بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں زمین کے حصول، ملکیت کا اختیار دینے کے خلاف مکمل ہڑتال

فائل فوٹو

سری نگر: بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں زمین کے حصول اور ملکیت کا اختیار دینے کے خلاف ہفتے کو مکمل ہڑتال رہی۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی فیصلے خلاف ہفتے کو مکمل ہڑتال کی اپیل کی تھی ۔جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ ، پیپلز  لیگ اور دوسری جماعتوں نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

 کے پی آئی  کے مطابق ہفتے کو مقبوضہ کشمیر کے تمام اضلاع میں تجارتی مراکز بند اور عوامی ٹرانسپورٹ معطل رہی ۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق جموں وکشمیر  کے شمال و جنوب میں عوامی نقل و حرکت متاثر  اور دکانیں بندر ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور بند رہی ۔

کل جماعتی حریت کانفرنس نے  بیان میں کہا ہے کہ بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں زمین کے حصول اور ملکیت کا اختیار دیناجموں وکشمیر کے پشتنی باشندوں کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ اس کا مقصد کشمیری عوام کو اپنی زمین و جائیداد سے بے دخل کرکے بھارت سے کسی بھی فرد کو جموں وکشمیر کی حدود میں زمین جائیداد خریدنے کا حق دینا ہے ۔حریت کانفرنس نے بھارتی حکومت کے ان فیصلوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ‘جموں و کشمیر لوگ گونگے بہرے جانوروں کی مانند نہیں کہ وہ اس طرح کے قوانین کو برداشت کریں گے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق  بھارتی حکومت کی طرف سے علاقے کے اراضی قوانین میں ترامیم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔بھارتی حکومت کے اس اقدام کے خلاف سرینگر اور جموں میں گزشتہ چار روز سے مسلسل احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان مظاہروں کا اہتمام مختلف سیاسی جماعتوں نے کیا تھا۔

سرینگر میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران علاقائی جماعت ‘پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی’ (پی ڈی پی) کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے پی ڈی پی   دفتر کو بھی عارضی طور پر سیل کر دیا ہے۔نئے اراضی قوانین کے خلاف وہ جماعتیں بھی احتجاج کر رہی ہیں جو بھارت کے حکومتی حلقوں کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں پروفیسر بھیم سنگھ کی ‘نیشنل پینتھرس پارٹی’ اور حال ہی میں تشکیل دی گئی ‘جموں و کشمیر اپنی پارٹی’ بھی شامل ہیں۔

وی او اے کے مطابق جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے بھارت کی وفاقی حکومت کے خلاف “فیصلہ کن لڑائی” لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے بارے میں گزشتہ 15 ماہ کے دوران اٹھائے گئے ہر “غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام” پر مزاحمت کریں گے۔محبوبہ مفتی نے  پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ کسی کو بھی جموں و کشمیر کی زمین اور وسائل کو لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گی۔”ہم خاموش نہیں رہیں گے بلکہ ہر ممکن کوششں کریں گے۔ تاکہ کوئی بھی ہماری زمین اور وسائل کو ہم سے چھین نہ سکے۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، چاہے ہمیں کسی بھی حد تک جانا پڑے۔

سابق وزیرِ اعلی اور ‘نیشنل کانفرنس’ کے نائب صدر عمر عبداللہ نے سرینگر میں اپنی جماعت کے کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا “اگر جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں پہلے متحد ہو جاتیں تو انہیں یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو کمزور اور تقسیم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اب ہماری لڑائی اپنے، اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کے دفاع کے لیے ہے ۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کا چاچا آزادی چار سال بعد رہا

عمر عبداللہ کے مطابق “نئی دہلی کی حکومت کے حملوں کے خلاف لڑائی ایک ہفتہ یا ایک مہینے کی نہیں ہے۔ بلکہ یہ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس عمل کے دوران کتنے لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، کوئی نہیں جانتا۔”