موجودہ حکومت کورونا سے زیادہ بڑا خطرہ ، کسی محاذ پر چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے، مولانا فضل الرحمان


پشاور: پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) وجمعیت علما اسلام  کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ جعلی حکمران جو مرضی کرلیں پشاور میں جلسہ ضرور ہوگا، موجودہ حکومت کورونا سے زیادہ بڑا خطرہ ہے، حکومت عوام کی نہیں چوری کے مینڈیٹ کی نمائندہ ہے، حکومت کو کسی محاذ پر چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک ٹرمپ چلاگیا اب پاکستانی ٹرمپ کو  بھی چلتا کریں گے، اس حوالے سے ہر شخص کو بڑی سنجیدگی سے کردار ادا کرنا چاہئے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اتوار کو پشاور میں تاریخی جلسہ ہوگا،جسے دیکھ کر حکومت کے ہوش اڑیں گے۔  پشاور میں ایک بہت عظیم الشان اور تاریخی عوامی جلسہ ہونے جا رہا ہے، ناجائز حکمرانوں کی طرف سے بہت کوشش کی گئی کہ یہ جلسہ نہ ہو، کوئی اور وجہ نہ ملی تو پھر کہا کہ کورونا کاخطرہ ہے، ہمارے نزدیک یہ ناجائز حکومت سب سے بڑا کورونا ہے، اس سے جان چھوٹ جائے تو قوم شفایاب ہوجائے گی۔

فضل الرحمان نے کہا کہ یہ ووٹ چوری کرکے اقتدار میں آئے، نظام میں تبدیلی لانا ہوگی تاکہ مرضی کے نتائج نہ بنائے جاسکیں، پی ڈی ایم کا تنظیمی ڈھانچہ مکمل ہوچکا، پوری یکسوئی کے ساتھ تمام جماعتیں آگے بڑھ رہی ہیں۔۔انہوں نے کہا کہ پشاور کے شہری بی آر ٹی کی حالت دیکھ کر ملک کی حالت جان سکتے ہیں، ہم ملک کے ہر مکتبہ فکر اور ہر طبقہ کی نمائندگی کررہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام کے ووٹ چوری کرنے والوں کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیں گے، ملک میں ناجائز حکومت کے خلاف تحریک جوبن پر ہے۔فضل الرحمان نے کہا کہ حکمران بذات خود بڑا کورونا وائرس ہیں، کورونا 19 کے ساتھ ساتھ ہم کورونا 18 کی بھی بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا تنظیمی ڈھانچہ پوری یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، 30 نومبر کو پی ڈی ایم کا جلسہ ملتان میں ہوگا، کسی محاذ پر ہم انہیں آرام سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ یہ حکومت چوری کے مینڈیٹ کی نمائندہ ہے، موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ نہیں ہے، ہمارا اگلا جلسہ 26 نومبر کو جے یو آئی کے تحت لاڑکانہ میں ہوگا، پی ڈی ایم کا تنظیمی ڈھانچہ مکمل ہوچکا ہے،مولانافضل الرحمن نے اسٹیٹ بینک کے حالیہ بیان کا حوالہ دیا کہ مرکزی بینک نے بتایا کہ 1992 کے بعد سے پہلی مرتبہ پاکستان کا شرح نمو 0.4 پر پہنچ گیا ہے۔ معاشی بحران بھی ریاست کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ اس وقت ملک معاشی انحطاط کا شکار ہے۔ معاشی انحطاط سے ملک کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ سوویت یونین بھی معاشی انحطاط کی وجہ سے ٹوٹا تھا۔ ملک کو بچانے کیلئے تمام اداروں اور عوام کو ایک پیج پر ہونا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ ادارے جو ملک کے دفاع کے ضامن ہیں اور اس ناجائز اور نااہل حکومت کی پشت پناہی کرتے ہیں، وہ ریاست کی بقا کا حق ادا نہیں کررہے۔انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ ریاست کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عوام، فوج، سول بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ کو ایک پیج پر لڑنا چاہیے کہ یہ تقسیم عجیب ہے کہ ملک معاشی بحران کا شکار ہے اور ہم اس نااہل حکومت کو سپورٹ کرنے جارہے ہیں، اس سے بڑی نااہلی کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ اب ہمیں پاکستان کے ٹرمپ کو بھی باہر نکلنا ہے پھر بھارت کا ٹرمپ رہ جائے گا، وہ ادھر کی عوام جانیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قوم کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بی آرٹی پشاور کی بسیں دھکے پر چل رہی ہیں۔ بی آر ٹی دیکھ کران کی نااہلی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ آج عام آدمی پریشانی کا شکار ہے، ہرطبقہ مشکل میں ہے۔ سیاسی نظام میں تبدیلی لانیکی ضرورت ہے۔ مستقبل کے لیے پلاننگ کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہ عبدالعزیز کو جے یو آئی ف میں شمولیت پر خوش آمدید کہتا ہوں،۔ اس سے پہلے بھی کرک کی اہم شخصیات نے جے یو آئی ف میں شمولیت کااعلان کیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ علامہ خادم حسین رضوی کی ناگہانی موت پر اظہارافسوس کرتے ہیں۔ اللہ تعالی علامہ خادم رضوی کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے