ن لیگ، پی پی،پی ٹی آئی میں کوئی اختلاف نہیں، سراج الحق


لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کا وعدہ موجودہ اورسابقہ حکومتوں نے بھی کیا مگر ان وعدوں کا کیا ہوا۔ن لیگ پی پی اور پی ٹی آئی میں کوئی اختلاف نہیں ان کا جھگڑا اسٹیبلشمنٹ کے فیڈر کا ہے، جو آج عمران خان کے منہ میں ہے  مسئلہ آستین کے سانپوں کا ہے۔عمران خان کہتے ہیں کہ مافیاز کا راج ہے ،مافیاز ہمارے ساتھ نہیں آپ کے دائیں بائیں ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز  مظفر گڑھ میں لیہ ،ڈیرہ غازیخان مظفر گڑھ کے امرائے اضلاع کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صوبائی امیر رائو محمد ظفر امرائے اضلاع منور حسین،رشید اختر،انجینئر عمر درازفاروقی بھی موجود تھے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ  11 جماعتوں کا اتحاد اصل میں ن لیگ اور پی پی کا گٹھ جوڑ ہے موجودہ حکومت میں بھی وہی مسائل ہیں جو گزشتہ حکومت میں تھے۔پی ٹی آئی حکومت کے دو سال میں قرضے میں تیزی سے اضافہ ہوا۔جھگڑا صرف کرسی کا ہے ۔مدت ملازمت کی توسیع میں ان پارٹیوں نے حکومت کا ساتھ دیا آج کہتے ہیں کہ ظلم ہو رہا ہے۔امریکہ کی غلامی میں یہ سب ایک ہیں۔جماعت اسلامی ایسے پاکستان کی جدوجہد کررہی ہے جس کے بچوں کو عرب کے ریگستانوں میں جاکر مزدوری نہ کرنا پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اس وقت بیسٹ آپشن کے طور پر موجود ہے۔عوام نے سب کو آزمایا اور ہر ایک سے دھوکہ کھایا۔جماعت اسلامی پورے اخلاص کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کرے گی۔اس وقت ملک میں مائوں بہنوں بیٹیوں حتی کہ معصوم بچیوں کی عزت اور جان محفوظ نہیں۔ مودی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا مودی ہماری طرف آنکھ اٹھائے گا تو آنکھ پھوڑ دیں گے اور قدم بڑھائے گا تو گلہ دبا دیں گے مگر مسئلہ ان آستین کے سانپوں کا ہے۔عمران خان کہتے ہیں کہ مافیاز کا راج ہے ،مافیاز ہمارے ساتھ نہیں آپ کے دائیں بائیں ہیں۔ہمارے پاس اللہ کا دیا ہواوہ نظام ہے جس میں ہمارے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم پاکستان کو ایک ایسی ریاست دیکھنا چاہتے ہیں جہاں مالی کرپشن نہ ہو۔حکومت اور ریاست عوام کا خون نچوڑنے والی نہ ہو۔غریبوں کا معاشی استحصال نہ ہو۔لوگوںکو بنیادی ضروریات کیلئے وڈیروں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے گھروں کا طواف نہ کرنا پڑے ۔سود سے پاک معیشت ہی ملک و قوم کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن کرسکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ عشق مصطفی کسی ایک دن نہیں بلکہ پوراسال اور پوری زندگی رہے ۔ربیع الاول کا مہینہ ایک مبارک مہینہ ہے۔اس ماہ مبارک میں ہمیں عہدکرنا چاہئے کہ حضور ۖ کا لایا ہوا نظام معیشت ،نظام معاشرت اور نظام سیاست و جمہوریت کے نفاذ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔نبی ۖ کو مسجد کے امام کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ میں امام ماننا ہوگا۔یہی عشق مصطفی ہے۔اسلامی انقلاب کے لیے ووٹ کے ساتھ اپنی زندگی کو بھی اللہ اور اس کے رسول ۖ کے تابع بناناہی محبت و عقیدت اور اطاعت کا عملی ثبوت ہے ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے امیر راؤ محمد ظفر نے کہا کہ مظفر گڑھ جنوبی پنجاب کا قدیم ضلع ہے مگر یہاں کے عوام بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ ضلع میں یونیورسٹی اور ایک بڑے اور معیاری ہسپتال کا قیام انتہائی ضروری ہے ۔سابقہ حکومتوں نے ضلع میں ایک یونیورسٹی اور طیب اردگان ہسپتال کے قیام کا اعلان کیا تھا ہسپتال کے تمام اخراجات ترکی گورنمنٹ نے پورے کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر نااہل حکمرانوں اور جنوبی پنجاب کے نام نہاد عوامی نمائندوں نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ترکی کی حکومت سے دوبارہ رابطہ کیا جائے اور ہسپتال کی تعمیر کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔