پی ڈی ایم کا بیانیہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرے گا،شبلی فراز


اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایاز صادق کا بیان پی ڈی ایم کا بیانیہ ہے  پی ڈی ایم کا بیانیہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرے گا، عقلمند عناصر نوازشریف کا ستھا چھوڑ کر  مسلم لیگ پاکستان بنا لیں، اپوزیشن نے ایسے بیانات سے  خدمت نہیں، منافقت کی سیاست کی، ایاز صادق اور سینیٹر عطا الرحمان کو اپنے بیان پر کوئی ندامت نہیں، ایسے بیانات پر قانونی کارروائی ہوگی، کوئی رعایت نہیں ملے گی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  انھوں نے کہا کہ  پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے کسی رہنما نے ایاز صادق کے بیان کی مذمت یا تردید نہیں کی اس کا مطلب ہے کہ جس سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ یہ پی ڈی ایم کا بیانیہ ہے۔ ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کا پہلا قدم ہوتا ہے کہ ناامیدی پھیلائی جائے، ملک کے عوام کو یہ تاثر دیا جائے کہ کوئی بھی چیز اچھی نہیں ہے اور مختلف چیزیوں کی جاتی ہیں تاکہ معاشرے میں نفسیاتی یا حقیقی طور پر ناامید پیدا ہو۔عمران خان نے برسر اقتدار آنے کے بعد پہلا قدم یہ اٹھایا کہ معیشت کو عدم استحکام کا شکار کیا اور اس میں پہلا ہدف تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ کو کم کیا جائے اور ہم نے ناصرف اسے زیرو کردیا بلکہ مثبت چلے گئے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کووڈ جیسی مہلک وبا کے باوجود ہم نے اس وبا کو چلتا رہنے دیا جس سے لوگوں کے جان و مال کا تحفظ ہو سکا جبکہ ہم نے اپنی برآمدات کو بڑھایا اور کووڈ بعد خطے کے تمام ممالک کے مقابلے میں ہماری برآمدات کی بہتر کارکردگی رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں ایاز صادق نے ایک ایسی تقریر کی جس سے ناصرف پاکستان ایک بحث چھڑ گئی اور عوام نے شدید ردعمل دیا اور پھر سینیٹ میں مولانا عطاالرحمن کی تقریر ایک بیانیہ بنانے کی کوشش ہے تاکہ اس ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا جا سکے۔

سینیٹرشبلی فراز نے کہا کہ کسی بھی سیاسی لیڈر نے نہ اس کی مذمت کی نہ تردید، ظاہر یہ ہوا یہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا بیانیہ ہے، اس میں کچھ ایسے لیڈر بھی شامل ہوں گے جو اس کا حصہ نہیں بننا چاہتے، حالت مجبوری میں وہ بھی خاموش ہیں لیکن ان کی خاموشی بھی ان کو اس الزام سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ ایاز صادق اور سینیٹر مولانا عطاالرحمن نے اپی بات کا دفاع بھی کیا ہے، ابھی وہ پریس کانفرنس کر رہے تھے، انہیں کوئی ندامت نہیں ہے، نہ وہ اس کی معافی مانگنا چاہتے ہیں نہ اس کی تردید کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سیاسی بدمعاشوں کو ملک کے تشخص کو مسخ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے گی، ہم ان کے اس قسم کے بیانات کا احتساب کریں گے اور ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔س

ینیٹرشبلی فراز نے کہا کہ ان لوگوں نے پاکستان کی سیاست کو اپنے ذاتی مفاد کا محور بنا دیا ہے، عمران خان کے آنے کے بعد یہ تبدیل ہو گا اور اب سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفادات پر سیاست ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے رہنماؤں کا بیانیہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے، وہ ہم نے ایف اے ٹی ایف میں بھی دیکھ لیا تھا اور نام نہاد سیاسی ایونٹس میں بھی دیکھ لیا۔ہماری اپوزیشن ملکی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کا تحفظ کرنا چاہ رہی ہے، قانون کے سامنے پیش ہو کر اثاثوں کی وضاحت دینے کے بجائے خود کو ایک انقلابی اپوزیشن بنا دیا ہے۔

انہوں نے وقت کے ساتھ لوگوں کو استعمال کیا ہے، مسلم لیگ(ن) کس سسٹم کی مرہون منت ہے پورے پاکستان کو پتہ ہے کہ کس طرح سے ان کی سیاست شروع ہوئی اور یہ کہاں تک پہنچے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کوئی سیاسی جدوجہد نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اپوزیشن کی جانب سے معروف شاعر احمد فراز کا حوالہ دیے جانے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ احمد فراز نے نہیں کہا تھا کہ کرپٹ لیڈروں کا ساتھ دینا اور بہادر رہنما کے ساتھ مت کھڑے ہونا، ن لیگ اور پیپلز پارٹی بتائیں کہ انہوں نے احمد فراز کے ساتھ کیا کیا، یہ منافقت نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ جو بیانیہ پی ڈی ایم لے کر چل رہی ہے وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں، 40-50 سال انہوں نے حکومت کی اور یہ گلگت بلتستان جا کر یہ کہتے ہیں کہ ہم گلگت بلتستان کو جنت بنا دیں گے۔ گلگت کے عوام کو کہتا ہوں کہ وہ جا کر کراچی اور سندھ کے حالات دیکھیں کہ پیپلز پارٹی نے اسے دوزخ بنا دیا ہے اور اب آپ سے وعدے کرنے آئے ہیں کہ اس کو جنت بنائیں گے۔ پاکستان میں اس وقت ہائبرڈ وار چل رہی ہے۔ جب حکومت سنبھالی تو ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے دوست ملکوں کیساتھ مل کر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔حکومت نے انتہائی کامیابی کیساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو ختم کیا۔حکومت نے ہاؤسنگ کے منصوبوں میں اصلاحات کیں۔ حکومتی حکمت عملی سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا سلسلہ ڈان لیکس سے شروع ہوا۔ایاز صادق کی تقریر پر عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔سلسل سے ہونیوالے واقعات شاہدہیں کہ ملک کو عدم استحکام کی جانب دھکیلا جا رہا ہے ایاز صادق کے بیان کی مذمت نہ کرنے سے ایسا لگتا ہے کہ یہ پی ڈی ایم کا بیانیہ ہے ۔حکومت ریاست مخالف بیانات کو ہر گز برداشت نہیں کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ  اپوزیشن ذاتی مفاد کے تحفظ کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ سینیٹر شبلی فراز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ  پی ڈی ایم کا بیانیہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرے گا۔