سی پیک اتھارٹی کی قانونی حیثیت ختم، نیا بل لانے کی تیاری


اسلام آباد: پاکستان کی وفاقی حکومت پاک چین اقتصادی راہداری کیلئے قائم سی پیک اتھارٹی کی قانونی حیثیت ختم ہونے کے باعث نیا قانون لانے کی تیاری کررہی ہے۔۔

چیئرمین اور سی پیک اتھارٹی کے اختیارات میں کمی اور طریقہ ہائے کار میں تبدیلی کرتے ہوئے نیا قانونی بل تیار کیا گیا ہے جس کے تحت چیف ایگزیکٹو آفیسر سی پیک اتھارٹی کا عہدہ ختم کیا جارہا ہے اورسی پیک اتھارٹی وزارت منصوبہ بندی وترقی کی بجائے وزیراعظم کو رپورٹ کر ے گی۔

بل کے مطابق چیئرمین سی پیک اتھارٹی،ممبران، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور ریسرچرز کے اچھی نیت پر مبنی اقدامات کے خلاف نیب، ایف آئی اے یا کوئی تحقیقاتی ادارہ انکوائری نہیں کرسکے گا۔سی پیک اتھارٹی میں فیصلہ کن کردار کیلئے چیئرمین کے ووٹ کا اختیار ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اتھارٹی کا سی پیک بزنس کونسل قائم کرنے کااختیار ختم کرتے ہوئے بورڈ انویسٹمنٹ کو اختیاردینے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

نئے قانون کے مطابق سی پیک اتھارٹی کا آڈیٹرجنرل آف پاکستان آڈٹ کرے گا۔ سی پیک فنڈ وزارت خزانہ کی شرائط وضوابط کے مطابق قائم ہوگا جس کے تحت وزارت خزانہ اخراجات پرنظررکھے گی۔ کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز نے سی پیک اتھارٹی کے نئے بل کی منظوری دیدی ہے۔

موقرقومی اخبار میں شائع خبر میں کہا گیا ہے کہ موصول دستاویز کے مطابق 5اکتوبر 2019کو آرڈیننس کے ذریعے سی پیک اتھارٹی قائم کی تاکہ روایتی سرکاری نظام اور افسرشاہی کی رکاوٹوں سے بچا جاسکے۔

اکتیس مئی2020 کو آرڈیننس کی مدت ختم ہوئی تو حکومت نے قانونی گنجائش کے تحت سی پیک اتھارٹی کے قانون میں مزید 120دنوں کی توسیع حاصل کرلی۔ اس عرصے کے دوران لازم تھا کہ قومی اسمبلی سے سی پیک اتھارٹی کا قانون منظور کروایا جاتا۔ وفاقی حکومت سی پیک اتھارٹی کا قانون مقررہ مدت میں منظور نہ کرواسکی جس کے نتیجے میں سی پیک اتھارٹی تحلیل ہوگئی ہے۔

متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی جانب سے ڈرافٹ سی پیک اتھارٹی بل2020میں ترامیم کی تجویز دی گئی۔ترامیم کو وزیر اعظم کے سامنے غورکیلئے پیش کیا گیا۔وزیر اعظم کی جانب سے قانونی مسودے کو وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

مجوزہ ترامیم کو وزارت قانون کے سامنے جانچ پڑتال کیلئے پیش کیا گیا جس پر وزارت قانون کی جانب سے مجوزہ ترامیم کی پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے قومی اسمبلی میں زیر التوا بل کو واپس لے کر وفاقی کابینہ کی منظوری سے نیا بل متعارف کرانے کا مشورہ دیا گیا۔

نئے بل کے تحت سی پیک اتھارٹی کو منصوبوں کی سنٹرل ورکنگ ڈیویلپمنٹ پارٹی اور ایکنک سے منظوری حاصل کرنا ضروری نہیں ہو گا۔سی پیک اتھارٹی کو سی پیک سے منسلک کسی بھی ادارے یا شخص سے معلومات حاصل کرنے کا اختیا ر ہوگا۔سی پیک اتھارٹی کی جانب سے فراہم کردہ مدت کے اندر معلومات فراہم کرنا ضروری ہو گا۔

سی پیک اتھارٹی کی جانب سے وفاقی حکومت،صوبائی حکومت اور مقامی حکومت کے ماتحت کام کرنے والے دفاتر،ایجنسی سے معاونت حاصل کی جا سکے گی۔ اس مقصد کیلئے صوبوں کی جانب سے سی پیک اتھارٹی کی معاونت کیلئے نمائندہ مقرر کیا جائے گا۔سی پیک اتھارٹی سی پیک فریم ورک پر عملدر آمد کیلئے مسائل کو متعلقہ وزارتوں،ڈویڑن کے سامنے کرنے کا اختیار ہو گا۔

سی پیک آرڈیننس 2019کے تحت حاضر شدہ ممبرز کے اکثریتی فیصلے کی بنیاد پر فیصلہ اورچیئر پرسن اور 6ممبران کی جانب سے اجلاس کا کورم تشکیل دیا جاتا تھا تاہم سی پیک اتھارٹی بل2020کے تحت کل ممبران کی اکثریت کی جانب سے فیصلہ سازی کی جائے گی اورکل ممبران کی دو تہائی اکثریت کی جانب سے اجلاس کا کورم قائم کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا عاصم باجوہ دونوں سرکاری عہدوں سے فارغ ہوگئے؟

بورڈ آف انویسٹمنٹ کے نوٹیفکیشن کے ذریعے سی پیک بزنس کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔بزنس کونسل نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن آف چائنہ اور وزارت منصوبہ بندی پاکستان کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یاداشت کے مطابق اتھارٹی کو مقاصد کے حصول کیلئے تجاویز دے گی۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ بزنس کونسل کے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرے گا۔بزنس کونسل کا اجلاس وقتاًفوقتا ًبلایا جائے گا۔سی ای او کی جگہ چیئرپرسن اتھارٹی کا پرنسپل اکائونٹنگ افسرہو گا۔اتھارٹی کو سنگل لائن بجٹ فراہم کیا جائے گا۔

اتھارٹی کی جانب سے تیار کیے جانے والے بجٹ کو3 رکنی بجٹ کمیٹی کی جانب سے جائزہ لیا جائیگا۔بجٹ کمیٹی کے دو ارکان کو سی پیک اتھارٹی اور ایک رکن کو انتظامی اتھارٹی کی جانب سے نامزد کیا جائے گا۔سی پیک اتھارٹی سی پیک فنڈ قائم کر سکے گی۔سی پیک فنڈز کی شرائط و ضوابط کی منظوری فنانس ڈویڑن کی جانب سے دی جائے گی۔ذیلی شق 2کے تحت نامزد کردہ آڈیٹر کو تمام دستاویزات،اکاونٹس تک رسائی دی جائے گی۔آڈیٹر کی جانب سے سالانہ اور کوئی بھی سپیشل آڈٹ رپورٹ اتھارٹی کو پیش کی جائے گی۔

سی پیک اتھارٹی کی جانب سے حکومت کو آگاہ کرنے کے بعد آڈٹ رپورٹ پر ایکشن لیا جائے گا۔اتھارٹی کی جانب سے داخلی آڈٹ اور مالی انتظامات کیلئے طریقہ کار تجویز کیا جائے گا۔وزیراعظم کی جانب سے اتھارٹی کے مالی انتظامات کے حوالے سے وضاحت یا مزید تفصیلات طلب کی جا سکیں گی۔

سی پیک اتھارٹی کی ویب سائٹ پر سہ ماہی پیشرفت رپورٹ شائع کی جائے گی۔اتھارٹی کے مالی اختیارات مالی کنٹرول اور بجٹنگ کے نظام کی شرائط اورفنانس ڈویژن کی ہدایات کے مطابق تفویض کئے جائینگے۔سی پیک آرڈیننس 2019کے تحت جاری کیے جانے والے لائسنس،معاہدے ،احکامات جن پر عملدر آمد کیا جا چکا ہے سی پیک اتھارٹی بل2020 کے تحت مقررہ مدت تک قانونی تصور کیے جا ئینگے۔