فاروق عبداللہ،عمرعبداللہ کے گرد گھیرا تنگ


سری نگر،نئی دہلی:بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلی فاروق عبد اللہ اور عمر عبداللہ کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔

فاروق عبد اللہ اور عمر عبداللہ سمیت 2500 سے زائد افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے ۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے قبل اراضی سے متعلق قانون روشنی ایکٹ کے تحت اراضی حاصل کی ہے یا فائدہ حاصل کیا ہے۔

مزید پڑھیں:صدرپیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی محبوبہ مفتی پھر سے نظر بند 

بھارتی تفتیشی ادارے سی بی آ ئی نے اس سلسلے میںمقبوضہ کشمیرکے سابق وزیرتاج محی الدین سمیت کئی افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے ۔ تاج محی الدین پر الزام ہے کہ انہوں نے 13کنال اراضی غیرقانونی طور پر حاصل کی تھی ۔اراضی سے متعلق قانون روشنی ایکٹ کے تحت فائدہ حاصل کرنے والے 6853 سے زائد افراد کی ایک اور فہرست جاری کی گئی ہے۔

اس فہرست میں جموں کے 25سواوروادی کے4353افراد کے نام شامل ہیں۔ان افراد میںمتعدد سابق وزرا، سابق بیوروکریٹس اور ممتاز کاروباری افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ سابق وزرائے اعلی فاروق عبد اللہ اورعمرعبداللہ اور پی ڈی پی اور کانگریس سے وابستہ کئی دیگر سیاسی رہنماں کے علاوہ کچھ ریٹائرڈ پولیس افسران پر بھی زمین تجاوزات کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ عبداللہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔