آئی پی ایس کی بیس لائن اسٹڈی نے پاکستان میں جبری مذہب کی تبدیلی کے الزامات کی تردید کر دی


اسلام آباد: انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز [آئی پی ایس] اسلام آباد کی طرف سے شائع کی جانے والی ایک حالیہ بیس لائن اسٹڈی نے مختلف سِول سوسائیٹی تنظیموں کی جانب سے پاکستان میں اقلیتوں کی جبری مذہب کی تبدیلی کے الزامات پر مبنی متفرق رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے انہِیں ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کی بنا پر بے بنیاد قرار دیا ہے۔

آئی پی ایس کے ریسرچ فیلو اور قائدِ اعظم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اینتھروپولوجی کے اسکالر غلام حسین کی ‘مذہب کی تبدیلی یا جبری تبدیلی: حقیقت اور بیانیہ ‘ کے عنوان سے تیار کردہ یہ اسٹڈی اس بیانیے کا تفصیلی تجزیہ اور مطالعہ کرتی ہے جس کے مطابق پاکستان میں اقلیتوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کو بالجبر اپنا مذہب تبدیل کر کے اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ان الزامات کی باز گشت بھارتی پارلیمنٹ سمیت مختلف فورمز اور بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن کی رپورٹس میں سناء دیتی رہی ہے جن کے مطابق پاکستان میں سالانہ کم و بیش 1000 ہندو اور عیساء لڑکیاں اغوا کی جاتی ہیں جس کے بعد بالجبر ان کا مذہب تبدیل کروا کر زبردستی ان کی شادی کر دی جاتی ہے۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس قسم کی کم از کم ایک درجن رپورٹس کیمتن کا تجزیہ کرتے ہوئے آئی پی ایس کی یہ بیس لائن اسٹڈی یہ اخذ کرتی ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے مذہب کی جبری تبدیلی کے لیے کی جانے والی منظم کوششوں کے الزام کے ثبوت کے طور پر عمومی طور پر جو رپورٹس پیش کی جاتی ہیں وہ زمینی حقائق اور بنیادی اعداد و شمار سے عاری ہوتی ہیں۔

تجزیے کے مطابق ایسی رپورٹس عام طور پر اپنا مدعا بیان کرنے کے لے دوسری رپورٹس کا سہارا لے رہی ہوتی ہیں جو کہ خود کسی ثبوت سے عاری ہوتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ پورٹس اخباری خبروں اور سیاسی بیانوں کو اپنے مدعے کی بنیاد بناتی ہیں لیکن ان میں سے کوء بھی ان الزامات کی براہِ راست متاثرہ افراد یا ملزموں کے ذریعے تصدیق کرتی نظر نہیں آتی۔ ان رپورٹس میں پیش کیے گئے دعوے ایک ہی قسم کی باتوں کو بار بار دہراتے ہیں اور اپنے دلائل کو انہی غیر مصدقہ ذرائع کے ارد گردگھماتے نظر آتے ہیں۔ یہ اسٹڈی علما، وکلا، پولیس، اور ریاستِ پاکستان کے خلاف پھیلائے جانے والے ان خیالات کا بھی تجزیہ کرتی ہے جو ان رپورٹس میں پیش کیے جاتے ہیں۔

اسٹڈی کے مطابق اان خیالات کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کر کے پاکستان کی ریاست اور معاشرے کے ساتھ ساتھ اسلام کو بھی بدنام کرنے کے لیے باقاعدہ ایک بیانیے کی شکل دی گء ہے جبکہ اس اسٹڈی کے مطابق اس بیانیے کو پھیلانے میں بھارت سے تعلق رکھنے والے ہندو انتہا پسند گروہوں کا ہاتھ زیادہ نظر آتا ہے۔ علاوہ ازیں اس رپورٹ میں اقلیتوں کے اپنے بیانیے کو بھی جگہ دی گء ہے جس میں خصوصی طور پر دلت قابلِ ذکر ہیں۔ اس مطالعے کے مطابق ایک بہتر زندگی گزارنیکے خواہش کے علاوہ ذات پات کی تفریق، اپنی کمیونٹی کی حدتک محدود شادیاں، اور مردوں کی برتری پر مبنی معاشرہ کچھ ایسے معاشی اور معاشرتی عوامل ہیں جومذہبی تبدیلی کے فیصلوں پر اکثر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس مطالعے کے مطابق یہ کہنا کہ پاکستان میں ریاست اور علما غیر مسلموں کو مذہب کی تبدیلی پر مجبور کرتے ہیں سراسر غلط ہو گا کیونکہ ایسے عمل کے پیچھے پیچیدہ فطرتی عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔

اس مطالعے میں سِوِل سوسائیٹی اور زمہ دار شہریوں کو یہ ہدائت بھی کی گء ہے کہ وہ اس قسم کی جھوٹی افواہوں کو ہوا دینے سے اجتناب کریں کیونکہ بغیر شواہد کے یہ بیانیے نہ صرف ملک، قوم اور مذہب کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں بلکہ ان کی غیر مصدقہ تشہیر سے اقلیتوں کو درپیش حقیقی مسائل بھی پسِ پردہ چلے جاتے ہیں۔ ان تمام تفصِلات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ آء پی ایس اسٹڈی اینٹی کنورژن لا کے بارے میں اپنے تحفظات بھی پیش کرتی ہیاور یہ زور دیتی ہے کہ حقائق کی پوری جانچ پڑتال کے بغیر ایسا کوء قانون لاگو کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ مذہب کی جبری تبدیلی کے واقعات کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے بنیادی اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ دیگر عوامل کو بھی مدِ نظر رکھنے پر اصرار کرتی یہ اسٹڈی ایک ایسے وقت پر شائع کی گء ہے جاب پارلیمانی کمیٹی برائے مذہبی تبدیلی اس موضوع پر کام کر رہی ہے اور اس نے حال میں ہی سندھ میں اکثر متعلقہ افراد سے ملاقات بھی کی ہے۔ امید کے جاتی ہے کہ یہ مطالعہ ملک میں مذہبی تبدیلی پر جاری مباحث کو ایک نیا ، اہم اور حقیقت بسندانہ رخ دینے میں مددگار ثابت ہو گا۔