سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزاد ے علی موسی گیلانی گرفتار


ملتان(صباح نیوز) ملتان میں سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسی گیلانی کو گرفتارکر لیا گیا ،سابق رکن قومی اسمبلی علی موسی گیلانی احتجاج کے لیے تھانہ چہلیک پہنچے تھے جہاں انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس نے  پیپلزپارٹی کی جانب سے بغیر اجازت ریلی نکالنے پر مقدمہ درج کر لیا ہے

جس میں سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے 4 بیٹوں کے علاوہ پیپلزپارٹی کے رہنما خواجہ رضوان، ڈویثرنل صدر خالد لودھی کو بھی مقد مے میں نامزد کیا گیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما علی موسی گیلانی کا کہنا ہے کہ مجھے اور ساتھیوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ایک نجی ٹی وی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے علی موسی گیلانی نے کہا کہ اپنے خلاف درج ایف آئی آرمانگی لیکن نہیں دی جارہی ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ علی موسی گیلانی کے خلاف آج پابندی کے باوجود ریلی نکالنے پر مقدمہ درج کیا گیا ۔ایف آئی آر میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے تیس رہنما وں کو نامزد کیاگیا جبکہ پچاس نامعلوم کارکن بھی ایف آئی آر میں شامل ہیں ۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے علی موسی گیلانی کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ علی موسی گیلانی کی گرفتاری سلیکٹڈ حکمرانوں کی غنڈہ گردی ہے، دھاندلی کی  پیداوار حکومت اب عوامی تحریک کو طاقت سے دبانا چاہتی ہے۔

بلاول نے کہا کہ حکومت مخالف احتجاج کو اوچھے ہتھکنڈوں سے روکنے کی توقع رکھنے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پرامن سیاسی سرگرمیاں اوراحتجاج عوام کاحق ہیانہیں روکناآئین کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ علی موسی گیلانی کو فورا رہا کیا جائے۔ دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے بھی علی موسیٰ گیلانی کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں  مذمت کی ہے اور اسے  فاشسٹ حکومت کی شرمناک کارروائی  قرار دی ہے۔ ٹوئٹر پر  اپنے بیان میں انہوں نے  اس عزم کا اعادہ کیا کہ سلیکٹڈ حکومت سے  چھٹکارا پایا جائے گا۔