مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے 1989سے 95ہزار سے زائد کشمیری شہید کر دیے، رپورٹ


اسلام آ باد: اقوام متحدہ اپنے قیام کے 73کا ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود مسئلہ کشمیر حل نہیں کراسکا۔

 ہفتہ کو اقوام متحدہ کے عالمی دن پر جاری ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ عالمی ادارے نے کشمیر پر کئی قراردادیں پاس کی ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ کشمیریوں کو استصواب رائے کے ذریعے انکا ناقابل تنسیخ حق، حق خو د ارادیت دیا جائے گاتاہم وہ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود اپنی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کر اسکا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت نے بھی اقوام متحدہ کی قرار دادوں تسلیم کی تھیں اور وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کو خود اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گالیکن بعد میں وہ اپنے وعدوں سے مکر گیا۔ رپورٹ میں  مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں نے کشمیر میں اپنی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران جنوری 1989سے اب تک  95ہزار 7سو 6کشمیری شہید کر دیے جن میں سے 7ہزار 1سو 49افراد کو جعلی مقابلوں یا زیر حراست شہید کیا گیا۔

بھارتی فوجیوں نے پانچ اگست 2019سے جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسکا فوجی محاصرہ کر لیا ، 2سو 72بیگناہ کشمیری شہید کر دیے۔ رپورٹ  کے مطابق  اس عرصے کے دوران 1ہزار 5سو 39کشمیری زخمی کیے گئے جن میں زیادہ تر پیلٹ لگنے سے زخمی ہوئے۔  حریت رہنمائوں ، کارکنوں، نوجوانوں اور خواتین سمیت دو ہزار سے زائد کشمیر ی اس وقت غیر قانونی طور پر زیر حراست ہیں۔

مزید پڑھیں: کشمیری غیر قانونی بھارتی قبضے سے آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، مولوی بشیر احمد

زیر حراست لوگوں میں محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، محمد اشرف صحرائی ، مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی ، ڈاکٹر عبدالحمید فیاض، نعیم احمد خان، ایاز محمد اکبر، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، مولانا سرجان برکاتی ، فاروق احمد توحیدی، امیر حمزہ، محمد رفیق گنائی، محمدیوسف میر، مولانا مشتاق ویری، ناہیدہ نسرین، ، فہمیدہ صوفی، سید شاہد یوسف ، سید شکیل یوسف، ظہور احمد بٹ ، تاجر ظہور احمد وٹالی او صحافی آصف سلطان شامل ہیں۔  یہ لوگ مقبوضہ علاقے اور بھارت کی مختلف جیلوں میں نظر بند ہیں۔