عید میلاالنبی ۖپر قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کی منظوری


اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے عید میلاالنبی ۖ کے مبارک موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کی منظوری  دے دی ہے ۔کابینہ کی جانب سے گستاخانہ خاکوں  کا سخت نوٹس لیتے ہوئے  واضح کیا ہے کسی بھی مسلمان کے لئے نبی کریم ۖ کی شان ِ اقدس میں گستاخی ناقابلِ برداشت  اور ناقابلِ قبول ہے۔ کابینہ نے اس معاملے پر  او آئی سی کے پلیٹ فارم سے موثر آواز بلند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت م وفاقی کابینہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق  کابینہ نے فرانسیسی صدر کی طرف سے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی شدید مذمت کی  ہے ۔کابینہ نے خاتم النبین آنحضورۖ کی شان اقدس کے حوالے سے گستاخانہ خاکوں اور ان سے مسلمانوں کے جذبات کو پہنچنے والی ٹھیس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مسلمان کے لئے نبی کریم ۖ کی شان ِ اقدس میں گستاخی ناقابلِ برداشت  اور ناقابلِ قبول ہے۔ کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے ہر میسر فورم کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی بھرپور انداز سے کی جائے گی۔ اس حوالے سے او آئی سی کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عالمی دنیا تک پاکستانی قوم اور امتِ مسلمہ کے تحفظات پہنچائے جائیں گے جب کہ  وزیراعظم نے تمام وزارتوں کو تین مہینوں کے اندر خالی آسامیوں کو پر کرنے کی ہدایت بھی کی ہے ۔

وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کی طرف سے کابینہ کو گندم کی خریداری اور دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ31جنوری 2021 تک 1.5ملین میٹرک ٹن گندم کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔ وزارت کامرس نے کابینہ کو گندم درآمد کے شیڈول کے بارے میں آگاہ کیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ تمام ترسیلات بروقت موصول ہوجائیں گی۔ وزارت صنعت و پید اوار نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ اس وقت 266,939میٹرک ٹن چینی ملک میں دستیاب ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے 99,639میٹرک ٹن چینی درآمد کی جاچکی ہے اور نومبر کے مہینے میں مزید 52,951میٹرک ٹن چینی دستیاب ہوگی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 30نومبر 2020 تک مطلوبہ تین لاکھ میٹرک ٹن چینی دستیاب ہوگی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گندم اور چینی کی ضروریات کو بروقت جانچنے کے لیے منظم اور مربوط طریقہ کار وضع کیا جائے جس میں تمام صوبوں کی ضروریات شامل ہوں۔ درآمد میں پیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے تاکہ کمی پیش نہ آئے۔

وزیراعظم نے خصوصی تاکید کی کہ درآمد شدہ گندم کی کوالٹی کو یقینی بنایا جائے۔  اعلامیہ کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے مختلف وزارتوں، ڈویژنزاور ان کے ذیلی اداروں میں سی ای او  اور منیجنگ ڈائریکٹرز کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت وفاقی حکومت میں کل 129سی ای او  اور منیجنگ ڈائریکٹرزکی آسامیاں خالی ہیں جن میں 33 آسامیاں مختلف اداروں کے آپس میں انضمام کی کارروائی کی وجہ سے خالی ہیں۔ وزیراعظم نے تمام وزارتوں کو تین مہینوں کے اندر خالی آسامیوں کو پر کرنے کی ہدایت دی اور اگلے کابینہ اجلاس میں صرف ان آسامیوں کی رپورٹ بشمول وجوہات پیش کرنے کی ہدایت کی جوکسی بھی وجہ سے پر نہیں کی جاسکتیں۔   وزارت قانون و انصاف کی طرف سے کابینہ کو تعزیرات پاکستان اور دیگر قوانین میں اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے اصلاحات کا مسودہ کابینہ کی کمیٹی برائے قانونی اصلاحات کے سامنے رکھنے اور تین مہینوں کے اندر تمام اصلاحات کابینہ کو حتمی منظوری کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔کابینہ نے وزارت ہوابازی کی طرف سے بین الاقوامی سول ایوئیشن کنونشن میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی ہے ۔کابینہ نے چار انسپیکشن کمپنیوں کو ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی طرف سے گندم کی درآمد ی کھیپ درآمد کرنے سے پہلے معائنہ کرنے کی اجازت دی ہے ۔کابینہ نے خلیجی ممالک کے لیے مویشی برآمد کرنے کی منظوری دی ہے ۔کابینہ نے حکومت پاکستان کو پیرو، ہنگری اور کولمبیا کی حکومتوں کی جانب سے موصول باہمی قانونی تعاون کی درخواستوں کی منظوری دی ہے ۔کابینہ نے ٹیلی کمیونیکشن ایکٹ 1996 کے تحت پالیسی ہدایات جاری کرنے کا معاملہ کابینہ کی کمیٹی برائے قانونی اصلاحات کے سپرد کردیا ہے ۔ کمیٹی کی سفارشات موصول ہونے کے بعد کابینہ فیصلہ کرے گی۔

وزارت ریلوے نے کابینہ کو پاکستان ریلوے کی بحالی اور تنظیم نو کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ ریلوے کو منافع بخش اور خود مختار ادارہ بنانے کے لیے جامع پلان مرتب کیا گیا ہے۔ یہ تنظیم نو سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہے اور وزارت خزانہ، قانون اور ایسٹیلشمنٹ ڈویژن نے اس پلان کی تائید کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس پلان سے ایم ایل ون منصوبے کو بروقت مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بحالی اور تنظیم نو کے عمل کو مقررہ وقت پر مکمل کیا جائے۔کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی کے مورخہ 15اکتوبر 2020 کو ہونے والے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی ہے ۔کابینہ نے وزیر صنعت و پیداوار کو کابینہ کمیٹی برائے توانائی میں شامل کرنے کی بھی منظور دی ہے ۔

 

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مورخہ 19اکتوبر 2020 کو ہونے والے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی جزوی توثیق کی ہے ۔وزیراعظم نے وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کو کسانوں کے لیے ایک جامع پیکج مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے ۔  کابینہ نے سیکرٹری وزارت ہوا بازی کو ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کا اضافی چارج 31دسمبر 2020 تک رکھنے کی منظوری دی ہے ۔ تاہم سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق متعلقہ قانون میں ضروری ترامیم کرکے پرائیویٹ سیکٹر سے امید وار طلب کرنے کے لیے اشتہار دینے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اس عمل کو دو ہفتوں کے اندر مکمل کیاجائے گا۔

وزیر منصوبہ بندی نے کابینہ کوبنیادی معاشی اعشاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ مالی سال میں جولائی تا اگست کرنٹ اکانٹ بیلنس بڑھ کر جی ڈی پی کا 1.2فیصد ہوچکا ہے جو کہ مثبت معاشی پیش رفت ہے۔ پچھلے سال کی نسبت اسی مدت میں برآمدات میں 27فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ روپے کی قدر مستحکم ہورہی ہے۔ جولائی تا اگست 1004بلین ٹیکس کی مد میں جمع کیا گیا جو کہ ٹارگٹ سے زیادہ ہے۔ قرضوں کی ادائیگیوں کے بعد بچنے والے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے جوکہ اس حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔ لارج سکیل مینوفیکچر نگ کے شعبے میں گذشتہ سال اسی دورانیے کے مقابلے میں 3.7فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کابینہ نے پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ 2020 کے تحت قومی میڈیکل و ڈینٹل اکیڈیمک بورڈ تشکیل دینے کی منظوری دی ہے ۔ کابینہ نے عید میلاالنبی ۖ کے مبارک موقع پر قیدیوں کی سزاں میں کمی کی منظوری دی۔