پاکستان میں خلاف ضابطہ بھارتی سپورٹس چینل دکھائے جانے کا انکشاف


اسلام آباد (محمد اکرم عابد ) ایوان با لا کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات میں بھارتی سپورٹس چینل پاکستان میں خلاف ضابطہ دکھائے جانے کا انکشاف ہوا جب کہ کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کا مارکیٹنگ پلان مانگ لیا۔

 ۔سابقہ واضح ہدایت کے باوجود انتظامیہ مارکیٹنگ منصوبہ بندی پیش کرنے میں ناکام رہی ہے َ.کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پی ٹی وی سپورٹس سے پی ٹی وی بڑی آمدن حاصل کرتا ہے مگر انڈیا کا ایک سپورٹس چینل دیگر کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہا ہے اس کی نشریات پاکستان میں دکھائی جا رہی ہیں۔

پیمرا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ لینڈنگ رائٹس کے حوالے سے ہمارا ایک طریقہ کار ہے جب لائسنس دیتے ہیں تو وزارت داخلہ سے سیکورٹی کلرنس حاصل کیا جاتا ہے قائمہ کمیٹی نے معاملے کی انکوائری کر کے دوہفتو ںمیں رپورٹ طلب کرلی۔ پاکستان کا غلط نقشہ نشر کرنے کے حوالے سے سیکرٹری اطلاعات و نشریات نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیٹی کی ہدایت کے مطابق معاملے کی دوسری انکوائری کرائی ہے جس کی رپورٹ تیار ہو گئی ہے تاہم وزیرا طلاعات و نشریات نے ہدایت کی ہے کہ رپورٹ پہلے پی ٹی وی بورڈمیں پیش کی جائے۔ بورڈ ابھی موجود نہیں ہے اور ہائی کورٹ نے چھ ماہ کے اندر بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔

سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ معاملے کے حوالے سے مرحلہ وار سزائیں دینا مناسب نہیں ہے غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ ایم ڈی پی ٹی وی نے کمیٹی کو بتایا کہ اس معاملے کے حوالے سے پانچ لوگوں کو سزائیں دی تھیں دو کو فارغ کیا اور تین کو معطل کیا گیا۔ تین لوگوں نے فیصلہ صحیح نہیں کیا تھا اور دو لوگوں نے فیصلہ بھی صحیح نہیں کیا اور پراسس کو فالو نہیں کیا اس لئے فارغ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس قسم کی غلطی سے بچنے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں پراسس میں خامیوں کو بھی دور کیا جا رہا ہے اور سینئر لوگوں کو شامل کیا جا رہا ہے۔ ڈیٹا بیس بنا رہے ہیں اور اب انٹرنیٹ سے چیزیں بھی نہیں اٹھائی جائیں گی۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ یہ معاملہ کئی ماہ سے پارلیمنٹ میں اٹھایا گیا ہے حیران کن بات ہے کہ پی ٹی وی نے متعلقہ محکمہ جس کی ویب سائٹ پر نقشہ ابھی بھی موجود ہے ابھی تک معاملہ نہیں اٹھایا۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف بی آر کے ڈائریکٹر کے ساتھ رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا جس پر کمیٹی نے معاملہ ختم کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں ایف بی آر کو طلب کر لیا تا کہ معاملے کو کلیئر کیا جائے کہ غلط نقشہ ہٹایا جائے۔

ارکان نے یہ معاملہ بھی اٹھایا ہے کہ پی ٹی وی نے ایک پرائیویٹ کمپنی کے ذریعے ملازمین کی جانچ پڑتال کر کے ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور اب بھی 58سال کے 200سے 250ملازمین کو نکال دیا گیا ہے اور مزید لوگوں کو نکالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

ایم ڈی پی ٹی وی نے کہا کہ پی ٹی وی کے ایچ آر ادارے کی ری اسٹرکچر کی مشق کر رہے ہیں کہ کس کام کیلئے کون درکار ہو گا۔ ایک کمپنی ہائر کی گئی ہے جو ایک سال میں رپورٹ تیار کرے گی ۔ادارے کی بہتری کیلئے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ ایل پی آر پر کچھ ملازمین بھیجے گئے ہیں جب دو سال بعد ریٹائر ہونگے تو ان کے متعلقہ واجبات میں ادا کر دیئے جائیں گے۔

قائمہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ قرآن پاک کا ترجمہ نشر کیا جائے ۔. بچوں کے حقوق کے حوالے سے بھی تسلسل سے پیغامات نشر کئے جائیں۔سینیٹر انجینئر رخسانہ زبیری نے کہا کہ تصویری پیغام زیادہ ہونا چاہیے۔ کمیٹی اجلاس میں ریڈیو پاکستان کے کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کیے جانے کے معاملے کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پچھلے کئی برسوں سے ریڈیو پاکستان میں کنٹریکٹ پر ملازمین بھرتی کیے گئے ہر 90 دن کے بعد کنٹریکٹ کی تجدید کی جاتی تھی۔ ادارے کے پاس 2331 ریگولر ملازمین ہیں 4070پنشنرز ہیں اور ایک ہزار کے قریب کنٹریکٹ ملازمین ہیں۔ رواں سال ادرے کو ایک ارب کم بجٹ دیا گیا۔پنشن کی مد میں 40 ملین روپے کی کمی ہے۔ بے شمار ریڈیو اسٹیشن کے فون بھی کٹ چکے ہیں نئے ٹرانسمیٹر بھی نہیں خرید سکتے۔زیادہ تر کنٹریکٹ ملازمین سفارش پر بھرتی کیے گئے تھے اور چار ماہ سے ان کو تنخواہ بھی نہیں دی گئی۔

چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ ادارہ اپنے اخراجات کو کم کرے مگر کسی سے روزگار نہ چھینے۔ ریاستی نشریاتی اداروں کے اثاثوں کا موثر استعمال کیا جائے تاکہ آمدن میں اضافہ ہو ریڈیو پاکستا ن سے ایک بات پھر مارکیٹنگ پلان مانگ لیا گیا ہے گزشتہ اجلاس کی واضح ہدایت کے باوجود انتظامیہ مارکیٹنگ منصوبہ بندی پیش کرنے میں ناکام رہی َ.