قومی اسمبلی اجلاس میں ہنگامہ آرائی،ڈپٹی سپیکرکی آغا رفیع اللہ کو ایوان سے نکالنے کی رولنگ 


اسلام آباد:قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کے دوران ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے پیپلزپارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ کو ایوان سے نکالنے کی رولنگ جاری کر دی۔

اپوزیشن ارکان نے سارجنٹس کو پیچھے دھکیل دیا۔ حکومت کی طرف سے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر عملدرآمد کا مطالبہ کر دیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے دوبار واک آؤٹ کیا۔ حکومت اپوزیشن میں سیاسی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ کورم کی نشاندہی کر دی گئی۔

ایوان میں صورتحال ناخوشگوار ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ساڑھے گیارہ بجے دن ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوا۔ باقاعدہ کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ تاہم اجلاس ہنگامہ خیز ثابت ہوا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ اجلاس کو بے مقصد بنا دیا گیا۔ ایسی کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اپوزیشن ارکان احتجاجاً واک آؤٹ گر گئے، پی پی پی کی رکن شگفتہ جمانی نے کورم کی نشاندہی کر دی۔ کورم نہ ہونے پر اجلاس کی کارروائی آدھے گھنٹے تک معطل رہی۔ اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو وقفہ سوالات شروع کر دیا گیا۔

آغارفیع اللہ نے اپنے سوالات کے جوابات نہ آنے پر احتجاج کیا۔ ڈپٹی سپیکر نے انہیں نظرانداز کر دیا ہے جس پر آغا رفیع اللہ کی قاسم سوری سے تلخ کلامی ہو گئی اور پی پی رکن آگے بڑھتے ہوئے سپیکر ڈائس کے سامنے آ گئے۔ ڈپٹی سپیکر کو براہ راست مخاطب کرتے رہے۔ آغا رفیع اللہ کی شدید ہنگامہ آرائی پر قاسم سوری نے انہیں ایوان سے نکالنے کی رولنگ جاری کر دی۔ سارجنٹس آگے بڑھے تو پی پی پی ارکان نے انہیں پیچھے دھکیل دے دیا۔ راجہ پرویز اشرف نے ناخوشگوار صورتحال پر معذرت کی۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کی زرعی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ ناکافی ہے۔ اپوزیشن ارکان اس معاملے پر واک آؤٹ کر گئے۔

اپوزیشن ارکان واپس آئے تو سارجنٹس اپوزیشن نشستوں کی طرف حصار باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے مطالبہ کیا کہ آئین اور قانون کی پاسداری ضروری ہے۔ آغا رفیع اللہ کو نکالنے کے بارے میں رولنگ پر عملدرآمد کیا جائے۔ قواعد پر عمل کیا جائے۔ قانون کی پابندی ہر ایک پر لازم ہے۔ متذکرہ رکن ایوان میں نہیں بیٹھ سکتا۔ تاہم اس دوران آغا رفیع اللہ لابی میں موجود تھے۔ وہ واک آؤٹ کے دوران لابی میں چلے گئے تھے۔ بعدازاں رولنگ منسوخ کرنے کی تحریک پر پی پی کے متذکرہ واپس ایوان میں آنے پر تحریک بھی علی محمد خان پیش کی تھی۔