بھار تی فوج کی طرف سے کشمیری خواتین پرجنسی تشد کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، حریت کانفرنس


سرینگر: مقبوضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکرٹری مولوی بشیر احمد عرفانی نے کہا ہے کہ قابض بھارتی فورسز کشمیری خواتین کو بھی مسلسل شہید کر رہی ہیں اور آسیہ اندرابی سمیت کئی کشمیری خواتین آج بھی بھارتی جیلوں میںنظربند ہیں جہاں انہیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جارہاہے۔    خواتین پر تشدد کے خلاف عالمی دن کے موقع پر سرینگر میں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسزکشمیری خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بھارتی فوج کے ظلم کی انتہاکا یہ عالم ہے کہ محاصروں اور تلاشی کارروائیوں کی آڑ میں بھارتی درندے گھروں میں داخل ہو کر مردوں کو قتل کرکے یا انہیں گھروں سے باہر نکال کر خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنارہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بھارتی فوج کی درندگی کا اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسکالر شبھ متھور نے کشمیر میں عصمت دری کو بھارتی فوجی حکمت عملی کا لازمی عنصرقرار دے دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ جس ملک کے سابق فوجی سربراہ کشمیری خواتین کی عصمت دری کی ترغیب دے رہے ہوںوہاں خواتین کے تحفظ اور انسانی حقوق کی پاسداری کی توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے۔انہوںنے کہاکہ عالمی طاقتوںکو بھارت کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی اور سخت اقدامات کرکے اسے انسانیت کی تذلیل اور خواتین پر تشدد سے باز رکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کشمیری خواتین پر ڈھائے جانے والے مظالم پر اقوام عالم کی خاموشی سے مزید جرائم کے لئے قابض بھارتی فورسز کے حوصلے بڑھ رہے ہیں۔

مولوی بشیر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ کشمیری خواتین کے خلاف جنسی تشدد پر بھارتی فوجیوں سے باز پرس کی جائے اور کشمیر میںجنسی استحصال،عصمت دری اور تشدد سے پاک ماحول کو یقینی بنایا جائے۔ مولوی بشیر احمد نے مزید کہا کہ ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی کئی عالمی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں مقبوضہ جموںو کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں خواتین پر تشدد اور بے حرمتی کے چشم کشا انکشافات کئے ہیں اور ایسے واقعات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان مقبوضہ کشمیر،فلسطین پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا،شاہد خاقان

دریں اثناء جموں وکشمیر ماس مومنٹ کی سرپرست فرید بہن جی نے بھی سرینگر میں ایک بیان میں کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں خواتین پر جنسی تشدد بھارت کی فوجی حکمت عملی کا حصہ ہے اور 1991ء میں ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوشپورہ میں سینکڑوں خواتین کو اجتماعی زیادتی اور 2009ء میںشوپیاں میں آسیہ اور نیلوفر کی بے حرمتی اورقتل اس کی واضح مثالیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  5 اگست 2019 کے بعد کشمیری خواتین کے خلاف بھارتی فورسز کی درندگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ کشمیری خواتین کے خلاف بھارتی فورسز کی درندگی کیخلاف اپنی آواز بلند کریں ۔