مقبوضہ کشمیر میں نئے اراضی قوانین کے خلاف احتجاج شروع

انٹرنیٹ فوٹو

 سرینگر: بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں زمین کے حصول اور ملکیت کا اختیار دینے کے خلاف ہفتے کو مکمل ہڑتال کی جائے گی۔

کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی فیصلے خلاف ہفتے کو مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے ۔ سری نگر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میںنئے اراضی قوانین کے خلاف کشمیری سراپا احتجاج ہیں۔کے پی آئی  کے مطابق سری نگر،راجوری ،پیر پنچال اور جموں کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں ۔

آج اراضی قوانین کے خلاف سری نگر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے احتجاج  مظاہرے پر پولیس نے  حملہ کرکے  خورشید عالم ، وحید پرے ، سہیل بخاری ، محسن  قیوم اور روف بٹ سمیت کئی   کارکنوں اور رہنماوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ پولیس نے پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے سرینگر دفتر کو  بھی سیل  کر دیا ۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے  قوانین میں ترمیم کے بعد اب کوئی بھی بھارتی شہری کشمیر میں زمین خرید سکتا ہے۔ کشمیریوں کے مطابق مودی حکومت کا یہ حکم نامہ’دھوکا دہی، غیر آئینی اور ناقابل قبول ہے۔

نئی دہلی حکومت کی طرف سے گزشتہ برس دفعہ 370 کی تنسیخ اور دفعہ35 اے ختم کرنے سے قبل بھارت کی دوسری ریاستوں میں رہائش پذیر شہریوں کو جموں وکشمیر میں اراضی اور غیر منقولہ جائیداد خریدنے پر پابندی تھی اور صرف پشتینی باشندے” ہی ریاست میں اراضی خریدنے کے حق دار تھے۔  تاہم نئی ترامیم سے غیر رہائشی شہریوں کو نئی دہلی  کے زیر انتظام علاقے میں اراضی خریدنے کا راستہ فراہم ہو گیا ہے۔

اراضی کے متعلق پاس کئے گئے نئے قوانین کے خلاف جموں میں احتجاجی مظاہرئے کئے گئے۔ راجوری اور خط پیر پنچال کے دوسرے علاقوں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں ہیں۔پی ڈی پی کے جنرل سکریٹری اور سابق ایم ایل سی سریندر چودھری کی سربراہی میںکارکنان گاندھی نگر دفتر کے باہر جمع ہوئے اور نئے اراضی قوانین کے خلاف نعرے لگائے۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ باہر والے جموں میں زمین خریدیں گے اور اس سے مقامی لوگوں کے لئے صورتحال مشکل ہوجائے گی۔

مظاہرین نے ڈویژنل کمشنر کے دفتر کی طرف مارچ کیا تاہم پولیس نے انہیں روک لیا۔ احتجاج پرامن طور پر ختم ہوا۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے سریندر چوہدری نے کہایہ ہماری الگ ثقافتی اور لسانی شناخت پر واضح حملہ ہے، جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مسمار کرنے کے بعد مقامی نوجوانوں کے روزگار کے راستوں پر حملہ کیاجارہاہے۔جموں و کشمیرپنتھرس پارٹی کے چیئرمین ہرش دیو سنگھ کی سربراہی میں بھی ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ہرش دیو نے کہایہ مہاراجہ ہری سنگھ کے وژن کی توہین ہے جنہوں نے مقامی لوگوں کی ملازمتوں اور زمینوں کی حفاظت کے لئے 1927 میں اسٹیٹ سبجیکٹ متعارف کرایا تھا۔ان کاکہناتھاکہ نئے اراضی قانون نے آبادیاتی تبدیلیوں اور ثقافتی ورثے کے خاتمے کے خدشے سے مقامی لوگوں میں خوف کو جنم دیا ہے۔ان کاکہناتھاحکومت کے ذریعہ نافذ کیا جانے والا نیا اراضی قانون جموں و کشمیر اور خاص طور پر جموں خطے کے لوگوں کے ساتھ اعتماد کی خلاف ورزی ہے۔