ہمارے دو بڑے منصوبے ہیں جس سے یہ ممکن ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کی تاریخ میں سیمنٹ کی پیداوار سب سے زیادہ ہوچکی ہے۔ یہ دو نئے شہر بسنے جارہے ہیں۔ راوی پراجیکٹ کے لیے لوگوں سے زمینیں لینے کے کوئی زبردستی نہیں کی جارہی، اس حوالے سے غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ان منصوبوں سے نوکریاں ملیں گی اور سمندر پار پاکستانی یہاں سرمایہ کریں گے۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کی صورت حال بہتر ہوگی۔ عمران خان نے کہا کہ بی آر ٹی کا ایشیائی ترقیاتی بینک کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے پر ہمیں سبسڈی نہیں دینا پڑے گی۔ اس منصوبے کی شفافیت کے حوالے سے کوئی بھی سوال اٹھے گا تو ہم تحقیقات کروانے کے لیے تیار ہیں۔