بھارت پاکستان میں دہشت گرد کارروئیوں میں معاونت کررہا ہے ،ترجمان دفتر خارجہ


اسلام آباد (زاہد شریف چوہدری) ترجما ن دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ او آئی سی کی جانب سے بھارت کو واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی جو خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ان کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور جو غیر قانونی اقدامات ہیں انہیں فوری طور پر روکا جائے، او آئی سی کا اس حوالہ سے بڑا واضح مئوقف ہے۔

پاکستان کا ہمیشہ سے اورتواتر کے ساتھ ایک مئوقف رہا ہے اور وہ یہ مئوقف ہے کہ جموں وکشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے اور آج بھی پاکستان کے مئوقف میں کوئی تبدیلی نہیں ۔ان خیالات کااظہار زاہد حفیظ چوہدری نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ بے بنیاد باتیں اور پراپیگنڈا ہے کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ نائجر میں ہونے والے او آئی سی وزراء خاجہ کونسل کے47ویں سیشن کے ایجنڈا کا حصہ نہیں تھا، جموں وکشمیر کا مسئلہ مستقل طور پر او آئی سی کے ایجنڈا پر موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کی قراردادیں موجود ہیں جبکہ اوآئی سی سربراہی اجلاسوں کی قراردادیں بھی ہیں اور او آئی سی وزراء خارجہ کونسل کی قراردادیں بھی ہیں، گذشتہ روز نائیجر کے وزیر خارجہ،سعودی وزیر خارجہ اور ترکی کے وزیر خارجہ نے اوآئی سی وزراء خارجہ کونسل اجلاس میں جموں وکشمیر کے مسئلہ پر بات کی، یہ بالکل بے بنیاد پراپیگینڈا ہے کہ جموں وکشمیر کا مسئلہ اوآئی سی کے ایجنڈا پر نہیں ، یہ بالکل غلط بات ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کے حوالہ  پانچ اگست2019کے بھارتی  اقدامات کے بعد مسئلہ کشمیر کے حوالہ اوآئی سی کانٹیکٹ گروپ کے تین اجلاس ہو چکے ہیں جن میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کی واضح طور پر مذمت کی گئی ، بھارت کو واضح طور پر کہا گیا کہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی جو خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ان کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور جو غیر قانونی اقدامات ہیں انہیں فوری طور پر روکا جائے، او آئی سی کا اس حوالہ سے بڑا واضح مئوقف ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے اس چیز کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جموں وکشمیر کے حوالہ سے  پاکستانی مئوقف کیا ہے اور بھارتی مئوقف کیا ہے،اگر بھارتی مئوقف سے شروع کریں تو سب سے پہلے بھارت نے کشمیریوں کے ساتھ وعدہ کیا ، بھارت نے اپنی عوام کے ساتھ یہ وعدہ کیا اور عالمی برادری کے ساتھ یہ وعدہ کیا کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہو گا لیکن اس کے بعد لوگوںنے دیکھا کہ بھارت اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں لے کر گیا اور پھر اس کی قراردادوں کو ماننے سے انکار کردیا، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کے حوالہ سے فساد پیداکرنے کے لئے آرٹیکل 370اور35-Aکو اپنے آئین میں شامل کیا اور اس کے بعد انہوں نے اسے بھی ختم کردیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ سے اورتواتر کے ساتھ ایک مئوقف رہا ہے اور وہ یہ مئوقف ہے کہ جموں وکشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے اور آج بھی پاکستان کے مئوقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں اصلاحات متعارف کروانے کا ایک سلسلہ جاری ہے اور یہ پراسیس گلگت بلتستان کے عوام کی امنگوں اور ضروریات کی بنیاد پر ہے۔

انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کو پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف جو ڈوزیئر دیا گیا، اس میں 86شواہد فراہم کئے گئے ہیں کہ کس طرح بھارت منی لانڈرنگ میںملوث ہے، کس طرح بھارت دہشت گردوں کی تربیت کے حوالہ سے ملوث ہے، کس طرح بھارت دہشت گردوں کی مدد کررہا ہے، مالی معاونت فراہم کررہا ہے اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروئیاں کرنے میں کس طرح معاونت کررہا ہے ، ہم نے پورے کے پورے بھارتی نیٹ ورک کو ایکسپوز کیا ہے۔

بھارت کو دنیا کے سامنے ایکسپوز کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اب تک بھارت خود کو دہشت گردی سے متاثرہ ملک کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کررہاہے حالانکہ حقیقت یہ ہے بھارت اس وقت مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھی ریاستی دہشت گردی کررہا ہے اور پاکستان کے اندر بھی بھارت ریاستی طور پر دہشت گردی کی پشت پناہی کررہا ہے ۔ ہم نے دنیا کے ساتھ شواہد شیئر کئے ہیں اور ہمارادنیا سے مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ کے جو انسداد دہشت گردی کے میکنزمز اور باڈیز ہیں وہ ان شواہد کی بنیاد پر کاروائی کریں اور بھارت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائیں اور بھارت کو دہشت گردی کو بطور ریاستی پالیسی استعمال کرنے سے روکیں۔

ایک سوال کے جواب میں زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت ایک نقطہ پر عالمی عدالت انصاف میں گیا کہ ویانا کنونشن کے تحت کے قونصلر رسائی کلبھوشن یادیو کو دینی چاہئے یا نہیں دینی چاہئے اور اس پر آئی سی جے کا فیصلہ آیا کہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دی جائے، پاکستان نے آئی سی جے کے فیصلہ پر عملدرآمد کے لئے جو فوری اقدامات درکارتھے وہ لئے اور بھارت کو قونصلر رسائی بھی دی گئی۔

ان کا کہناتھا کہ ویاناکنونشن کہتا ہے کہ ایک تو آپ قونصلر افسر کی ملاقات کرائیں، دوسرااسے بات کرنے کا موقع دیں،تیسرااسے خط وکتابت کا موقع دیں اور چوتھا اسے وکیل مقررکرنے کا موقع دیں، ہم نے یہ سب کچھ کیا لیکن بھارت حیلے بہانوں اور ہٹ دھرمی سے کا م لے رہا ہے، بھارت کا مطالبہ ہے کہ بھارتی وکیل کو پاکستانی عدالت میں پیش ہونے کی اجازت دی جائے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں پاکستانی موقف جرات وتدبرسے پیش کیا، ترجمان دفترخارجہ

ہم نے انہیں بارہا یہ بات سمجھائی ہے کہ پاکستان کا قانون یہ کہتا ہے کہ صرف وکلاء حضرات معزز ججوں کے سامنے پیش ہوسکتے ہیں جن کے پاس پاکستان میں پریکٹس کرنے کا باضانطہ لائسنس موجود ہے، بھارت کو یہ بات سمجھنی چاہیے اور ہم بھارت کو بارہا اس بات کی یقین دہانی بھی کرواچکے ہیں کہ انہیں کلبھوشن یادیو کیس میں مئوثر نظرثانی پاکستانی عدالتوں سے ہی ملنی ہے اس لئے بھارت کے لئے ضروری ہے کہ وہ پاکستانی عدالتوں کے ساتھ تعاون کرے تاکہ آئی سی جے کے فیصلہ پر مکمل عملدرآمد کیا جاسکے۔