پاک فوج کے خلاف بولنے والوں کو بھارت چلے جانا چاہئے، اعجاز شاہ


ننکانہ صاحب: وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر)اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ پاک فوج کے خلاف بولنے والوں کو بھارت چلے جانا چاہئے ، ملک سے باہر بیٹھ کر پاک فوج کے سپہ سالار پر الزمات لگائے گئے اور قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ ساری باتیں لوٹی ہوئی دولت بچانے کے لیے کی گئیں۔

ننکانہ صاحب میں سیرت کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت 22 کروڑ عوام کی ماں ہوتی ہے، ایک سیاسی جماعت کا بیانیہ آپ کے سامنے ہے،  ملک سے باہر بیٹھ کر پاک فوج کے سپہ سالار پر الزمات لگائے گئے اور قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ ساری باتیں لوٹی ہوئی دولت بچانے کے لیے کی گئیں،سیاسی جماعت کے رہنما کی جانب سے آرمی چیف پر الزام تراشی کی گئی ، جس نے بھی فوج  کے خلاف بولنا ہے وہ امرتسر چلا جائے .

انہوں نے کہاکہ یہ جو لوگ باتیں کررہے ہیں میراخیال ہے پاکستان والوں کو ان  کی سیکیورٹی کا بھی خیال رکھنا چاہئے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ جو لوگ جنہوں نے قربانیاں دی ہیں ،دہشت گردی کے خلاف لڑ کر اور مشرقی بارڈر پر لڑ کر اور بھارت سے لڑ کر ، ایک ایک گھر میں چار، چار، پانچ ، پانچ شہید ہیں وہ ان کو ماردیں گے۔جو لوگ (ن)لیگ کے اس بیانیہ کے ساتھ ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت بھی کرے کیونکہ مجھے لگتا یہ ہے کہ انہیں خطرہ ہے۔ اپنی فوج کے خلاف جو بات کرتا ہے میرا خیال ہے اسے بارڈر کراس کر جانا چاہئے وہ امرتسر جا کر رہے اور لاہور اور پاکستان میں نہ ہی رہے تو اچھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  حکومت دشمنی میں سیاسی جماعتیں حد پار کر گئی ہیں۔ ایاز صادق کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کے لئے لوگوںنے درخواستیں دیں۔ لاہور اور اسلام آباد میں دی گئی درخواستوں کو قانونی مشاورت کے لئے بھیجا ہے۔ ایاز صاد ق نے ہماری فوج اور ابھی نندن سے متعلق   بہت غلط بات کی ہے۔میرے خیال میں  قانون کے مطابق ایاز صادق کے بیان کے معاملہ دیکھنا چاہئے، نواز شریف بھی جلد پاکستان آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا ریاست قوم کی ماں ہوتی ہے، پوری قوم اپنی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے، ہر پاکستانی  پاک فوج سے محبت کرتاہے۔ اللہ سے دعا ہے وہ پاکستان کی حفاظت کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوروناوائرس کی شرح بڑھی تو لاک ڈائون ہو گا، لوگوں کو چاہیئے کہ وہ احتیاط کریں اور کوروناوائرس کے حوالہ سے جاری ایس او پیز پر عمل کریں۔