محبوبہ مفتی بھارت سے بغاوت کے مقدمے میں 27 نومبر کو عدالت میں طلب


 سری نگر: مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدرمحبوبہ مفتی  کے خلاف بھارت سے بغاوت کا مقدمہ  دائر کر دیا گیا ہے ۔ بھارتی اخبار ہندوستان  ٹائمز کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے سرکردہ وکیل  ہمانشو سر وستو نے اترپردیش  کی عدالت میں  پٹیشن دائر کر دی ہے۔

کے پی آئی  کے مطابق پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ  محبوبہ مفتی  نے 23 اکتوبر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئی بھی کشمیری اب  بھارتی پرچم نہیں لہرائے گا۔ وکیل کے مطابق محبوبہ مفتی  بھارت کے خلاف بغاوت  کی مرتکب ہوئی ہیں ان کو بغاوت کی سزا دی جائے ۔

عدالت نے  محبوبہ مفتی   کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔ محبوبہ مفتی   اور دوسرے متعلقین کو27  نومبر کو سماعت کے لیے طلب کیا گیا ہے  دریں اثنا ایک انٹرویو میں محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارتی  حکومت جموں و کشمیرکے لوگوں کے خلاف  طاقت کا استعمال کرتی ہے جبکہ چین کا نام لینے سے بھی تھرتھراتی ہے،  انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے آئے روز نئے فرمان جاری کئے جاتے ہیں اور ہماری زمین لینے کا تازہ فرمان جاری ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیرکو ایک جیل میں تبدیل کیا گیا ہے، جس میں صحافیوں، سول سوسائٹی اراکین اور سیاسی لیڈروں کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کے نئے اراضی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے پر پارٹی کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور ہمارے دفتر کو سیل کیا گیا، میں نے ان سے ملنے کے لئے جانے کی کوشش کی، لیکن مجھے اجازت نہیں دی گئی’۔

مزید پڑھیں: بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں زمین کے حصول، ملکیت کا اختیار دینے کے خلاف مکمل ہڑتال

محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارتی  حکومت کی طرف سے روز فرمان جاری کئے جاتے ہیں۔ کبھی ڈومیسائل کا تو کبھی سرکاری ملازموں کی سبکدوش ہونے کی عمر کی حد میں کمی کرنے کا فرمان جاری ہوتا ہے’۔  انہوں نے کہا کہ حکومت کے جموں و کشمیر کو لوٹنے کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاہم خاموش بیٹھنے والے نہیں ہیں۔ جموں و کشمیر کو لوٹنے کے جو بھی ان کے پاس منصوبے ہیں انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا چاہے ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے’۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ جموں اور لداخ کے لوگ بھی بی جے پی کے چہرے کو پہچان گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا: ‘مجھے خوشی ہے کہ بی جے پی کا گھنانا چہرہ جموں اور لداخ کے لوگوں کے سامنے بھی آیا ہے، ان کو ڈوگروں سے کوئی مطلب ہے نہ لداخی لوگوں سے، کشمیر کے لوگوں سے کبھی تھا ہی نہیں، یہ لوگ صرف جموں و کشمیر کی زمین چاہتے ہیں اور اس کو بڑے سرمایہ کاروں کو دینا چاہتے ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ایک جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس میں صحافیوں، سول سوسائٹی اراکین اور سیاسی لیڈروں کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔