گندم کے مصنوعی بحران کو طوالت دے کر عوام کو لوٹا جا رہا ہے،پاکستان اکانومی واچ

کراچی:پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گندم کے مصنوعی بحران کو طوالت دے کر عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔گزشتہ سال کی شدید بحران کے بعد عوام امید کر رہی تھی کہ امسال پیشگی قدامات کے زریعے بحران کا سدباب کیا جائے گا مگر بات بیانات اور دھمکیوں سے آگے نہیں بڑھ سکی جس پر شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ گندم کی درامد کے اعلانات اور فیصلے بھی کئے گئے مگر اس میں تیزی نہیں لائی گئی جس سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل سکا۔ اب چاروں صوبے اور مرکزی حکومت گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے پر متفق نہیں ہو رہے ہیں جس سے مستقبل میں بھی بحران کا اندیشہ ہے۔

محکمہ خوراک، آڑھتیوں،منافع خوروں اور فلور ملز مافیا کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے اور وہ مسلسل عوام کا شکار کر رہے ہیں۔

مرکزی حکومت درامد شدہ غیر معیاری گندم تو پچیس سو روپے من خریدنے کو تیار ہے مگر اپنے کاشتکار کو سولہ سو روپے من سے زیادہ دینے کو تیار نہیں ہو حیران کن ہے۔ یہ غیر ملکی کاشتکاروں کو مقامی کسانوں پر ترجیح دینے ، انھیں مایوس کرنے اور دیہی آبادی کے استحصال کے مترادف ہے۔انھوں نے کہا کہ دو سال قبل آٹے کی قیمت 33 روپے فی کلو تھی جو اب 70 روپے کلو سے زیادہ ہے۔

دو سال قبل عوام سالانہ 850 ارب روپے کا آٹا استعمال کرتے تھے جبکہ اب انھیں اس ضمن میں اٹھارہ سو ارب سے زیادہ خرچ کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔دو سال قبل جب چینی 58 روپے فی کلو تھی عوام چینی کی خریداری پر 326 ارب روپے خرچ کرتے تھے جبکہ اب چینی 110 روپے کلو سے زیادہ ہے اور عوام کو اس کی خریداری پر 618 ارب روپے سے زیادہ خرچ کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ دیگر ضروری اشیاء کی قیمت بھی بہت بڑھ گئی ہے۔ اس طرح سے مافیا نے لاک ڈائون اور معاشی حالات سے پریشان عوام کی جیت سے کئی کھرب روپے نکلوا لئے ہیں جبکہ دو سال قبل بجلی دس روپے فی یونٹ تھی جو اب بیس روپے فی یونٹ ہو گئی ہے جس سے صارفین جی جیب سے ایک کھرب روپے نکلوائے گئے ہیں۔